بنگلہ دیش کے وزیراعظم طارق رحمان نے پیر کو 54 اضلاع میں ملک گیر نہریں کھودنے کے پروگرام کا باضابطہ آغاز کیا، جس کا مقصد زراعت کے لیے آبپاشی کو بہتر بنانا، پانی جمع ہونے کے مسائل کم کرنا اور دیہی معیشت کو مضبوط کرنا ہے۔
یہ پروگرام دِناج پور ضلع کے کہارول اپازِیلا کے سہاپارا میں شروع کیا گیا، جہاں وزیراعظم نے 12 کلومیٹر طویل نہر کی دوبارہ کھدائی کا افتتاح کیا۔ اس منصوبے کے تحت ملک بھر کی بند اور مٹی سے بھر گئی نہروں کو بحال کیا جائے گا تاکہ خاص طور پر مون سون کے موسم میں پانی کے بہتر انتظام کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیے: صوبوں کی رضا مندی کے بغیر دریائے سندھ سے نہریں نہیں نکالی جائیں گی، مشترکہ مفادات کونسل کا فیصلہ
حکام کے مطابق اس منصوبے سے زراعت کے لیے آبپاشی بہتر ہوگی، سیلاب کے نقصان میں کمی آئے گی اور نہروں سے وابستہ اقتصادی سرگرمیوں جیسے مچھلیوں کی پرورش اور بتھ پالنے میں مدد ملے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نہروں کی بحالی ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے اور دیہی پیداوار بڑھانے میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔
افتتاح کے بعد وزیراعظم نے نہر کے مقام کے قریب ایک اجتماع سے خطاب کیا۔ یہ تقریب وزارت آب و وسائل اور بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کے مقامی رہنماؤں کی شراکت سے منعقد کی گئی تھی۔ تقریب میں مقامی رہائشی، حکام اور کمیونٹی نمائندگان بھی موجود تھے۔
تقریب میں مقررین نے کہا کہ سہاپارا نہر طویل عرصے سے مٹی اور کیچڑ سے بھری ہوئی تھی، جس کی وجہ سے پانی نکاس اور کسانوں کو مشکلات کا سامنا تھا۔ نہر کی دوبارہ کھدائی سے پانی کی روانی بہتر ہوگی اور مقامی زراعت کو فائدہ پہنچے گا۔
یہ بھی پڑھیے: ہر ترقیاتی منصوبے میں بیوٹیفکیشن پلان لازمی ہونا چاہیے، مریم نواز نے اہم ہدایات جاری کردیں
مقامی رہائشیوں نے اس اقدام کا خیرمقدم کیا اور یاد دلایا کہ نہر کبھی کھیتی باڑی اور روزمرہ زندگی میں اہم کردار ادا کرتی تھی لیکن وقت کے ساتھ ناقابل استعمال ہو گئی تھی۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ نہروں کی بحالی سے زمین کے پانی پر انحصار کم ہوگا اور آبپاشی کے لیے بجلی کے اخراجات میں کمی آئے گی۔
مقامی رہنماؤں نے بھی نوٹ کیا کہ علاقے کو 2017 کے سیلاب میں شدید نقصان پہنچا تھا، اور مناسب نہری نظام کے انتظام سے مستقبل میں ایسے نقصانات کو روکا جا سکتا ہے۔
حکومت کا منصوبہ ہے کہ نہروں کی بحالی کا یہ پروگرام ملک بھر میں مرحلہ وار جاری رکھا جائے تاکہ پانی کے جدید انتظام اور زرعی پیداوار کو مضبوط بنایا جا سکے۔














