علمائے کرام نے سوشل میڈیا پر ہونے والی ٹرولنگ، گالم گلوچ، فحش زبان اور ویوز کے لیے جھوٹے کیپشنز استعمال کرنے کو شرعی طور پر ناجائز قرار دیا ہے۔
یہ بات نجی ٹی وی شو کی رمضان ٹرانسمیشن میں اینکر وسیم بادامی کے سوال کے جواب میں سامنے آئی جنہوں نے فقہی نقطہ نظر سے ٹرولنگ کی اجازت کے بارے میں سوال کیا۔ اینکر نے کہا کہ پہلے اسے گالی دینا کہا جاتا تھا لیکن اب اس عمل کو ’ٹرولنگ‘ کا نام دے دیا گیا ہے اس بارے میں اسلام کیا کہتا ہے؟
View this post on Instagram
اس پر علمائے کرام کا کہنا تھا کہ عنوان بدلنے سے حقیقت نہیں بدل جاتی۔ جو شخص گالم گلوچ کرتا ہے اور فحش زبان استعمال کرتا ہے اس کے اثرات معاشرے پر بھی پڑتے ہیں اور یہ عمل کسی صورت جائز نہیں ہو سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: ’وہ آدھے ہندوستان کو گرفتار کرلے گی‘، پاکستانیوں کی جانب سے مودی سرکار کی ٹرولنگ
میزبان کے سوال پر کہ مس لیڈنگ کیپشنز جو زیادہ ویوز حاصل کرنے کے لیے لگائی جاتی ہیں اس کے بارے میں کیا رائے ہے؟ علمائے کرام نے کہا کہ جھوٹ پر مبنی کیپشنز لگانا اور لوگوں کو دھوکہ دینا ذہنی اذیت کا سبب بنتا ہے۔ جب کوئی شخص کسی ویڈیو کو کلک کرتا ہے اور اسے توقع کے مطابق مواد نہیں ملتا تو یہ شدید ناراضگی اور تکلیف پیدا کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسا عمل نہ صرف غیر مناسب ہے بلکہ گناہ بھی ہے اور اس کی وجہ سے متاثر ہونے والے شخص پر بھی اثرات مرتب ہوتے ہیں جس کا گناہ بھی اس شخص کے اعمال میں شامل ہوگا۔














