ارطغرل غازی کے عنوان سے ترک ڈرامے کو ترکیہ کی تاریخ کے مہنگے ترین ٹی وی منصوبوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کے بڑے سیٹ، جنگی مناظر اور تاریخی ملبوسات پر بہت زیادہ سرمایہ خرچ کیا گیا۔ ڈرامے کی شوٹنگ کے لیے ترکیہ میں خانہ بدوش قبائل کے طرز کا ایک پورا سیٹ اور گاؤں بنایا گیا جس میں خیمے، بازار اور جنگی میدان شامل تھے۔
ڈرامے میں حقیقت کے قریب مناظر دکھانے کے لیے ایسے اداکاروں کا انتخاب کیا گیا جو کہانی کے اصل کرداروں جیسا مزاج رکھتے تھے۔ پھر انھیں اصل کرداروں سے متعلق خوب مطالعہ کرایا گیا، اور گھڑ سواری، تلوار بازی اور تیر اندازی کی خصوصی تربیت دی گئی۔
یہ ڈرامہ براعظم ایشیا، یورپ، مشرق وسطیٰ اور افریقہ سمیت 60 سے زائد ممالک میں نشر کیا گیا اور کروڑوں لوگوں نے دیکھا۔ جن 10 ممالک میں سب سے زیادہ دیکھا گیا، ان میں پہلا نمبر پاکستان کا ہے۔ پاکستان میں اس ڈرامے کی مقبولیت اتنی زیادہ تھی کہ صرف ابتدائی ہفتوں میں ہی 13 کروڑ سے زیادہ لوگوں نے اسے دیکھا۔
پاکستان کے بعد ترکیہ کا نمبر ہے جہاں وہ ریلیز ہونے والے دن سب سے زیادہ دیکھے جانے والے ترک ٹی وی ڈراموں میں پہلے نمبر پر تھا۔ ترک صدر رجب طیب ایردوان متعدد بار اپنی پوری فیملی سمیت ڈرامے کے سیٹ پر گئے۔ دنیا کے کئی حکمران اس ڈرامے کو بڑے شوق سے دیکھا کرتے تھے، ان میں اُس وقت کے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان، وینزویلا کے صدر نکولس مادرو اور ملائیشیا کی ملکہ عزیزہ آمنہ میمونہ اسکندریہ بھی شامل تھیں۔
ڈرامے کی مقبولیت اور اس کے کرداروں کے اثرورسوخ کا عالم یہ تھا کہ نہ صرف نوجوان ناظرین اپنی وضع قطع ان کرداروں جیسی بنانے لگے بلکہ بچے بھی ارطغرل، ترگت کا روپ دھارتے اور باہم معرکہ آرائی کرتے۔ خواتین، بچیاں حائمہ خاتون اور حلیمہ سلطان بننے کی کوشش کرتیں۔
اس ڈرامے ہی کو ایک مثال کے طور پر پیش نظر رکھا جائے تو بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ ایک قوم دوسری قوم یا اقوام پر کس طرح اثرانداز ہوتی ہے، اپنا تعارف کراتی ہے، اثرورسوخ قائم کرتی ہے۔ اگر وہ دوست اقوام ہوں تو ایک دوسرے سے بہت کچھ سیکھتی ہیں۔ اور ان کے مابین تعلقات مضبوط ہوتے ہیں۔ اگر دشمن ہوں تو اسی انداز میں ایک دوسرے کو فتح کرتی ہیں۔
اس موقع پر مقتول بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کی بڑی بہو مانیکا گاندھی سے منسوب ایک قول یاد آیا، اسے جملہ معترضہ کے طور پر پڑھ لیجیے، جس میں انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ہم نے پاکستان کو فوجی طاقت سے نہیں بلکہ اپنی ثقافت، فلموں اور ٹیلی ویژن کے ذریعے فتح کر لیا ہے، کیونکہ پاکستان کے لوگ ہماری تہذیب اور طرزِ زندگی کی پیروی کرتے ہیں۔‘
ممکن ہے کہ یہ بات مانیکا گاندھی سے غلط طور پر منسوب ہو لیکن آج کی دنیا میں قوموں کو مسخر کرنے کے لیے یہی طریقہ اختیار کیا جاتا ہے۔
اگر بات قربتوں کی ہو تو قومیں صرف معاہدوں اور سفارتی دستاویزات سے قریب نہیں آتیں، بلکہ دلوں کے رشتوں سے جڑتی ہیں۔ جب دو قوموں کے درمیان اعتماد، محبت اور ثقافتی ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے تو تعلقات محض سیاسی نہیں رہتے بلکہ تہذیبی رشتے بن جاتے ہیں۔ اس کا ثبوت اگلے روز ملا جب چند پاکستانی اور چند ترک دوست ایک علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے ایگزیکٹو کلب میں دعوتِ افطار پر جمع ہوئے۔ یہاں دونوں قوموں سے تعلق رکھنے والے ادیب بھی شامل تھے، استاد بھی، دانشور بھی، صحافی بھی اور فن کار بھی۔ ترک دوست پاکستانیوں کے لیے پرجوش تھے اور پاکستانی ترکوں کے لیے۔ اور پھر اسی ماحول میں دوستی کو آگے بڑھانے کے لیے ایک مشترکہ پلیٹ فارم ’دوست‘کے نام سے تشکیل دیا گیا۔
