ایرانی بحری جنگی جہاز پر امریکی حملہ، بھارت کی متضاد پالیسی اور بحرِ ہند میں اس کے کردار پر سوالات

جمعرات 5 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

حال ہی میں سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق، امریکی آبدوز نے سری لنکا کے قریب ایرانی جنگی جہاز IRIS Dena کو نشانہ بنایا اور ڈبو دیا، جس میں 80 سے زائد ایرانی اہلکار ہلاک ہوئے۔ جہاز نے چند روز قبل ہی بھارت کے میزبان مقام پر منعقدہ Milan 2026 نیول مشق میں حصہ لیا تھا۔ واقعے کے بعد بھارت کی خاموشی اور متضاد پالیسی نے خطے میں اس کے کردار اور بحرِ ہند میں اثر و رسوخ کے بارے میں سوالات پیدا کر دیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا مشرق وسطیٰ میں بحران کیسے پیدا کرتا آیا ہے؟

ماہرین کے مطابق بھارت نے ایران کے جہاز کو میلن 2026 میں مہمان کے طور پر خوش آمدید کہا لیکن جب وہ بحرِ ہند میں حملے کا شکار ہوا، تو نئی دہلی نے کوئی واضح ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ اس سے خطے میں یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ بھارت کی اثرورسوخ کی حدود صرف بڑی طاقتوں کی سیاست تک محدود ہیں۔

نیوی تعلقات کے تجزیے کے مطابق بھارت ایک طرف امریکا کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت کو فروغ دے رہا ہے، تو دوسری طرف تہران کے ساتھ تمدنی دوستی قائم رکھنا چاہتا ہے۔ تاہم عملی طور پر یہ توازن بھارت کی محض سنجیدہ خاموشی کے مترادف نظر آتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران کیخلاف بھارتی مخبری کے بعد ایرانی جہاز پر آبدوز حملہ، 101 لاپتا، امدادی کارروائیاں جاری

ایران کے نقطہ نظر سے صورتحال سخت ہے۔ ایک جہاز جو بھارت میں خوش آمدید کہا گیا، چند دن بعد ہی ڈوب گیا، اور بھارت نے بحرِ ہند میں اپنے ’اثر کے دائرے‘ کے اندر ہونے والے واقعے پر خاموشی اختیار کی۔ امریکی نقطہ نظر سے بھی یہ واضح ہے کہ بحرِ ہند میں کارروائیاں بغیر کسی سنگین سفارتی ردعمل کے کی جا سکتی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp