بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں منعقد ہونے والے انڈیا اےآئی امپیکٹ سمٹ 2026 کے دوران گریٹر نوئیڈا کی نجی درسگاہ گلگوٹیاس یونیورسٹی ایک بڑے تنازعے میں گھر گئی، جب اس کے اسٹال پر پیش کیا گیا روبوٹک ڈاگ بعد میں چینی ساختہ نکلا۔
یہ 3 روزہ اے آئی سمٹ 17 سے 19 فروری تک جاری رہا، جس میں تقریباً 70 ہزار افراد نے شرکت کی اور اس ایونٹ میں عالمی ٹیک شخصیات بھی موجود تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاک انڈس اے آئی ویک منظم، جبکہ انڈیا اے آئی سمٹ تنازعات اور بد انتظامی کی نذر
واضح رہے کہ سمٹ کے دوران یونیورسٹی کی کمیونیکیشنز پروفیسر نے سرکاری نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے روبوٹ کو اوریئن کے نام سے متعارف کراتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ یونیورسٹی کے سینٹر آف ایکسیلنس کی تیار کردہ ایجاد ہے، جو کیمپس نگرانی اور دیگر خودکار کام انجام دیتا ہے۔ انہوں نے اسے مکمل طور پر خود مختار روبوٹ قرار دیا۔
تاہم ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی ٹیکنالوجی ماہرین اور صارفین نے فوری نشاندہی کی کہ یہ دراصل چینی کمپنی یونی ٹری، ہانگژو یوشو ٹیکنالوجی، کا تیار کردہ چار ٹانگوں والا روبوٹ یونی ٹری گو2 ہے، جو عالمی مارکیٹ میں تحقیق، تعلیم اور تجارتی استعمال کے لیے فروخت ہوتا ہے اور تقریباً 1,600 سے 3,000 امریکی ڈالر میں دستیاب ہے۔
Indian techies just disappointed themselves in front of the world.
Sam Altman must be laughing at us.
We just labelled ourselves hollow from the inside.
Sam might think this "world leader" title to India, is simply fluff.
Are we so fucked, that the true colours of our Tech… pic.twitter.com/ZBnuW17cuE
— vivan. (@VivanVatsa) June 8, 2023
یہ روبوٹ مصنوعی ذہانت کے الگورتھمز پر چلتا ہے اور رکاوٹوں سے بچنے، مشکل سطحوں پر چلنے، چیزوں پر چڑھنے اور مختلف ماحول میں حرکت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس میں فور ڈائمینشنل لیزر اسکینر، متعدد سینسرز، 12 طاقتور موٹرز، جدید پروسیسر اور طویل دورانیے کی بیٹری نصب ہوتی ہے، جو اسے مستحکم اور لچکدار بناتی ہے۔
تنازعہ بڑھنے پر بھارتی وزارت الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی نے 18 فروری کو یونیورسٹی کو فوری طور پر اپنا اسٹال خالی کرنے کا حکم دیتے ہوئے واضح کیا کہ سمٹ میں صرف حقیقی اور اصل کام ہی پیش کیا جانا چاہیے۔
مزید پڑھیں: بدانتظامی اور اسکینڈلز سے دوچار بھارتی اے آئی سمٹ کو ایک اور دھچکا، بل گیٹس کی شرکت منسوخ
صرف یہی نہیں بلکہ نمائش میں دکھایا گیا ایک ’ڈرون ساکر ایرینا‘ بھی جنوبی کوریا کی تجارتی مصنوعات سے مشابہ قرار پایا، جس سے مزید سوالات اٹھے۔
بعد ازاں یونیورسٹی نے وضاحتی بیان میں معافی مانگتے ہوئے کہا کہ روبوٹ طلبا کی تحقیق اور تدریسی مقاصد کے لیے خریدا گیا تھا اور اسے اپنی ایجاد کے طور پر پیش کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔
مزید پڑھیں: چینی روبوٹ کو اپنی ایجاد ظاہر کرنے پر بھارتی یونیورسٹی کو اے آئی امپیکٹ سمٹ سے باہر کر دیا گیا
انتظامیہ نے غلط معلومات اور جلد بازی میں دیے گئے بیان کو واقعے کی وجہ قرار دیا، تاہم ابتدائی دعوے کی وضاحت نہیں کی گئی۔ یونیورسٹی نے یہ بھی بتایا کہ وہ اے آئی شعبے میں تقریباً 350 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کر چکی ہے، مگر حالیہ برسوں میں اس کے نام کوئی پیٹنٹ درج نہیں۔
واضح رہے کہ واقعے کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ہزاروں پوسٹس سامنے آئیں، جن میں صارفین نے اسے بھارت کی عالمی سطح پر شرمندگی اور جعلی جدت کاری قرار دیا، جبکہ بعض
Content Creator @narendramodi staged a grand spectacle for the perfect reel, lights, slogans, choreographed applause which was sold by the Godi Media as the “biggest AI summit of the Global South.”
