ایران کی پاسداران انقلاب فورس نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے حالیہ حملوں کے بعد آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند کر دی گئی ہے اور اس وقت کسی بھی بحری جہاز کو اس راستے سے گزرنے کی اجازت نہیں ہے۔
pic.twitter.com/gemSXTDJMz if Iran closes the Strait of Hormuz…
— Russian Market (@runews) February 28, 2026
آبنائے ہرمز سے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور ایران سے روزانہ تقریباً 21 ملین بیرل تیل دیگر ممالک، بشمول پاکستان، چین، جاپان، جنوبی کوریا، یورپ اور شمالی امریکا، پہنچایا جاتا ہے۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی تیل کی ترسیل کا تقریباً 20 فیصد حصہ اور گیس کی ترسیل کا 30 فیصد حصہ فراہم کرتی ہے۔ سال بھر میں یہاں سے تقریباً 33 ہزار بحری جہاز گزرتے ہیں۔
BREAKING & UNUSUAL:
Iran has begun the process of closing the Strait of Hormuz to all vessels.
(Iranian Tasnim News Agency) pic.twitter.com/3Ypyk4d0Mo
— China Now (@ChinaNow24) February 28, 2026
آبنائے ہرمز مشرقِ وسطیٰ کے خام تیل پیدا کرنے والے ممالک کو ایشیا، یورپ، شمالی امریکا اور دیگر دنیا سے جوڑتی ہے۔ 33 کلومیٹر چوڑی اس سمندری پٹی میں دو شپنگ لینز ہیں، ہر لین کی چوڑائی 3 کلومیٹر ہے، جہاں سے بڑے آئل ٹینکرز گزرتے ہیں۔ آبنائے ہرمز کے ایک طرف خلیج فارس اور دوسری طرف خلیج عمان ہے، جس میں ایران، عراق، کویت، سعودی عرب، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات اور عمان شامل ہیں۔

چین اپنی ضروریات کے لیے خلیج سے اپنا آدھا تیل منگواتا ہے، جبکہ جاپان 95 فیصد اور جنوبی کوریا 71 فیصد تیل اسی راستے سے درآمد کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، یہ گزرگاہ خلیجی ممالک کو گاڑیاں، الیکٹرانک سامان اور دیگر مصنوعات بھی پہنچانے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
ایرانی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں 30 ہزار ٹن پیٹرو کیمیکل لے جانے والے آئل ٹینکر کو قبضے میں لے لیا۔ برطانوی ادارے یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کے مطابق، خلیج میں کام کرنے والے متعدد جہازوں کو آبنائے ہرمز کی بندش کے متعلق پیغامات موصول ہوئے ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق، امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ایران کی تمام جامعات تاحکم ثانی بند کر دی گئی ہیں۔
یہ قدم عالمی تیل کی ترسیل، بین الاقوامی تجارت اور خطے میں سیکیورٹی صورتحال پر شدید اثر ڈال سکتا ہے، جبکہ خطے کے دیگر ممالک اور عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافے کا خدشہ بھی پیدا ہو گیا ہے۔














