لاہور جنرل اسپتال میں کامیاب طبی کارروائی، 3 ماہ کے بچے کے معدے سے لوہے کا واشر نکال لیا گیا

اتوار 29 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 لاہور جنرل اسپتال کے ڈاکٹروں نے بروقت اور کامیاب طبی کارروائی کرتے ہوئے 3 ماہ کے بچے کے معدے سے لوہے کا واشر نکال کر اس کی جان بچا لی۔

اسپتال انتظامیہ کے مطابق معصوم بچے کے معدے میں موجود لوہے کا واشر انڈوسکوپی کے ذریعے نکالا گیا۔ پیچیدہ نوعیت کا یہ پروسیجر اسسٹنٹ پروفیسر حوریہ رحمان نے پروفیسر محمد شاہد کی نگرانی میں کامیابی سے مکمل کیا۔

ڈاکٹروں کے مطابق علی زین نامی 3 ماہ کا بچہ گزشتہ 10 دن سے بخار اور کھانسی میں مبتلا تھا۔ طبی معائنے اور ایکسرے رپورٹ کے بعد انکشاف ہوا کہ بچے کے معدے میں غیر ملکی جسم موجود ہے، جس پر فوری طور پر طبی ٹیم نے کارروائی کا فیصلہ کیا۔

کامیاب پروسیجر پر پرنسپل پروفیسر فاروق افضل اور ایم ایس پروفیسر ڈاکٹر فریاد حسین نے ڈاکٹروں کی ٹیم کو مبارک باد دی، جبکہ بچے کی جان بچنے پر والدین نے طبی عملے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے دعائیں دیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران سے بات چیت اور پاکستان کی کوششیں جاری ہیں اب دیکھیں کیا ہوتا ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ممکنہ امن معاہدے پر مؤقف

بیٹے کی شادی میں شرکت کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ کا مبہم بیان، میڈیا کو بھی تنقید کا نشانہ بنا دیا

صدارت کے بعد وزارت عظمیٰ: اسرائیل میں بیحد مقبول ہوں، وزیراعظم کا انتخاب لڑوں گا، ڈونلڈ ٹرمپ کا ’عندیہ‘

وزیرِ اعظم شہباز شریف اور پرنس رحیم آغا خان کی ملاقات، آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک کو وسعت دینے پر زور

عیدالاضحیٰ پر ریلوے کا خصوصی انتظام، 3 خصوصی ریل گاڑیاں چلانے کا فیصلہ

ویڈیو

ایران سے بات چیت اور پاکستان کی کوششیں جاری ہیں اب دیکھیں کیا ہوتا ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ممکنہ امن معاہدے پر مؤقف

ایران امریکا معاہدے کے امکانات روشن: پاکستان نے سفارتی کوششیں تیز کردیں اور مثبت اشارے ملے ہیں، مارکو روبیو

بڑی شخصیت کی ایران میں انٹری، ایران امریکا ڈیل کا مسودہ تیار، فائنل راؤنڈ پاکستان میں، اسرائیل کو منہ کی کھانا پڑی

کالم / تجزیہ

عورت اور مرد کی کشمکش

کامیابی کی سب سے بڑی غلط فہمی

سندھ طاس: ثالثی عدالت کے فیصلے کے بعد کیا ہو گا؟