فیکٹ چیک: پاکستان اور آئی ایس آئی پر الزامات، دی ڈپلومیٹ کی رپورٹ میں حقائق کی بجائے پراپیگنڈہ

پیر 9 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دی ڈپلومیٹ میں 6 مارچ 2026 کو شائع ہونے والی ایک انٹرویو نما رپورٹ میں افغان تجزیہ کار اجمل سہیل کے حوالے سے پاکستان، آئی ایس آئی، داعش خراسان اور چین سے متعلق سنگین دعوے کیے گئے ہیں۔ خود رپورٹ کی نوعیت خبر سے زیادہ ایک انٹرویو اور رائے پر مبنی کمنٹری کی ہے، جس میں بنیادی طور پر ایک ہی ماہر کے دعووں کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔ یہی پہلا اہم نکتہ ہے، کیونکہ اس نوعیت کے حساس الزامات میں آزاد شواہد، سرکاری دستاویزات یا قابل تصدیق مواد ناگزیر ہوتے ہیں۔

ایک پیچیدہ خطہ، مگر سادہ الزام تراشی

افغانستان میں 2021 کے بعد کی سیکیورٹی صورتحال انتہائی پیچیدہ، منتشر اور کثیر الجہتی ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس بھی اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ افغانستان میں متعدد شدت پسند گروہ سرگرم ہیں اور سرحدی سلامتی کا بحران کئی سطحوں پر موجود ہے۔ ایسے ماحول میں کسی ایک واقعے یا غیر مصدقہ دعوے سے یہ نتیجہ نکال لینا کہ پاکستان بیک وقت مختلف گروہوں کو کنٹرول کررہا ہے، چین کو بھی نشانہ بنارہا ہے اور پورے خطے کے توازن کو خفیہ طور پر چلا رہا ہے، ایک بڑا تجزیاتی جست ہے جس کے لیے کہیں زیادہ مضبوط ثبوت درکار ہوتے ہیں۔

مبینہ اسلحہ کھیپ، دعویٰ بہت بڑا مگر ثبوت غیر واضح

رپورٹ میں یہ تاثر دیا گیا کہ 21 فروری کو پاکستان سے افغانستان جانے والی اسلحے کی ایک کھیپ پکڑی گئی جو واخان کوریڈور میں سرگرم گروہوں تک پہنچنی تھی۔ تاہم اس الزام کے حق میں نہ کوئی آزاد بین الاقوامی تصدیق پیش کی گئی، نہ کسی غیر جانبدار ادارے کی فرانزک یا تفتیشی رپورٹ سامنے آئی اور نہ ہی ایسا دستاویزی مواد دکھایا گیا جس سے یہ ثابت ہو کہ اس مبینہ کھیپ کے پیچھے واقعی پاکستانی ریاستی ادارے تھے۔ ایسے دعوے جب ثبوت کے بجائے محض خفیہ ذرائع یا ایک تجزیہ کار کے بیانیے پر کھڑے ہوں تو انہیں حتمی حقیقت کے طور پر پیش کرنا صحافتی احتیاط کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔

فراہم کردہ نیریٹو کے مطابق، مبینہ طور پر برآمد ہونے والے ہتھیاروں میں زیادہ تر شارٹ رینج سب مشین گنز اور پستول شامل تھے، جو عموماً سیکیورٹی فورسز یا محدود دفاعی استعمال سے جوڑے جاتے ہیں، جبکہ خطے میں سرگرم شدت پسند تنظیمیں روایتی طور پر اسالٹ رائفلز، راکٹ پروپلڈ گرینیڈز، دھماکا خیز مواد اور آئی ای ڈیز پر زیادہ انحصار کرتی رہی ہیں۔ اس لیے اس دعوے کو بھی ازسرنو جانچنے کی ضرورت ہے کہ ہر اسلحہ برآمدگی لازماً کسی ریاستی سرپرستی میں چلنے والی دہشتگرد سپلائی لائن ہی ثابت کرتی ہے۔

کیا پاکستان واقعی چین کے مفادات کے خلاف جا سکتا ہے؟

رپورٹ کا ایک اور نمایاں دعویٰ یہ ہے کہ پاکستان مبینہ طور پر افغانستان میں چینی سرمایہ کاری کو نقصان پہنچا کر بیجنگ پر اپنا جغرافیائی دباؤ برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ یہ دلیل اپنے اندر ہی کئی تضادات رکھتی ہے۔ پاکستان کی طویل المدتی معاشی حکمت عملی چین پاکستان اقتصادی راہداری، علاقائی رابطہ کاری اور چین کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری سے جڑی ہوئی ہے۔ پاکستان کی سرکاری پالیسی میں بھی بارہا افغانستان کے پرامن، مستحکم اور علاقائی طور پر منسلک ہونے کی بات کی گئی ہے، نہ کہ اسے چینی مفادات کے خلاف میدان بنانے کی۔

یہ بھی قابل توجہ ہے کہ پاکستانی حکومت اور وزارت خارجہ مسلسل یہ مؤقف دہراتی رہی ہیں کہ پاکستان ایک پرامن، مستحکم، دوستانہ اور خطے سے منسلک افغانستان کا خواہاں ہے۔ اگر اسلام آباد واقعی چین کے افغان مفادات کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے تو یہ اس کی اپنی علاقائی معاشی سوچ، سی پیک کے بیانیے اور چین کے ساتھ موجود تزویراتی ہم آہنگی سے ٹکرانے کے مترادف ہے۔

داعش خراسان سے گٹھ جوڑ کا الزام، مگر ریکارڈ کیا کہتا ہے؟

پاکستان پر داعش خراسان کی سرپرستی کا تاثر دینے والی بات بھی زمینی حقائق سے پوری طرح میل نہیں کھاتی۔ مارچ 2025 میں امریکا نے اعلان کیا کہ ایبی گیٹ حملے میں ملوث داعش خراسان کے اہم ملزم محمد شریف اللہ کو پاکستان کے تعاون سے گرفتار کیا گیا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باقاعدہ پاکستان کے تعاون کا ذکر کیا، جبکہ پاکستان کی وزارت خارجہ نے بھی امریکی قومی سلامتی مشیر کی جانب سے انسداد دہشتگردی میں پاکستان کے کردار پر شکریہ اور تحسین کی تصدیق کی۔ یہ ریکارڈ کم از کم اس الزام کو کمزور ضرور کرتا ہے کہ پاکستان داعش خراسان کو ایک منظم پراکسی کے طور پر پال رہا ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق شریف اللہ نے ایف بی آئی تفتیش میں خود کو داعش خراسان کا رکن تسلیم کیا، جبکہ اسے پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں افغانستان کی سرحد کے قریب گرفتار کیا گیا۔ اگر پاکستان واقعی داعش خراسان کو چینی یا علاقائی مفادات کے خلاف استعمال کررہا ہوتا، تو ایسے ہائی پروفائل دہشتگرد کی گرفتاری، حوالگی اور اس پر بین الاقوامی سطح پر سراہا جانا اس دعوے سے مطابقت نہیں رکھتا۔

بلوچستان اور شدت پسند نیٹ ورکس پر غیر مصدقہ عمومی دعوے

بلوچستان کی سیکیورٹی صورتحال پہلے ہی بہت پیچیدہ ہے، جہاں بلوچ علیحدگی پسند تنظیمیں، فرقہ وارانہ گروہ، مجرمانہ نیٹ ورکس اور سرحد پار شدت پسند عناصر مختلف مقاصد کے ساتھ سرگرم رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں یہ دعویٰ کہ مخصوص تنظیمیں منظم انداز میں بلوچ علیحدگی پسندوں کو نشانہ بنا رہی ہیں یا پاکستانی ادارے فلاں اور فلاں گروہ کو باقاعدہ جوڑ رہے ہیں، تبھی وزن رکھتا جب اس کے ساتھ عوامی سطح پر دستیاب شواہد، واقعاتی ڈیٹا، حملوں کے پیٹرن، گرفتاریاں، یا آزاد تفتیشی نتائج بھی موجود ہوں۔ دی ڈپلومیٹ کی مذکورہ گفتگو میں یہ بنیاد نمایاں طور پر کمزور نظر آتی ہے۔

بین الاقوامی تجزیاتی پلیٹ فارمز رائے عامہ بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اس لیے جب کسی ایک ماہر کے ذریعے کسی ریاست، اس کی انٹیلی جنس ایجنسی اور خطے کے حساس سیکیورٹی معاملات پر بڑے الزامات لگائے جائیں تو ادارتی شفافیت اور سورس کی مکمل جانچ مزید ضروری ہوجاتی ہے۔ اجمل سہیل کی بطور تجزیہ کار شناخت اپنی جگہ مگر ایسے دعوؤں کو آزاد تصدیق، دستاویزی شواہد اور متوازن نقطہ نظر کے بغیر پیش کرنا قاری کو مکمل تصویر نہیں دیتا۔

دی ڈپلومیٹ میں شائع شدہ یہ مواد سنسنی خیز ضرور ہے، مگر ثبوتی اعتبار سے کئی سوالات چھوڑ جاتا ہے۔ پاکستان، آئی ایس آئی، داعش خراسان، چین اور افغانستان کے باہمی تعلقات کو ایک سیدھی سازشی کہانی میں ڈھال دینا نہ صرف خطے کی پیچیدہ حقیقتوں کو مسخ کرتا ہے بلکہ سنجیدہ پالیسی بحث کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ افغانستان اور جنوبی ایشیا کے سیکیورٹی معاملات پر بات رائے، قیاس اور سیاسی بیانیے سے آگے بڑھ کر شواہد، تصدیق اور ذمہ دارانہ صحافت کی بنیاد پر کی جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران کے خلاف جنگ اختتامی مرحلے کے قریب پہنچ چکی، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

معروف آسٹریلوی آل راؤنڈر ایشٹن ٹرنر ملتان سلطانز کے کپتان مقرر

آذربائیجان کے صدر کا مجتبیٰ خامنہ ای کو خط، ایران کا سپریم لیڈر بننے پر مبارکباد

ترکیہ کے لیے خطرہ بننے والے اشتعال انگیز اقدامات نہ کیے جائیں، ترک صدر نے ایران کو خبردار کردیا

ایران کے تیل پر قبضہ کرنے کی بات ابھی جلد بازی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ

ویڈیو

اسلام میں ذہنی سکون حاصل کرنے کے طریقے

تیل کی قیمتوں میں اضافہ، حالات کنٹرول سے باہر ہونے کا خدشہ، امریکا و اسرائیل کو بھاری نقصان، ٹرمپ کی چیخیں

نقاب میں شناخت، چارسدہ کی نوجوان کنٹینٹ کریئیٹر کی کہانی

کالم / تجزیہ

انڈین کرکٹ ٹیم مسلسل ناقابل شکست کیسے بنی؟

کیا یہ امریکا کی آخری جنگ ہے؟

موکھی متارا: کراچی کی ایک تاریخی داستان