بنگلہ دیش کے حضرت شاہ جلال بین الاقوامی ہوائی اڈے سے 28 فروری تا 15 مارچ 2026 کے دوران خلیجی ممالک کی ہوائی حدود کے بند ہونے کے سبب 500 سے زائد پروازیں منسوخ ہو گئیں جبکہ 539 خصوصی اور باقاعدہ پروازیں عمل میں رہیں۔
ہوائی اڈے کے فلائٹ مینجمنٹ حکام کے مطابق، ایران، عراق، کویت، متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر اور اردن سمیت کئی خلیجی ممالک نے 28 فروری کو خطے میں بڑھتی ہوئی سلامتی کی صورتِ حال کے باعث اپنی ہوائی حدود عارضی طور پر بند کر دی تھیں، جس کے نتیجے میں کئی پروازیں معطل یا منسوخ کر دی گئیں۔
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش کے سیاحتی شہر کوکس بازار میں عید کی چھٹیوں سے قبل ہوٹل بکنگ میں ریکارڈ اضافہ
ایئرپورٹ کے روزانہ اعداد و شمار کے مطابق 28 فروری کو 23، 1 مارچ کو 40، 2 مارچ کو 46، 3 مارچ کو 39، 4 مارچ کو 32، 5 مارچ کو 36، 6 مارچ کو 34، 7 مارچ کو 28، 8 مارچ کو 28، 9 مارچ کو 33، 10 مارچ کو 32، 11 مارچ کو 27، 12 مارچ کو 28، 13 مارچ کو 25 اور 14 مارچ کو 26 پروازیں منسوخ ہوئیں۔ 15 مارچ کے دن 0000 کے بعد مزید 23 پروازیں منسوخ کی گئیں۔
ان میں کویت ایئرویز، ایئر عربیا، گلف ایئر، قطر ایئرویز، امارات، جزیرہ ایئرویز، فلائی دبئی، بمان بنگلہ دیش ایئرویز اور یو ایس بنگلا ایئرویز کی سروسز شامل تھیں۔ اس طرح بحران کے دوران منسوخ ہونے والی پروازوں کی مجموعی تعداد 500 ہو گئی۔
یہ بھی پڑھیے: مشرق وسطیٰ میں فضائی حدود بند، ڈھاکا ہوائی اڈے سے 200 سے زائد پروازیں منسوخ
اس دوران متاثرہ مسافروں اور مہاجر مزدوروں کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے ہوائی اڈے کے حکام نے سعودی عرب، عمان اور متحدہ عرب امارات کے لیے اضافی پروازیں بھی چلائیں۔ پروازوں کی روزانہ تعداد میں بتدریج اضافہ دیکھا گیا، جس میں 28 فروری کو 6، 1 مارچ کو 20، 2 مارچ کو 18، 3 مارچ کو 22، 4 مارچ کو 35، 5 مارچ کو 38، 6 مارچ کو 34، 7 مارچ کو 39، 8 مارچ کو 31، 9 مارچ کو 40، 10 مارچ کو 42، 11 مارچ کو 36، 12 مارچ کو 48، 13 مارچ کو 37، 14 مارچ کو 44 اور 15 مارچ (متوقع) کو 49 پروازیں شامل تھیں۔ اس طرح بحران کے دوران مجموعی طور پر 539 پروازیں عمل میں رہیں۔
ہوائی اڈے کے حکام نے بتایا کہ بحران کے دوران ڈھاکا ایئرپورٹ پر دباؤ بہت زیادہ بڑھ گیا کیونکہ بڑی تعداد میں بنگلہ دیشی مہاجر مزدور خلیج ممالک کے لیے سفر کر رہے تھے۔ حکام نے مزید کہا کہ ہوائی پروازیں خلیج کی سلامتی کی صورتحال کے مطابق روزانہ ایڈجسٹ کی جا رہی ہیں اور ضرورت پڑنے پر مزید خصوصی پروازیں بھی چلائی جا سکتی ہیں۔














