بنگلہ دیش کے ساحلی سیاحتی شہر کوکس بازار میں عید الفطر کی چھٹیوں سے قبل ہوٹلوں اور ریزورٹس میں ایڈوانس بکنگ میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ سیاحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل تعطیلات کے دوران یہاں زائرین کی بھاری آمد متوقع ہے۔
انڈسٹری کے ذرائع کے مطابق ملک کے اس اہم سیاحتی مقام پر رمضان کے بعد چھٹی منانے والوں کے استقبال کی تیاریاں جاری ہیں اور کئی ہوٹلوں نے پہلے ہی مضبوط ریزرویشن کی رپورٹ دی ہے۔ کاروباری رہنما اندازہ لگا رہے ہیں کہ عید کے دوران کوکس بازار میں تقریباً 5 لاکھ سے 10 لاکھ سیاح آ سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش: ایک لاکھ افراد کے لیے افطاری تیار کرنے والی دنیا کی سب سے بڑی دیگ نصب
لگژری ہوٹلوں اور ریزورٹس نے عید سے شروع ہونے والے کئی دنوں کے لیے تقریباً مکمل بکنگ کی اطلاع دی ہے، جبکہ درمیانے درجے کے ہوٹل بھی جلد مکمل پُر ہونے کی توقع کر رہے ہیں۔ علاقے کے 500 سے زیادہ ہوٹل، موٹل، گیسٹ ہاؤس اور ریزورٹس کے مالکان کا کہنا ہے کہ عید کے پہلے 3 دنوں کے لیے زیادہ تر کمرے پہلے سے ہی بک کر دیے گئے ہیں۔
سیاحتی کاروبار اپنے اداروں کی تزئین و آرائش، رنگ و روغن اور سجاوٹ کے کام کر رہے ہیں تاکہ آنے والے زائرین کے لیے بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ ہوٹل مالکان کا کہنا ہے کہ مقصد سیاحوں کے لیے آرام دہ رہائش اور معیاری خدمات کو یقینی بنانا ہے۔
ہوٹل ہِل ویو کے منیجنگ پارٹنر رحمت اللہ نے کہا کہ ان کے ہوٹل میں عید کے دوران کئی دنوں کے لیے ایڈوانس بکنگ ہو چکی ہے اور تزئین و آرائش کا کام جاری ہے۔ ہوٹل کوکس ٹوڈے کے اہلکاروں نے بتایا کہ ان کے ہوٹل کے نصف سے زائد کمرے پہلے ہی بک ہو چکے ہیں اور باقی کمرے چھٹیوں سے قبل پُر ہونے کی توقع ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ترکیہ اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ کی پہلی ملاقات، تعاون بڑھانے پر اتفاق
سایمان ریزورٹ کے اہلکاروں نے بھی تصدیق کی کہ ہوٹل میں تزئین و آرائش جاری ہے اور عید کے بعد کئی دنوں کے لیے بکنگ ہو چکی ہے، اور امید ظاہر کی کہ اس سال سیاحوں کی تعداد بہت زیادہ ہوگی۔
سیاحتی رہنماوں کا کہنا ہے کہ کوکس بازار میں تقریباً ایک لاکھ 20 ہزار سیاح روزانہ رہائش اختیار کر سکتے ہیں اور طویل تعطیلات کے دوران روزانہ سیاحوں کی تعداد اس سے تجاوز کر سکتی ہے۔
ضلع حکام نے کہا کہ سیکیورٹی اور وزیٹر مینجمنٹ کے منصوبے حتمی مراحل میں ہیں۔ کوکس بازار کے ڈپٹی کمشنر عبدالمنان نے ہوٹل مالکان اور سیاحت کے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ اجلاس کیے تاکہ قیمتوں میں شفافیت اور سیاحوں کے لیے مناسب خدمات کو یقینی بنایا جا سکے۔
پولیس اہلکاروں نے مزید کہا کہ سیاحتی مقامات پر اضافی سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے جائیں گے تاکہ ہراسانی سے بچاؤ ہو اور زائرین کا سفر محفوظ رہے۔














