پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق آل راؤنڈر عماد وسیم کی سابقہ اہلیہ ثانیہ اشفاق نے کرکٹر پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ان کے اور بچوں کے لیے حالات مشکل بنا رہے ہیں۔
ثانیہ اشفاق نے فوٹو اور ویڈیو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام پر جاری کردہ پوسٹ میں کہا کہ وہ جس گھر میں اپنے بچوں کے ساتھ مقیم ہیں اس کا معاہدہ منسوخ کیا جا رہا ہے اور ان سے کہا جا رہا ہے کہ وہ مانچسٹر منتقل ہو جائیں جہاں نہ تو وہ خود اور نہ ہی ان کے بچوں کا کوئی خاندان، سہارا یا تعلقات موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عماد وسیم کی دھمکیاں منظر عام پر، سابق اہلیہ ثانیہ اشفاق نے واٹس ایپ چیٹس شیئر دیں
انہوں نے مزید کہا کہ میرے بچوں کی زندگی، اسکول، دوست اور استحکام یہاں ہے۔ گھر کھونے کا سامنا اور بالکل اجنبی جگہ منتقل ہونے کا کہا جانا انتہائی پریشان کن ہے خاص طور پر جب میرا واحد مقصد ہمیشہ ان کی حفاظت، استحکام اور بھلائی رہا ہے۔
View this post on Instagram
ثانیہ اشفاق نے الزام لگایا کہ عماد وسیم پہلے ہی انہیں کافی صدمہ پہنچا چکے ہیں اور اب وہ بچوں کے لیے حالات مزید مشکل بنا رہے ہیں انہیں ان کے گھر سے نکال کر جذباتی دباؤ میں ڈال رہے ہیں جس سے بچوں کے لیے مستقل مزاجی اور تحفظ کا احساس متاثر ہو رہا ہے۔
اس سے قبل ثانیہ اشفاق نے عماد وسیم پر قتل اور جبری اسقاطِ حمل کے سنگین الزامات بھی عائد کیے تھے تاہم عماد وسیم کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ تمام متعلقہ ریکارڈ، بشمول میڈیکل رپورٹس اسقاطِ حمل سے متعلق الزامات کو بے بنیاد ثابت کرتے ہیں۔ لیگل ٹیم نے بتایا کہ اس معاملے پر ثانیہ اشفاق کو قانونی نوٹس بھی ارسال کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سابق اہلیہ کے الزامات پر عماد وسیم کا جوابی وار، قانونی نوٹس بھیج دیا، شواہد کے ساتھ عدالت جانے کا اعلان
بیان میں مزید کہا گیا کہ نومبر 2023 میں انٹرنیشنل ٹورنامنٹ میں شرکت کے حوالے سے کیے گئے فیصلے باہمی رضامندی سے ہوئے تھے اور اس معاملے میں عماد وسیم کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ متعلقہ ڈاکٹرز اس مؤقف کی تصدیق کے لیے تیار ہیں۔
واضح رہے کہ عماد وسیم کی سوشل میڈیا انفلوئنسر نائلہ راجہ سے شادی کے بعد ثانیہ اشفاق کی جانب سے ان پر متعدد سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں جن میں اپنے بچے کی ہلاکت کا ذمہ دار قرار دینا بھی شامل ہے۔














