امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ روس مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کے مقامات سے متعلق خفیہ معلومات ایران کو فراہم کر رہا ہے، جس سے ایران کو خطے میں امریکی جنگی جہازوں، ریڈار سسٹمز اور مواصلاتی نیٹ ورکس کی نشاندہی میں مدد مل سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران کے اتحادی چین اور روس اب تک کیوں خاموش ہیں؟
رپورٹ کے مطابق یہ معلومات روسی سیٹلائٹس اور دیگر انٹیلی جنس ذرائع سے حاصل کی جا رہی ہیں، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بات کے شواہد موجود نہیں کہ ماسکو ایران کے میزائل یا ڈرون حملوں کی براہِ راست رہنمائی کر رہا ہے۔
کہا جا رہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف فضائی کارروائیوں کے بعد تہران نے خطے میں امریکی اڈوں اور دیگر اہداف کو نشانہ بنانا شروع کیا ہے، جس کے تناظر میں روسی معلومات ایران کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہیں۔

ادھر وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے روسی تعاون سے متعلق سوال پر کہا کہ ایران کی میزائل جوابی کارروائیاں بتدریج کمزور ہو رہی ہیں اور اس کی بحریہ اور عسکری پیداواری صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران پر حملوں کے باعث تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل سے متجاوز
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک انٹرویو میں تصدیق کی کہ روس اور چین ایران کی سیاسی اور دیگر شعبوں میں مدد کر رہے ہیں، تاہم انہوں نے جاری جنگ کے دوران اس تعاون کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔













