برطانیہ میں زیادہ تر خواتین نہیں جانتیں کہ مینوپاز ان کی ذہنی صحت پر اثر ڈال سکتا ہے۔ 2026 کے سروے کے مطابق صرف 28 فیصد خواتین یہ جانتی ہیں کہ مینوپاز کے دوران ڈپریشن یا انگزائٹی جیسی نئی ذہنی بیماریاں ہو سکتی ہیں۔
مزید پڑھیں: مینوپاز اور الزائمر کا تعلق، خطرات کم کیسے کیے جاسکتے ہیں؟
یورپ کی تحقیق کے مطابق 55 فیصد خواتین مینوپاز کے دوران ذہنی علامات محسوس کرتی ہیں، جبکہ سویڈن اور جرمنی میں درمیانے سے شدید دباؤ کی شرح بھی زیادہ ہے۔
ہارمونل تبدیلیوں کو اکثر عام ڈپریشن یا طرزِ زندگی کے دباؤ کے طور پر غلط سمجھا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں سالوں تک بے اثر دوائیں استعمال کی جاتی ہیں۔
تقریباً ہر 12 میں سے ایک خاتون کام کی جگہ پر مینوپاز کی علامات کی وجہ سے امتیازی سلوک محسوس کرتی ہے۔ ایک تہائی سے زیادہ خواتین نے بتایا کہ ان کے پیشہ ورانہ کام پر منفی اثر پڑا، لیکن صرف 24 فیصد خواتین اپنے مینیجر کے ساتھ اس موضوع پر بات کرنے میں آرام دہ محسوس کرتی ہیں۔
جدید آلات جیسے مینوٹریکر خواتین کو ہارمونل علامات کو ٹریک کرنے اور ڈاکٹروں کے لیے رپورٹس تیار کرنے میں مدد دیتے ہیں، تاکہ صحیح تشخیص ہو سکے۔
مزید پڑھیں: عمر کے مختلف مراحل میں غذائی اجزا کی اہمیت: کس عمر میں کون سی خوراک مفید ہے
ماہرین کا کہنا ہے کہ تمام طبی اور نفسیاتی ماہرین کو مینوپاز اور ذہنی صحت کے خطرات کے بارے میں تربیت دی جانی چاہیے۔ ساتھ ہی ملازمت کی جگہوں پر بہتر پالیسیاں خواتین ملازمین کی مدد کر رہی ہیں اور سماجی سطح پر بات چیت کو زیادہ کھلا اور مثبت بنانے میں مدد مل رہی ہے۔














