حالیہ دنوں میں امریکہ نے اپنے جوہری کمانڈ اور کنٹرول طیارے E‑6B Mercury کو خلیج (مشرقِ وسطیٰ) کی جانب منتقل کیا ہے۔ دفاعی مبصرین اسے عام طور پر Doomsday Plane یعنی قیامت کا طیارہ بھی کہتے ہیں۔
اس غیر معمولی پیش رفت نے عالمی دفاعی حلقوں اور میڈیا میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، کیونکہ اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی پہلے ہی انتہائی بلند سطح پر پہنچ چکی ہے، خصوصاً Strait of Hormuz کے گرد پیدا ہونے والی صورتحال کے بعد یہ کچھ زیادہ تشویش ناک ھوتی جا رہی ہے۔

یہ سوال اب سوشل میڈیا پے پوچھا جا رہا ہے کہ E-6B MERCURY ہےکیا بلا ہے؟
E‑6B Mercury دراصل امریکی بحریہ کا ایک خصوصی ایئر بورن کمانڈ پوسٹ طیارہ ہے، جو امریکہ کے جوہری کمانڈ سسٹم کا انتہائی اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ طیارہTACAMO (Take Charge And Move Out) مشن کے تحت کام کرتا ہے۔
اس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اگر زمین پر موجود کمانڈ سینٹرز تباہ ہو جائیں یا مواصلاتی نظام ناکارہ ہو جائے تو امریکہ کی اعلیٰ قیادت کے احکامات بدستور اسٹریٹجک افواج تک پہنچائے جا سکیں۔
یہ طیارہ ہزاروں کلومیٹر دور موجود جوہری آبدوزوں، بیلسٹک میزائل فورسز اور اسٹریٹجک بمبار طیاروں کے ساتھ محفوظ مواصلاتی رابطہ قائم رکھ سکتا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق اس طیارے میں انتہائی طاقتور VLF (Very Low Frequency) کمیونیکیشن سسٹم نصب ہوتا ہے جو سمندر کی گہرائی میں موجود آبدوزوں تک بھی پیغامات پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
مگر سوال ہے کہ خلیج میں تعیناتی کیوں؟
امریکی دفاعی ادارے United States Navy اور Pentagon کی پالیسی کے مطابق ایسے طیاروں کی تعیناتی عام طور پر احتیاطی دفاعی حکمت عملی کا حصہ ہوتی ہے۔ جب کسی خطے میں بڑی طاقتوں کے درمیان کشیدگی بڑھ جائے تو امریکہ اپنے جوہری کمانڈ نیٹ ورک کو ہر حال میں فعال رکھنے کے لیے ایسے اقدامات کرتا ہے۔
حالیہ ہفتوں میں ایران اور امریکہ/اسرائیل کے درمیان میزائل حملوں، ڈرون کارروائیوں اور فوجی تنصیبات پر حملوں کی اطلاعات نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ اسی تناظر میں E-6B کی خلیج کے قریب موجودگی کو ایک اسٹریٹجک پیغام بھی سمجھا جا رہا ہے کہ امریکہ اپنی جوہری کمانڈ اور کنٹرول صلاحیتوں کو مکمل طور پر فعال رکھے ہوئے ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق
امریکی اور یورپی دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اس تعیناتی کو فوری طور پر جوہری جنگ کی تیاری قرار دینا درست نہیں۔ بین الاقوامی عسکری مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسے طیارے اکثر ہائی الرٹ حالات میں تعینات کیے جاتے ہیں تاکہ اگر بدترین صورتحال بھی پیدا ہو جائے تو کمانڈ چین برقرار رہے۔
کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ اقدام Strategic Signaling یعنی طاقت کے اظہار کا حصہ بھی ہو سکتا ہے۔ اس کے ذریعے امریکہ خطے میں موجود اپنے اتحادیوں کو یقین دہانی اور مخالف قوتوں کو انتباہ دینا چاہتا ہے کہ اس کا اسٹریٹجک نیٹ ورک مکمل طور پر فعال ہے۔
کیا واقعی جوہری جنگ کا خطرہ ہے؟
فی الحال کسی بھی ملک نے جوہری جنگ کے آغاز کا اعلان نہیں کیا۔ موجودہ صورتحال کو زیادہ تر مبصرین روایتی یا محدود جنگی کشیدگی قرار دے رہے ہیں۔ اگرچہ خطے میں میزائل، ڈرون اور فضائی کارروائیاں بڑھ رہی ہیں، لیکن جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے کوئی مستند شواہد سامنے نہیں آئے۔
تاہم دفاعی تجزیہ کار اس بات پر متفق ہیں کہ موجودہ حالات انتہائی نازک ہیں۔ اگر کشیدگی مزید بڑھی یا کسی بڑی فوجی تنصیب پر تباہ کن حملہ ہوا تو صورتحال تیزی سے تبدیل ہو سکتی ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق E‑6B Mercury کی خلیج میں موجودگی یقینی طور پر ایک غیر معمولی عسکری اشارہ ہے، مگر اسے فوری طور پر جوہری جنگ کا آغاز قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ یہ زیادہ تر امریکہ کی دفاعی تیاری اور اسٹریٹجک احتیاط کا حصہ معلوم ہوتی ہے۔
بہرحال حقیقت یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت تاریخ کے ایک انتہائی خطرناک موڑ پر کھڑا ہے۔ حالات منٹوں میں تبدیل ہو رہے ہیں اور کسی بھی غلط حساب یا عسکری اشتعال سے بحران سنگین رخ اختیار کر سکتا ہے۔ اس لیے عالمی برادری کے لیے ضروری ہے کہ سفارتی کوششوں کو تیز کیا جائے تاکہ دنیا ایک ممکنہ بڑے تصادم سے محفوظ رہ سکے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔














