حکومت نے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر اضافے کے بعد خاموشی سے مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ کردیا ہے۔
حکام کے مطابق آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے تحت مٹی کے تیل کی قیمت میں 130 روپے 8 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد نئی قیمت 318 روپے 81 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔ یہ اضافہ 7 مارچ سے نافذ العمل ہوگیا ہے۔ اس سے قبل یکم مارچ کو مٹی کے تیل کی قیمت 188 روپے 73 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیے: پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ کن شعبوں کو سب سے زیادہ متاثر کرے گا؟
مٹی کا تیل عموماً دور دراز علاقوں میں رہنے والے گھروں میں استعمال ہوتا ہے جہاں مائع پیٹرولیم گیس کے سلنڈرز تک رسائی محدود ہوتی ہے۔ پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کے مقابلے میں مٹی کے تیل کی طلب کم ہے، جہاں پیٹرول اور ڈیزل کی ماہانہ فروخت تقریباً 7 سے 8 لاکھ ٹن ہے جبکہ مٹی کے تیل کی ماہانہ طلب تقریباً 10 ہزار ٹن کے قریب ہے۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب ایک روز قبل حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کیا تھا، حالانکہ اس سے چند گھنٹے پہلے شہباز شریف اور محمد اورنگزیب نے قوم کو یقین دلایا تھا کہ ملک میں پیٹرولیم ذخائر کافی ہیں اور صورتحال قابو میں ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے بعد اہم مشاورت، وزیراعظم کی نواز شریف سے ملاقات
اسی دوران حکومت نے ممکنہ ایندھن بحران کے پیش نظر گھروں سے کام کرنے اور فاصلاتی تعلیم سے متعلق قومی ایکشن پلان کو مؤخر کرتے ہوئے کم از کم ایک ہفتے تک معمول کی سرگرمیاں جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔














