فن لینڈ میں روایتی رینڈیئر ریسنگ نے شائقین کو ایک بار پھر محظوظ کیا۔ اس سال رینڈیئر کپ میں تقریباً 1,000 لوگ شرکت کے لیے جمع ہوئے، جنہوں نے شدید سردی کے باوجود رینڈیئر کو برف سے ڈھکے ٹریک پر دوڑتے دیکھا۔
یہ بھی پڑھیں:آؤڈی نے سنگل سیٹر ریسنگ کار متعارف کرادی، چیمپیئن شپ جیتنے کا بھی عزم
رینڈیئر اپنے ہینڈلرز کو سکیز پر کھینچتے ہوئے تیز رفتاری کا مظاہرہ کرتے ہیں، اور سب سے تیز ریس جیتتا ہے۔ اس ریس کا آغاز 1950 کی دہائی میں ہوا تھا اور آج یہ ایک منظم مقابلہ بن چکی ہے۔ اس سال کی فاتح رینڈیئر ’پومپوم‘ بنی، جسے اس کے مالک نے تیز اور ذہین قرار دیا۔

شائقین نے ریس کے دوران اپنی پسندیدہ رینڈیئر کی حوصلہ افزائی کے لیے ’ہیووا، ہیووا‘ اور ’مینے، مینے‘ کے نعرے لگائے۔ رینڈیئر کے لیے انعام میں ان کے پسندیدہ کھانے لائچن دیے گئے، اور شرکاء نے مقامی ڈشز، رینڈیئر سوپ اور مخصوص پیسٹریز سے لطف اٹھایا۔