Reality? Chaos. Long queues. Delegates stranded. No water or basic facilities.… pic.twitter.com/4aEVVD2y6k
— All India Trinamool Congress (@AITCofficial) February 17, 2026
سیاسی حلقوں نے بھی حکومت پر تنقید کی۔ میمز میں اسے ’درآمدی اختراع‘ اور ’آن لائن خریدی گئی ٹیکنالوجی‘ جیسے القابات سے بھی نوازا گیا۔
یاد رہے کہ چینی کمپنی یونی ٹری روبوٹکس کا ہیڈکوارٹر ہانگژو میں واقع ہے، کمپنی کے بانی وانگ زنگ زنگ نے طالبعلمی کے دوران شنگھائی یونیورسٹی میں پہلا 4 ٹانگوں والا روبوٹ تیار کیا تھا، بعد ازاں 2016 میں کمپنی قائم ہوئی اور اس نے مختلف ماڈلز متعارف کرائے، جن میں 2021 کا گو ون اور 2023 کا گو2 شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: 14 سالہ بچے نے دل کی بیماری کا پتا لگانے والی اے آئی ایپ تیار کرلی
ماہرین کے مطابق یہ واقعہ بھارت کے تعلیمی اور ٹیک اداروں کے لیے اہم سبق ہے کہ عالمی سطح پر اعتماد حاصل کرنے کے لیے اصل تحقیق، شفافیت اور حقیقی اختراع ناگزیر ہے، کیونکہ ایسے تنازعات ملک کی اے آئی ساکھ اور سرمایہ کاری کے امکانات دونوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔
چینی کمپنی یونی ٹری روبوٹکس اس وقت دنیا میں 4 ٹانگوں والے روبوٹس بنانے والی نمایاں اور تیزی سے ابھرتی ہوئی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے، ماہرین کے مطابق کمپنی نے نسبتاً کم قیمت میں جدید اور قابل استعمال روبوٹ متعارف کرا کر عالمی روبوٹکس مارکیٹ میں اپنی مضبوط جگہ بنائی ہے۔
خاص طور پر تحقیقاتی اداروں، یونیورسٹیوں، انجینئرنگ لیبارٹریوں اور ٹیک اسٹارٹ اپس میں اس کے روبوٹس کی مانگ مسلسل بڑھ رہی ہے، جس کی وجہ سے اسے اس شعبے کا ایک اہم کمرشل کھلاڑی سمجھا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: اے آئی کی تیز رفتار پیش قدمی سے کونسی ملازمتیں خطرے میں؟ بل گیٹس نے بتا دیا
کمپنی کا ماڈل یونی ٹری گو 2 دنیا کے کئی ممالک میں استعمال ہو رہا ہے اور اسے خاص طور پر تعلیمی و تحقیقاتی مقاصد کے لیے خریدا جاتا ہے، امریکا میں یہ روبوٹ یونیورسٹی ریسرچ، مصنوعی ذہانت کے تجربات اور روبوٹکس اسٹارٹ اپس میں استعمال ہو رہا ہے۔
دوسری جانب چین میں اسے تعلیمی اداروں، صنعتی تحقیق اور ٹیکنالوجی ڈیمونسٹریشن میں بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔
یورپ کے متعدد ممالک، مثلاً جرمنی، فرانس اور اٹلی میں بھی گو2 روبوٹ انجینئرنگ تعلیم، خودکار نیویگیشن ٹیسٹنگ اور روبوٹکس ریسرچ کے لیے مقبول ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ روبوٹ عام گھریلو استعمال کے بجائے زیادہ تر سائنسی تحقیق، تکنیکی تربیت اور جدید اے آئیہ سسٹمز کی آزمائش کے لیے خریدا جاتا ہے، اسی وجہ سے دنیا بھر کی لیبارٹریوں میں اس کی موجودگی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔














