افغان طالبان نے 8 افراد کو سرعام کوڑے مارنے کی سزا دے دی ہے۔
طالبان کی سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ صوبہ بلخ اور بامیان میں ایک خاتون سمیت 8 افراد کو مختلف الزامات کے تحت سرِعام کوڑے مارنے کی سزا دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: ’گھر سے فرار‘ کا الزام، افغان طالبان کی عدالت سے خاتون کو قید اور کوڑوں کی سزا
طالبان سپریم کورٹ کی جانب سے جمعرات( 12 مارچ) کو جاری الگ الگ بیانات میں کہا گیا کہ مجرمان کو جسمانی سزائیں دینے کا سلسلہ جاری ہے، بامیان میں 2 افراد کو چوری کے الزام میں سرِعام سزا دی گئی اور دونوں کو ایک سال قید کی سزا بھی سنائی گئی۔
دوسرے بیان میں کہا گیا کہ بلخ میں 5 مردوں اور ایک خاتون کو 39، 39 کوڑے مارے گئے۔ طالبان حکام کے مطابق سزائیں سرکاری اہلکاروں اور مقامی شہریوں کی موجودگی میں نافذ کی گئیں۔
عدالت نے بدھ کے روز یہ بھی بتایا تھا کہ تخار، زابل اور بدخشاں میں 2 خواتین سمیت 11 افراد کو بھی سرِعام کوڑے مارے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا عدالتی حکم کے مطابق زیادتی کے مجرم کو سرعام کوڑے مارے جائیں گے؟
افغانستان انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق 2024 سے اب تک طالبان مختلف الزامات کے تحت 2 ہزار سے زائد افراد، جن میں 291 خواتین بھی شامل ہیں، کو سرِعام کوڑے مارنے کی سزا دے چکے ہیں، جبکہ اپنی صفوں سے وابستہ افراد کے خلاف ایسی سزاؤں سے گریز کیا گیا۔














