سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ ملتان بینچ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے درخواست گزار کی خارج شدہ اپیل کو دوبارہ بحال کر دیا ہے۔
جسٹس شاہد بلال حسن نے تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے واضح کیا کہ محض تکنیکی بنیادوں پر کسی سائل کے لیے انصاف کے دروازے بند نہیں کیے جا سکتے۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ اگر کیس باقاعدہ سماعت کے لیے مقرر نہ ہو تو وکیل کی غیر حاضری کی وجہ سے اپیل خارج نہیں کی جا سکتی۔
یہ بھی پڑھیں: شک کا فائدہ ملزم کو، سپریم کورٹ نے باپ کی سزائے موت کالعدم قرار دے دی
ریکارڈ کے مطابق جس دن کیس خارج ہوا، اس دن عدالت صرف نوٹس بھیجنے کی کارروائی کر رہی تھی۔
عدالتِ عظمیٰ نے درخواست گزار کی غیر تسلی بخش رویے اور دوسرے فریق کو لاحق مشکلات کے ازالے کے لیے درخواست گزار پر 50 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔
جرمانے کی یہ رقم جس کی رقم پہلی سماعت پر دوسرے فریق کو لازمی ادا کرنا ہوگی۔
سپریم کورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس نوعیت کے کیسز میں اپیل بحالی کی مدت 30 دن نہیں بلکہ 3 سال ہوگی۔
مزید پڑھیں: اصلاحی نظرثانی کے نام پر سپریم کورٹ کے فیصلے دوبارہ نہیں کھولے جا سکتے، آئینی عدالت
عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کو ہدایت دی کہ وہ ایک ماہ کے اندر اس کیس کا میرٹ پر دوبارہ فیصلہ کرے۔
جسٹس شاہد بلال حسن نے فیصلہ میں کہا کہ عدالت کی اپنی کارروائی یا غلطی کا خمیازہ کسی بھی شہری کو نہیں بھگتنا چاہیے۔
لاہور ہائیکورٹ نے درخواست گزار اور وکیل کی غیر موجودگی پر اپیل کو عدم پیروی میں خارج کر دیا تھا، جسے اب عدالتِ عالیہ نے درست قرار دیا ہے۔














