ہر دور حکومت میں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے کہا جاتا ہے کہ بڑی جماعتیں اقتدار میں آتے ہی نیب قوانین میں ترامیم کر دیتی ہیں جس کے بعد ان کے خلاف کیسز ختم ہو جاتے ہیں، وزیراعظم شہباز شریف، سابق وزرائے اعظم نواز شریف، راجا پرویز اشرف، یوسف رضا گیلانی، شوکت عزیز اور سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف مختلف احتساب عدالتوں میں زیرِ سماعت مقدمات ختم ہو چکے ہیں جبکہ سابق وزیرِاعظم عمران خان کو دو نیب ریفرنس میں قید کی سزا ہو چکی ہے۔
گزشتہ روز بھی لاہور کی احتساب عدالت نے قومی احتساب بیورو (نیب) کی درخواست منظور کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے خلاف چوہدری شوگر ملز کیس میں تحقیقات بند کرنے کی حتمی منظوری دے دی ہے۔
مزید پڑھیں: نیب کیس میں سزا پوری کرنے والا ملزم سپریم کورٹ سے بری
اس سے قبل بھی نواز شریف، یوسف رضا گیلانی، راجا پرویز اشرف اور شوکت عزیز کے خلاف دائر ریفرنس واپس ہوچکے ہیں جبکہ توشہ خانہ سے گاڑیاں حاصل کرنے پر سابق وزیرِاعظم نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی اور سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس احتساب عدالت میں زیرِ سماعت تھا اور استغاثہ کے مطابق یہ 12 کروڑ روپے کی کرپشن کا ریفرنس ہے جبکہ نیب قوانین کے مطابق 50 کروڑ سے کم مالیت کے مقدمات پر احتساب عدالت کا دائرہ اختیار نہیں بنتا اس لیے ریفرنس نیب کو واپس بھیج دیا گیا تھا۔
سابق وزیرِاعظم و اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف کے خلاف 6 رینٹل پاور ریفرنسز 7 سال سے زیرِ سماعت تھے تاہم نیب قوانین کے بعد وہ ریفرنس بھی واپس بھجوا دیے گئے تھے، ان ریفرنسز میں ریشماں، گلف، سمندری، رتوڈیرو، کارکے اور ستیانہ رینٹل پاور کے معاملات شامل ہیں۔
شہباز شریف کے خلاف بند ہونے والے کیسز کی تفصیلات
نیب نے سنہ 2019 میں بہاولپور میں 14 ہزار 400 کینال سرکاری اراضی منتقل کرنے پرانکوائریاں شروع کی تھیں لیکن اس نے 29 نومبر 2022 کو وزیراعظم شہباز شریف کے خلاف 2 مقدمات کی انکوائریاں بند کرنے کی منظوری دے دی۔
نیب کی جانب سے یہ کہا گیا کہ 3 سالوں کے دوران تحقیقات کے باوجود کرپشن کے ثبوت نہیں ملے اس لیے گورنر پنجاب بلیغ الرحمان، وزیرِ داخلہ رانا ثنااللہ کے خلاف آمدن سے زیادہ اثاثوں کی تحقیقات، (ن) لیگی رہنما شاہنواز رانجھا اور رانا مشہود کے خلاف بھی انکوائری بند کردی گئی۔
دوسری جانب پنجاب کے علاقے چنیوٹ میں سرکاری خزانے سے شوگر ملز کا گندہ نالہ بنوانے کے الزام میں وزیراعظم شہباز شریف اور سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کے خلاف رمضان شوگر ملز ریفرنس بھی 7 ستمبر 2022 کو لاہور کی احتساب عدالت نے نیب کو واپس بھیج دیا تھا۔
سابق صدر آصف زرداری اور ان کے ساتھیوں کے خلاف ریفرنس بھی واپس
سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کے ساتھی اومنی گروپ کے انور مجید و دیگر کے خلاف اربوں روپے کی مشکوک ٹرانزیکشن پر نیب نے جعلی اکاؤنٹس سے متعلقہ 21 ریفرنس دائر کیے تاہم نیب قوانین میں ترامیم کے بعد 17 جنوری کو 21 میں سے 14 ریفرنس نیب کو واپس بھیج دیے گئے اور بعد ازاں 25 جنوری 2023 کو آصف علی زرداری کے خلاف پارک لین ریفرنس بھی واپس کردیا گیا تھا۔
اسی طرح مختلف نیب عدالتوں نے پیپلز پارٹی کی سینیٹر روبینہ خالد کے خلاف لوک ورثہ میں مبیّنہ خورد برد ریفرنس، یوسف رضا گیلانی کے خلاف یو ایس ایف فنڈ ریفرنس، سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور اعجاز ہارون کے خلاف کڈنی ہلز ریفرنس اور سابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سردار مہتاب عباسی کے خلاف پی آئی اے ریفرنسوں کو واپس بھجوا دیا گیا تھا۔
وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زیادہ اثاثوں کا ریفرنس 2017 میں دائر کیا گیا اور سماعت کے دوران تفتیشی افسر سمیت 42 گواہان کے بیانات قلمبند ہوئے لیکن 22 نومبر 2022 کو یہ ریفرنس بھی نیب کو واپس کردیا گیا۔
ذرائع کے مطابق احتساب عدالتیں اب تک 300 کرپشن ریفرنسز دائرہ اختیار ختم ہونے پر واپس کرچکی ہیں۔
سابق وزیرِاعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ 2 اور القادر ٹرسٹ کیس میں سزائیں ہو چکی ہیں، گزشتہ سال کے آغاز میں 17 جنوری 2025 کو 190 ملین پاؤنڈ کیس میں عمران خان کو 14 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ جبکہ ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 7 سال قید اور 5 لاکھ روپے کی سزا سنا دی گئی تھی۔
اس کے بعد دسمبر 2025 میں اسپیشل جج سینٹرل ارجمند شاہ نے اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی موجودگی میں توشہ خانہ 2 کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے دونوں کو مجموعی طور پر 17،17 سال قید کی سزا سنائی۔
اسلام آباد کی احتساب عدالت نے وفاقی وزیرِ اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زیادہ اثاثہ جات ریفرنس نیب کو یہ کہتے ہوئے واپس بھجوا دیا تھا کہ نئے ترمیمی ایکٹ کے تحت ہمارا دائرہ اختیار نہیں۔
ریفرنس میں وفاقی وزیر اسحاق ڈار، سابق صدر نیشنل بینک سعید احمد، نعیم محمود اور منصور رضا رضوی نامزد تھے۔ نیب کی جانب سے اسحاق ڈار سمیت دیگر ملزمان کے خلاف دسمبر 2017 میں ریفرنس دائر کیا گیا تھا اور اس سلسلے میں تفتیشی افسر سمیت 42 گواہان کے بیانات قلمبند کیے گئے۔
چوہدری پرویز الٰہی پر خزانے کو 300 ارب روپے کا نقصان پہنچانے کا کیس
نیب نے صوبائی دارالحکومت لاہور کے ماسٹر پلان کی غیر قانونی منظوری سے سرکاری خزانے کو مبینہ طور پر 300 ارب روپے کا نقصان پہنچانے کے معاملے پر سابق وزیر اعلیٰ اور پاکستان تحریک انصاف کے صدر چوہدری پرویز الہی کے خلاف ریفرنس دائر کر کھا ہے اور رواں سال جنوری میں احتساب عدالت نے گجرات میں ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ کرپشن کیس میں سابق وزیر اعلیٰ پرویز الٰہی سمیت دیگر پر فرد جرم عائد کردی ہے۔
نیب ذرائع کے مطابق 95 مربع کلومیٹر زمین تعمیرات اور نئی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے لیے مختص کرکے ڈویلپرز کو نوازا گیا ہے۔ سابق وزرائے اعلیٰ عثمان بزدار اور پرویز الٰہی پر بڑے ریئل اسٹیٹ ڈویلیپرز سے ملی بھگت کرکے گرین ایریاز کو براؤن میں تبدیل کروانے کا الزام ہے جبکہ پرویز الٰہی پر موجودہ اسکیمز سے بیٹرمینٹ فیس معاف کرکے قومی خزانے کو 300 ارب روپے کا نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔
صدر پی ٹی آئی کے بیٹے اور سابق وزیر برائے آبی وسائل مونس الٰہی کے خلاف بھی نیب تحقیقات کر رہا ہے۔ مونس الٰہی پر الزام ہے کہ انہوں نے کچھ وقت میں اسپین میں 40 کروڑ کی جائیدادیں خریدیں اور بارسلونا میں ٹیکسی سروس شروع کی۔ مونس الٰہی کی جائیدادوں کا سراغ لگانے کے لیے نیب لاہور کے خط پر اسپین حکام نے پرویز الٰہی خاندان کی جائیدادوں کی تفصیلات فراہم کر دی ہیں۔
مزید پڑھیں: نواز شریف، آصف زرداری، شہباز شریف سمیت دیگر کے نیب کیسز ختم لیکن عمران خان کے خلاف جاری
ذرائع نے دعویٰ کیاکہ ان جائیدادوں میں 3 پارکنگ پلازہ، ایک اسٹوریج ہال، بارسلونا میں ہوٹل، ایک ملٹی اسٹوری پلازہ، کیناری جزیروں پر مختلف جائیدادیں، پھلوں کے باغ اور ایک ٹیکسی سروس شامل ہے۔
نیب ذرائع کے مطابق مونس الٰہی کے پاس اسپین کا رہائشی پرمٹ ہے اور تمام سرمایہ کاری پرمٹ پر کی جا رہی ہے۔














