چین کے مینوفیکچرنگ شعبے میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کو اپنانے کا عمل اب بڑے پیمانے پر پہنچ گیا ہے، اور زیادہ تر بڑے صنعتی اداروں نے اہم ڈیجیٹل اپگریڈ مکمل کر لیے ہیں، ایک تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹیکنالوجی میں چین کی برق رفتار پیشرفت، فروری میں شروع ہونے والا چینی ’سالِ گھوڑا‘ اور اس کی اہمیت
چائنا اکیڈمی آف انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کی رپورٹ کے مطابق دسمبر 2025 تک صنعتی شعبے کے 89.6 فیصد بڑے اداروں نے ڈیجیٹل ریٹروفٹنگ کرائی۔ خاص طور پر گاڑی سازی، شپ بلڈنگ اور الیکٹرانک انفارمیشن مینوفیکچرنگ کے شعبے میں ڈیجیٹل اپگریڈ کی شرح بالترتیب 94.4 فیصد، 94.2 فیصد اور 93.9 فیصد رہی۔

رپورٹ میں انجینئر جیاو بی بی کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ڈیجیٹل تبدیلی اب پیداوار کی کارکردگی، صنعتی لچک اور ماحول دوست پیداوار میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ اپگریڈ صرف پائلٹ منصوبوں تک محدود نہیں، بلکہ ملک کے صنعتی شعبے میں بڑے پیمانے پر نافذ کیے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان کی چینی کمپنیوں کو ملک میں ٹیکنالوجی پارکس بنانے کی دعوت
رپورٹ میں مزید سفارش کی گئی ہے کہ چین کو ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے نفاذ کو تیز کرنا چاہیے، اور اس عمل کو کمپنیوں کی عملی ضروریات اور صنعتی اپگریڈ کے وسیع تر اہداف سے ہم آہنگ کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی بنیادی ڈھانچے، معیارات کی تیاری اور دیگر بنیادی شعبوں میں مضبوط معاونت پر زور دیا گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ڈیجیٹل تبدیلی کی لہر سے پیداوار کی کارکردگی میں اضافہ ہوگا، صنعتی مسابقت مضبوط ہوگی اور سبز، ماحول دوست مینوفیکچرنگ کے فروغ میں مدد ملے گی، جس سے چین ذہین صنعتی ترقی کے شعبے میں عالمی سطح پر آگے رہے گا۔













