بنگلہ دیش کے امورِ خارجہ کے مشیر ڈاکٹر خلیل الرحمان نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ باہمی تجارتی معاہدے کے بارے میں حکمراں اور اپوزیشن جماعتوں کی قیادت کو 12 فروری کے قومی انتخابات سے قبل ہی آگاہ کر دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کیخلاف ون ڈے سیریز: پاکستانی اسکواڈ کا اعلان، بابر اعظم اور صائم ایوب ڈراپ
ڈھاکا میں وزارتِ خارجہ میں جنوبی و وسطی ایشیا کے لیے امریکی معاون وزیر خارجہ پال کپور سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ حکومت نے ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں بی این پی اور جماعت اسلامی کو معاہدے پر بریفنگ دی اور انتخابات سے قبل ان کی رضامندی حاصل کی۔
ڈاکٹر خلیل الرحمان نے اس تنقید کو مسترد کیا کہ نگران حکومت نے انتخابات سے چند روز قبل جلد بازی میں معاہدہ طے کیا۔ ان کے مطابق امریکا کے ساتھ تجارتی انتظامات پر بات چیت فروری 2025 میں شروع ہوئی، اپریل سے جولائی کے درمیان مذاکرات جاری رہے اور 31 جولائی کو معاہدہ حتمی شکل اختیار کر گیا۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ معاہدہ حکومت کی “بنگلہ دیش فرسٹ” پالیسی سے متصادم نہیں اور نہ ہی ملک کو کسی نقصان میں ڈالتا ہے۔
مزید پڑھیے: سرکاری ملازمین ہر صبح 40 منٹ دفتر میں گزاریں، بنگلہ دیش میں ملازمین کو ہدایت
ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ مکمل طور پر ہمارے قومی مفاد کے مطابق ہے۔ اگر کبھی ہمیں محسوس ہوا کہ یہ بنگلہ دیش کے حق میں نہیں جا رہا تو مذاکرات کے ذریعے اس پر نظرثانی کی جا سکتی ہے۔
معاہدے کے تحت بنگلہ دیش آئندہ 15 برسوں میں امریکا سے توانائی سمیت تقریباً 22 ارب ڈالر مالیت کی اشیا خریدنے کا پابند ہوگا۔
مشیر خارجہ نے دعویٰ کیا کہ بنگلہ دیش نے خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں بہتر شرائط حاصل کی ہیں۔ ان کے مطابق بھارت نے 5 سال میں 18 فیصد فائدے کے بدلے 500 ارب ڈالر کی خریداری کا وعدہ کیا، جبکہ بنگلہ دیش کو اپنے معاہدے میں 19 فیصد فائدہ حاصل ہوا۔
انہوں نے واضح کیا کہ معاہدے میں شمولیت اور علیحدگی دونوں کی شقیں موجود ہیں اور یہ باضابطہ نوٹیفکیشن کے بعد ہی مؤثر ہوگا۔
ڈاکٹر خلیل الرحمان نے کہا کہ ہم 60 روزہ نوٹس دے کر معاہدے سے دستبردار ہو سکتے ہیں، اس لیے بنگلہ دیش کو کسی خطرناک صورتِ حال میں نہیں ڈالا گیا۔
ملاقات کے دوران مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدگی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ مشیر خارجہ کے مطابق جاری بحران کے باعث دو بنگلہ دیشی شہری جاں بحق جبکہ سات زخمی ہو چکے ہیں۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش اسٹاک مارکیٹ میں تیزی، ایران کشیدگی کے بعد سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر تنازع مزید طول پکڑتا ہے تو بنگلہ دیش پر اس کے معاشی اور انسانی اثرات بڑھ سکتے ہیں، اور امریکا پر زور دیا کہ وہ مسئلے کے حل کے لیے سفارتی کوششیں تیز کرے۔














