مشرق وسطیٰ کشیدگی: خطے میں ایل پی جی سپلائی کا بحران مگر پاکستان میں استحکام، وجوہات کیا ہیں؟

منگل 17 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عالمی تنازعے کی زَد میں آبنائے ہرمز، صدر ٹرمپ جس کو کھلوانے کے لیے اتحادی ممالک سے مدد کی اپیل کررہے ہیں۔ ایرانی حکومت نے آج پاکستان کے ایک تیل بردار بحری جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی۔

اِس کے ساتھ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ایک بیان میں کہاکہ ان بابرکت، الٰہی اور روحانی دنوں اور گھڑیوں میں، میں حکومت اور عوامِ پاکستان کا تہہِ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے امریکا اور صہیونی رجیم کی جارحیت کے مقابلے میں عوام اور حکومتِ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ اپنی یکجہتی اور حمایت کا بھرپور اظہار کیا۔

مزید پڑھیں: مشرق وسطیٰ کشیدگی: پیٹرول کے بعد ایل پی جی کے 2 جہاز بھی پورٹ قاسم پر لنگر انداز

انہوں نے کہاکہ اسلامی جمہوریہ ایران اللہ تعالیٰ پر کامل توکل کے ساتھ اپنی حاکمیت اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے ثابت قدمی اور استقامت کے ساتھ کھڑا ہے۔

مذکورہ بالا اجازت اور ایرانی وزیر خارجہ کا بیان پاکستان کے لیے مُشکلات میں عارضی کمی کی دلالت کرتا ہے لیکن مستقبل کا خاکہ کیا ہوگا، یہ کہنا مُشکل ہے۔

پاکستان میں ایل پی جی سپلائی کا بحران اتنا سنگین نہیں ہوا جتنا خطے کے دوسرے ممالک خاص طور پر بھارت میں ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ پاکستان میں ایل پی جی پہلے ہی دوسرے ممالک سے زیادہ مہنگی تھی، تفصلی وجوہات کچھ اِس طرح سے ہیں۔

جنوبی ایشیا میں توانائی کا بحران

جنوبی ایشیا میں حالیہ مہینوں کے دوران ایل پی جی کی قیمتوں اور سپلائی کے حوالے سے غیر معمولی صورتحال دیکھنے میں آئی ہے۔ بھارت، بنگلہ دیش اور خطے کے بعض دیگر ممالک میں نہ صرف ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا بلکہ کئی علاقوں میں گیس کی قلت، لمبی قطاریں اور عوامی احتجاج بھی دیکھنے میں آئے۔

اس کے برعکس پاکستان میں ایل پی جی کی قیمتوں میں نسبتاً استحکام دیکھا گیا، جبکہ کسی بڑے پیمانے پر سپلائی بحران یا احتجاجی مظاہروں کی اطلاعات سامنے نہیں آئیں۔

یہ صورتحال بظاہر حیران کن محسوس ہوتی ہے کیونکہ پاکستان خود بھی توانائی کے بحران کا شکار رہتا ہے، تاہم اگر خطے کی توانائی پالیسیوں، سپلائی چین اور مارکیٹ کے ڈھانچے کا تجزیہ کیا جائے تو اس فرق کی کئی وجوہات سامنے آتی ہیں۔

عالمی توانائی منڈی اور اس کے اثرات

سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جنوبی ایشیا کے زیادہ تر ممالک ایل پی جی کے لیے بڑی حد تک عالمی منڈی اور خصوصاً خلیجی ممالک پر انحصار کرتے ہیں۔ جب عالمی سطح پر تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے یا مشرق وسطیٰ میں جغرافیائی کشیدگی پیدا ہوتی ہے تو اس کا براہ راست اثر اس خطے کی توانائی مارکیٹ پر پڑتا ہے۔ حالیہ عرصے میں عالمی سپلائی چین کے مسائل، جغرافیائی کشیدگی اور توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب نے گیس کی قیمتوں کو متاثر کیا۔

اس کے نتیجے میں جنوبی ایشیائی ممالک کو زیادہ درآمدی اخراجات برداشت کرنا پڑے، جس کا بوجھ بالآخر صارفین پر منتقل ہوا۔