’دوست‘ کی تاسیسی مجلس میں رحمۃ للعالمین و خاتم النبیین اتھارٹی کے چیئرمین جناب خورشید ندیم اور اسی اتھارٹی کے رکن جناب ڈاکٹر فاروق عادل، شاہ عبد اللطیف بھٹائی یونیورسٹی اور سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی کے وائس چانسلرز ڈاکٹر یوسف خشک اور ڈاکٹر مجیب میمن، جامعہ پنجاب کے ڈاکٹر محمد کامران، ممتاز ادیبہ نعیم فاطمہ علوی، پروفیسر ڈاکٹر زاہد مجید، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی برائے خواتین کی پروفیسر ڈاکٹر صدف نقوی، کراچی میں ترکیہ کے سابق قونصل جنرل ڈاکٹر جمال سانگو، ترکیہ میں مقیم ممتاز پاکستانی تاجر احمد خان اور ڈاکٹر خلیل طوقار سمیت متعدد دیگر قد آور شخصیات شامل ہیں۔
تقریب میں شریک ہر چہرہ وفور مسرت سے غیرمعمولی طور پر تمتا رہا تھا، جیسے آج دو خاندانوں میں ایک نیا رشتہ طے ہوا ہو، اور زندگی بھر ایک ساتھ جینے کے عہد و پیمان ہوئے ہوں۔ یقیناً ایسا ہی ہوا تھا اُس شام۔
یہ خوبصورت شام اور یہ خوبصورت تقریب دراصل دو ڈاکٹروں کی محنت کا نتیجہ تھی، پاکستان کے ڈاکٹر فاروق عادل اور ترکیہ کے ڈاکٹر خلیل طوقار جو یونس ایمرے انسٹی ٹیوٹ پاکستان کے کنٹری ہیڈ ہیں۔
یونس ایمرے انسٹی ٹیوٹ ترکیہ کا ایک سرکاری ثقافتی ادارہ ہے جو دنیا کے مختلف ممالک میں ترکی زبان، ثقافت، تاریخ اور ادب کو فروغ دینے کے لیے قائم کیا گیا۔ پاکستان کے بڑے شہروں میں بھی اس ادارے کے مراکز موجود ہیں جو دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی اور تعلیمی روابط کو مضبوط بناتے ہیں۔
یونس ایمرے انسٹی ٹیوٹ میں ترکی زبان سکھائی جاتی ہے، ترک ثقافت اور تاریخ متعارف کرائی جاتی ہے، تعلیمی اور ثقافتی پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان عوامی و تعلیمی روابط کو فروغ دیا جاتا ہے۔ امید ہے کہ اب ’ دوست‘ بھی اسی کلچرل ڈپلومیسی کا ایک نیا روشن چراغ ثابت ہوگا۔
دراصل زمانہ بدل رہا ہے۔ آج کی دنیا میں صرف سرکاری سطح کے تعلقات کافی نہیں رہتے۔ اگر دوستی کو مضبوط اور پائیدار بنانا ہو تو اسے عوامی سطح تک لے جانا ضروری ہوتا ہے۔ ادیب، فن کار، اساتذہ، طلبہ اور کاروباری شخصیات جب ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں تو تعلقات میں ایک نئی روح پیدا ہوتی ہے۔ ثقافت، ادب اور فنون لطیفہ دراصل وہ پل ہیں جو قوموں کے درمیان فاصلے کم کرتے ہیں۔
پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دوستی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کئی عملی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان طلبہ کے تبادلے کے پروگرام بڑھائے جائیں، مشترکہ ادبی و ثقافتی میلوں کا انعقاد ہو، فلم، ڈراما اور موسیقی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جائے اور جامعات کے درمیان تحقیقی روابط قائم کیے جائیں۔ اسی طرح سیاحت اور کاروباری تعاون بھی دونوں قوموں کو قریب لا سکتا ہے۔
قوموں کی دوستی ایک چراغ کی مانند ہوتی ہے جسے مسلسل جلائے رکھنا پڑتا ہے۔ اگر اس میں وقتاً فوقتاً محبت، احترام اور تعاون کا تیل نہ ڈالا جائے تو اس کی روشنی مدھم پڑ سکتی ہے۔
پاکستان اور ترکیہ کے درمیان محبت کا یہ چراغ صدیوں سے روشن ہے، اور ’دوست‘ جیسے ادارے اس روشنی کو آنے والی نسلوں تک منتقل کرنے کا ایک خوبصورت ذریعہ بن سکتے ہیں۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













