چیونٹیوں کی سمگلنگ کا الزام، چینی اور کینیائی شہری گرفتار

بدھ 18 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کینیا میں ایک چینی شہری ژانگ کی کِن اور اس کے کینیائی ساتھی چارلس موانگی کو غیر قانونی طور پر 2,000 سے زائد زندہ رانی گارڈن چیونٹیاں سمگل کرنے کی کوشش پر گرفتار کر لیا گیا۔

حکام کے مطابق ژانگ کو گزشتہ ہفتے نیروبی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر گرفتار کیا گیا جب اس کے سامان سے بڑی تعداد میں چیونٹیاں برآمد ہوئیں جنہیں یا تو ٹیسٹ ٹیوب میں رکھا گیا تھا یا ٹشو میں لپیٹا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: انسانی اسمگلنگ کے شکار 165 بنگلہ دیشی لیبیا سے وطن لوٹ آئے

عدالت میں پیش کی گئی تفصیلات کے مطابق ژانگ نے یہ چیونٹیاں موانگی سے 10,000 کینیا شلنگز ($77) فی 100 چیونٹیوں کے حساب سے خریدی تھیں۔ حکام نے بتایا ہے کہ یورپ اور ایشیا میں گارڈن چیونٹیوں کی بڑھتی ہوئی مانگ پائی جاتی ہے جہاں انہیں پالتو جانور کے طور پر رکھا جاتا ہے۔

حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ ژانگ کی یہ کوشش ذاتی استعمال کے لیے تھی یا فروخت کے مقصد سے، البتہ اس کا سامان چین بھیجا جا رہا تھا۔ دونوں افراد پر جرم کرنے کی سازش کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں اور وہ اب بھی حراست میں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: روزگار کی فراہمی سے اسمگلنگ کے خلاف کارروائی تک، اس سال بلوچستان حکومت کی کارکردگی کیسی رہی؟

مزید تحقیقات کے دوران موانگی کے خلاف بھی ایک اور غیر قانونی کاروبار کا الزام سامنے آیا، جب اسے ایک علیحدہ موقع پر مزید زندہ چیونٹیاں برآمد کرتے ہوئے پایا گیا۔

ژانگ کے وکیل ڈیوڈ لُسویٹی نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ دونوں افراد کو قانون کی خلاف ورزی کا علم نہیں تھا اور انہوں نے یہ سمجھا کہ یہ کاروبار ان کے لیے روزگار کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ’پشپا‘ طرز کی اسمگلنگ ناکام، 25 لاکھ روپے مالیت کی منشیات برآمد

عدالت نے دونوں کو 27 مارچ کو دوبارہ پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ کینیا وائلڈ لائف سروس کے ایک سینئر اہلکار کے مطابق مزید گرفتاریاں متوقع ہیں، کیونکہ تحقیقات دیگر شہروں تک پھیلائی جا رہی ہیں جہاں چیونٹیوں کی سمگلنگ کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال مئی میں کینیا کی عدالت نے چار افراد کو ہزاروں زندہ رانی چیونٹیوں کی غیر قانونی سمگلنگ کے جرم میں ایک سال قید یا $7,700 (£5,800) جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp