حال ہی میں سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق، امریکی آبدوز نے سری لنکا کے قریب ایرانی جنگی جہاز IRIS Dena کو نشانہ بنایا اور ڈبو دیا، جس میں 80 سے زائد ایرانی اہلکار ہلاک ہوئے۔ جہاز نے چند روز قبل ہی بھارت کے میزبان مقام پر منعقدہ Milan 2026 نیول مشق میں حصہ لیا تھا۔ واقعے کے بعد بھارت کی خاموشی اور متضاد پالیسی نے خطے میں اس کے کردار اور بحرِ ہند میں اثر و رسوخ کے بارے میں سوالات پیدا کر دیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا مشرق وسطیٰ میں بحران کیسے پیدا کرتا آیا ہے؟
ماہرین کے مطابق بھارت نے ایران کے جہاز کو میلن 2026 میں مہمان کے طور پر خوش آمدید کہا لیکن جب وہ بحرِ ہند میں حملے کا شکار ہوا، تو نئی دہلی نے کوئی واضح ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ اس سے خطے میں یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ بھارت کی اثرورسوخ کی حدود صرف بڑی طاقتوں کی سیاست تک محدود ہیں۔
🚨 JUST IN: A submarine just attacked an Iranian ship off Sri Lanka’s coast.
101 people missing. 78 injured.
Sri Lanka. The Indian Ocean. This war just left the Middle East.
China and Russia are already providing Iran satellite intelligence. US bases destroyed. India now… pic.twitter.com/Fs09um5dKX
— Brian Allen (@allenanalysis) March 4, 2026
نیوی تعلقات کے تجزیے کے مطابق بھارت ایک طرف امریکا کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت کو فروغ دے رہا ہے، تو دوسری طرف تہران کے ساتھ تمدنی دوستی قائم رکھنا چاہتا ہے۔ تاہم عملی طور پر یہ توازن بھارت کی محض سنجیدہ خاموشی کے مترادف نظر آتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران کیخلاف بھارتی مخبری کے بعد ایرانی جہاز پر آبدوز حملہ، 101 لاپتا، امدادی کارروائیاں جاری
ایران کے نقطہ نظر سے صورتحال سخت ہے۔ ایک جہاز جو بھارت میں خوش آمدید کہا گیا، چند دن بعد ہی ڈوب گیا، اور بھارت نے بحرِ ہند میں اپنے ’اثر کے دائرے‘ کے اندر ہونے والے واقعے پر خاموشی اختیار کی۔ امریکی نقطہ نظر سے بھی یہ واضح ہے کہ بحرِ ہند میں کارروائیاں بغیر کسی سنگین سفارتی ردعمل کے کی جا سکتی ہیں۔