بھارت میں قیمتوں میں اضافہ اور عوامی ردعمل

بھارت میں ایل پی جی گھریلو توانائی کا ایک اہم ذریعہ ہے جس کی قیمت میں حالیہ دنوں میں 60 روپے کا اِضافہ کردیا گیا جس کے باعث عوام کو مشکلات کا سامنا ہے۔

حالیہ مہینوں میں حکومت کی جانب سے سبسڈی میں کمی اور عالمی قیمتوں میں اضافے کے باعث ایل پی جی کے نرخوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ قیمتوں میں اضافے کے بعد کئی شہروں میں صارفین کو سلنڈر حاصل کرنے کے لیے لمبی قطاروں میں کھڑا ہونا پڑا، جبکہ سپلائی میں رکاوٹ اور بلیک مارکیٹ کی شکایات بھی سامنے آئیں۔

اس صورتحال نے سیاسی رنگ اختیار کیا اور مختلف سیاسی جماعتوں نے حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے۔ بھارت کے بعض علاقوں میں مہنگی گیس کے باعث لوگ دوبارہ لکڑی، کوئلہ اور دیگر روایتی ایندھن استعمال کرنے پر مجبور ہو گئے، جس سے شہری زندگی اور ماحول دونوں متاثر ہوئے۔

بنگلہ دیش اور دیگر ممالک کی صورتحال

بنگلہ دیش میں بھی توانائی کا بحران پہلے سے موجود تھا اور ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔

درآمدی گیس کی قیمت بڑھنے سے گھریلو صارفین کے لیے گیس مہنگی ہوگئی جبکہ بعض صنعتی شعبوں کو گیس کی محدود فراہمی کا سامنا کرنا پڑا۔

اسی طرح سری لنکا اور دیگر جنوبی ایشیائی ممالک بھی توانائی کے دباؤ کا شکار رہے۔ معاشی مشکلات اور درآمدی اخراجات میں اضافے نے ان ممالک کی توانائی مارکیٹ کو غیر مستحکم کردیا۔

پاکستان میں قیمتوں کے استحکام کی بنیادی وجوہات

اگرچہ پاکستان بھی توانائی کے مسائل سے دوچار ہے، تاہم ایل پی جی کے معاملے میں چند عوامل ایسے ہیں جنہوں نے حالیہ بحران کے اثرات کو کسی حد تک محدود رکھا۔

مقامی پیداوار کا کردار

پاکستان میں ایل پی جی کا ایک قابل ذکر حصہ مقامی سطح پر پیدا ہوتا ہے، یہ پیداوار گیس فیلڈز اور آئل ریفائنریز سے حاصل ہوتی ہے۔ اس مقامی سپلائی کی وجہ سے پاکستان مکمل طور پر درآمدی گیس پر انحصار نہیں کرتا۔

مقامی پیداوار مارکیٹ کو ایک حد تک سہارا دیتی ہے اور عالمی قیمتوں میں اچانک اضافے کے اثرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

اوگرا کا ریگولیٹری نظام

پاکستان میں ایل پی جی کی قیمتوں کا تعین ایک باقاعدہ ریگولیٹری نظام کے تحت کیا جاتا ہے۔ اوگرا ہر ماہ عالمی قیمتوں، درآمدی لاگت اور مقامی سپلائی کو مدنظر رکھتے ہوئے نئی قیمت مقرر کرتی ہے۔

اس ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کے باعث قیمتوں میں اچانک بڑا اضافہ نہیں ہوتا بلکہ تبدیلی بتدریج آتی ہے، اس طریقہ کار سے صارفین پر پڑنے والا فوری دباؤ کم ہو جاتا ہے۔

نجی شعبے کا کردار اور سپلائی کے متنّوع ذرائع

پاکستان میں ایل پی جی کی درآمد اور تقسیم میں نجی شعبہ اہم کردار ادا کرتا ہے۔ مختلف کمپنیاں مختلف ممالک سے گیس درآمد کرتی ہیں، جس سے سپلائی کے ذرائع متنّوع رہتے ہیں۔ اگر کسی ایک ملک سے سپلائی متاثر ہو جائے تو دیگر ذرائع سے گیس حاصل کرنے کا امکان موجود رہتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں مکمل سپلائی بحران کی صورتحال پیدا نہیں ہوئی۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان میں ایل پی جی کی قیمت پہلے ہی خطے کے بعض ممالک کے مقابلے میں زیادہ سمجھی جاتی ہے۔

