بنگلہ دیش میں حالیہ تیل کے بحران کے باعث حکومت نے گاڑیوں کے لیے روزانہ فیول خریدنے کی حد مقرر کر دی ہے۔
اس فیصلے کا مقصد ایندھن کی دستیابی کو برقرار رکھنا اور ذخیرہ اندوزی کو روکنا بتایا جارہا ہے۔
حکومتی فیصلے کے مطابق مختلف اقسام کی گاڑیوں کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کی یومیہ مقدار مقرر کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران جنگ کے باعث عالمی منڈی میں ہلچل، خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر
موٹر سائیکل کو روزانہ زیادہ سے زیادہ 2 لیٹر پیٹرول یا آکٹین خریدنے کی اجازت ہوگی جبکہ کار کے لیے یہ حد 10 لیٹر مقرر کی گئی ہے۔
اسی طرح مائیکرو بس، جیپ اور پک اپ گاڑیوں کو روزانہ 20 سے 25 لیٹر پیٹرول یا آکٹین فراہم کیا جائے گا۔
ڈیزل استعمال کرنے والی پک اپ اور مقامی بسوں کے لیے روزانہ 70 سے 80 لیٹر ڈیزل کی حد مقرر کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: توانائی کا ممکنہ عالمی بحران اور اس سے بچت کی صورت
طویل فاصلے کی بسوں، ٹرکوں، ٹینکرز اور کنٹینر ٹرکوں کے لیے روزانہ 200 سے 220 لیٹر ڈیزل کی اجازت دی گئی ہے۔
حکام کے مطابق یہ اقدامات تیل کی قلت کے دوران ایندھن کی منصفانہ تقسیم یقینی بنانے کے لیے کیے گئے ہیں تاکہ ٹرانسپورٹ نظام اور ضروری خدمات متاثر نہ ہوں۔
حکومت نے پیٹرول پمپس کو ہدایت کی ہے کہ وہ مقررہ حد کے مطابق ہی ایندھن فراہم کریں۔