اس لیے عالمی قیمتوں میں حالیہ اضافے کا اثر یہاں اتنا نمایاں محسوس نہیں ہوا جتنا کہ ان ممالک میں ہوا جہاں پہلے قیمتیں نسبتاً کم تھیں۔

احتجاج نہ ہونے کی وجوہات

پاکستان میں بڑے پیمانے پر احتجاج نہ ہونے کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ کئی شہری علاقوں میں اب بھی پائپ لائن کے ذریعے قدرتی گیس دستیاب ہے۔ اگرچہ سردیوں میں گیس کی لوڈشیڈنگ ایک عام مسئلہ ہے، مگر اس کے باوجود بہت سے گھرانوں کے پاس ایل پی جی کے علاوہ متبادل ذریعہ موجود ہے، اس کے برعکس بھارت اور بنگلہ دیش میں کروڑوں گھرانوں کا مکمل انحصار سلنڈر گیس پر ہے۔ اس لیے سپلائی میں معمولی رکاوٹ بھی فوری بحران پیدا کردیتی ہے۔

مستقبل کے چیلنجز

یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ پاکستان اس مسئلے سے مکمل طور پر محفوظ ہے۔ عالمی توانائی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ، درآمدی اخراجات میں اضافہ اور مقامی گیس ذخائر میں کمی جیسے عوامل مستقبل میں پاکستان کے لیے بھی چیلنج بن سکتے ہیں، اگر عالمی قیمتیں مزید بڑھتی ہیں یا سپلائی چین میں بڑی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو پاکستان کو بھی ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑ سکتا ہے۔

توانائی پالیسی میں اصلاحات کی ضرورت

ماہرین کے مطابق پاکستان کو توانائی کے شعبے میں طویل مدتی حکمت عملی اپنانا ہوگی، اس میں مقامی گیس کی پیداوار بڑھانے، متبادل توانائی کے ذرائع کو فروغ دینے اور توانائی کے استعمال میں کفایت شعاری کو فروغ دینے جیسے اقدامات شامل ہیں۔

اس کے علاوہ ایل پی جی کے ذخائر میں اضافہ، درآمدی معاہدوں میں تنوع اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا بھی اہم ہوگا۔ جنوبی ایشیا میں ایل پی جی کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ بنیادی طور پر عالمی توانائی مارکیٹ کی صورتحال کا نتیجہ ہے۔

مزید پڑھیں: عوام کے لیے بُری خبر، اوگرا نے ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ کردیا

بھارت اور بنگلہ دیش جیسے ممالک میں درآمدی انحصار زیادہ ہونے اور سبسڈی پالیسی میں تبدیلی کے باعث بحران زیادہ نمایاں ہوا، جبکہ پاکستان میں مقامی پیداوار، ریگولیٹری نظام اور سپلائی مینجمنٹ نے وقتی طور پر اس بحران کے اثرات کو محدود رکھا، تاہم عالمی توانائی کی غیر یقینی صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ ضروری ہے کہ پاکستان توانائی کے شعبے میں طویل مدتی اصلاحات پر توجہ دے تاکہ مستقبل میں کسی بھی عالمی بحران کے اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پنجاب میں ایگری انٹرن پروگرام کے مثبت اثرات، گندم کی پیداوار میں اضافہ

انجری کے بعد واپسی مشکل، نیمار ایک بار پھر برازیل کے اسکواڈ سے باہر

سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے زراعت، معاشی سلامتی اور عوامی بہبود پر کیا اثرات پڑسکتے ہیں؟

آج سونے کی فی تولہ قیمت میں کتنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا؟

سلیم خان کو وینٹی لیٹر سے ہٹا دیا گیا، گھر کب جائیں گے؟

ویڈیو

اسلام آباد کا عید بازار جہاں خواتین کے لیے رنگ برنگے اسٹالز موجود ہیں

وی ایکسکلوسیو، شہباز شریف عوام کو ریلیف بجٹ دیں اور بتائیں کہ موجودہ مشکلات ختم ہوجائیں گی: خرم دستگیر

کیا آپ کی غلطیاں آپ کو جینے نہیں دے رہیں، دل کو ری سیٹ کیسے کریں؟

کالم / تجزیہ

پاک افغان تعلقات: ایک پہلو یہ بھی ہے

صحافت کا افتخار اور فیض صاحب کا مرثیہ

کھلے دل سے اعتراف اور قصہ ’رمضان عیدی‘کا