پاکستان میں بھارت کا اصل ہدف کیا ہے؟

پیر 30 مارچ 2026
author image

آصف محمود

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارتی سرپرستی میں خیبر پختونخوا سے بلوچستان تک مذہبی اور بی ایل اے جیسے سیکولر دہشتگردوں کا جو مشترکہ نیٹ ورک فعال ہو چکا ہے ، اس کے اہداف کیا ہیں؟  کیا اس کے نشانے پر صرف سی پیک سے جڑے امکانات ہیں یا ان پراکسیز کے ذریعے پاکستان اور امریکا کے مشترکہ معاشی مفادات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے؟

چند ماہ پہلے یروشلم سٹریٹیجک ٹربیون میں  ڈینیئل رنڈے نے لکھا تھا :  وہ وقت اب بہت قریب آن پہنچا ہے جب دنیا میں دولت کے اعتبار سے پاکستان کا مقام وہی ہوگا جو آج سعودی عرب کا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  معلوم یہ ہوتا ہے کہ خطے میں موجود بھارتی پراکسی کے نشانے پر پاکستان کا یہی معاشی مشتقبل ہے۔

  ڈینیئل رنڈے کوئی ایرا غیرا لکھاری نہیں ہے۔ اس  کا تعلق ڈونلڈ ٹرمپ ہی کی سیاسی جماعت سے ہے۔ ہاورڈ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہے ۔ واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک، سنٹر فار سٹریٹیجک اینڈ انٹر نیشنل سٹڈیز کا سینیئر نائب صدر ہے۔

وہ لکھتا ہے کہ امریکا کی عسکری ضروریات بدل رہی ہیں۔ اب تک اس کا بڑا انحصار پیٹرول پر تھا جو آگے چل کر نہیں رہے گا۔ ( یہ بات اس نے ایران امریکا جنگ سے سال بھر پہلے لکھی تھی)  ٹیسلاسے مل کر یہ 2027 تک ہزاروں الیکٹرک گاڑیاں فوج کو دینے جا رہا ہے۔ نہ صرف الیکٹرک گاڑیوں کے لیے بلکہ ڈرون، روبوٹ اور دیگر انرجی ویپنز کے لیے امریکا کو ان دھاتوں کی ضرورت ہو گی جو بیٹریوں میں استعمال ہوتی ہیں جیسے لیتھیم، کوبالٹ اور کاپر۔ امریکا کی نیشنل سیکیورٹی کی ترجیح ہو گی کہ ان دھاتوں کا حصول یقینی بنائے۔

اس کے بعد وہ سوال اٹھاتا ہے کہ امریکا ان دھاتوں کا حصول کیسے ممکن بنائے گا؟ اس سپلائی چین پر تو پہلے ہی سے چین کا تسلط قائم ہو چکا ہے۔ دنیا کا 68 فی صد نکل، 40 فی صد کاپر، 59 فی صد لیتھیم، اور 73 فیصد کوبالٹ چین ریفائن کر رہا ہے۔ چین تو اس سب کے حصول کے لیے ایشیا سے آگے لاطینی امریکا اور افریقہ تک امکانات کی دنیا آباد کر چکا ہے۔ اس سے امریکا کی قومی سلامتی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں ۔ ایسے میں امریکا کہاں کھڑا ہوگا اور اس کی ضروریات کیسے پوری ہوں گی؟

اس کا جواب دیتے ہوئے وہ کہتا ہے کہ امریکا کی ضروریات پاکستان سے پوری ہو سکتی ہیں اگر امریکا پاکستان سے اچھے تعلقات قائم کر لے۔ پاکستان کے پاس دیگر قیمتی دھاتوں کے ساتھ ساتھ  کاپر کا دنیا کا پانچواں سب سے بڑا ذخیرہ ہے۔ ریکوڈک میں ابھی تک محفوظ کاپر اورسونے کی مالیت بھی 1 ٹریلین ڈالر ہے۔ (ملین نہیں جناب، ٹرلین یعنی 1,000,000,000,000 ڈالر)۔ کاپر اور سونے کے ذخائر صرف ریکوڈک میں ہی نہیں، گلگت، ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش کے بعض مقامات پر بھی ہیں ۔ چنانچہ وہ لکھتا ہے کہ وہ وقت اب بہت قریب ہے جب دنیا میں دولت کے اعتبار سے پاکستان کا مقام وہی ہو گا جو آج سعودی عرب کا ہے۔

اس سیاق و سباق کے ساتھ جب ہم پاکستان میں دہشتگردی کی لہرکو دیکھتے ہیں تو بات سمجھ میں آ جاتی ہے۔  بھارت اگر اپنی پراکسیز کے ذریعے براستہ افغانستان پاکستان میں کارروائیاں کروا رہا ہے تو اس کا بنیادی ہدف یہ قیمتی دھاتیں ہیں۔ اس علاقے میں دہشتگردی ہو گی تو پاکستان ان دھاتوں سے فوائد حاصل کرنے میں ناکام رہے گا۔

دل چسپ اتفاق یہ ہے کہ جب ان قیمتی دھاتوں کے حوالے سے پاکستان اور امریکا میں بات چیت ہونے لگی تو کچھ مقامی سیاسی عناصر نے بھی اپنا وزن پاکستان کی بجائے دوسرے پلڑے میں ڈال دیا۔ چند ماہ پہلے جب اسلام آباد میں او جی ڈی سی ایل کے زیر اہتمام پاکستا ن منرلز انوسٹمنٹ فورم کا اجلاس ہو ا جس میں دنیا بھر سے لوگ شریک ہوئے تو کچھ اوورسیز عناصر کو سرگرم کیا گیا۔ انہوں نے امریکی وفد کے سربراہ ایرک میئر کو خط لکھا کہ کہ وہ پاکستان نہ جائیں اور اس کانفرنس کا بائیکاٹ کریں۔

یہ مہم اگر چہ ناکا م ہو گئی اور متعلقہ وفود پاکستان آئے لیکن یہ سوال اب بھی باقی ہے کہ اس منرل انوسٹمنٹ فورم کے خلاف یہ سرگرمی کیوں کی گئی؟ یہ سوال اس وقت مزید سنگین ہو جاتا ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ دہشتگرد عناصر کے خلاف کارروائی پر بھی تحریک انصاف کا موقف کچھ اور ہے۔ کسی سیاسی جماعت کے بارے میں بد گمانی نہیں کرنی چاہیے لیکن سیاسی جماعت کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ واضح کرے کہ ہر اہم موقع پر اس کا وزن ریاست کی بجائے دوسرے پلڑے میں کیوں ہوتا ہے۔

جب ڈاٹ ملائے جائیں تو منظر نامہ واضح ہے کہ کے پی اور بلوچستان میں جاری شورش اور دہشتگردی کا اصل ہدف پاکستان کی وہی معاشی قوت ہے جو اسے مستقبل کا سعودی عرب بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ بھارت اپنی پراکسیز کے ساتھ کھل کر سامنے آ چکا ہے ۔

پاکستان میں عمومی تاثر یہی ہے کہ بھارت سی پیک کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے لیکن یہ ادھورا سچ ہے۔ پوراسچ یہ ہے کہ ان قیمتی دھاتوں کے حوالے سے پاکستان اور امریکا میں جو اشتراک کار پیدا ہو رہا ہے اصل میں بھارت کے نشانے پر وہ ہے۔  جے شنکر کے لہجے میں جو بازاری پن آیا ہے وہ بھی اسی فرسٹریشن کا اظہار ہے۔ یہ فرسٹریشن اس لیے بھی ہے کہ پاکستان نے چین اور امریکا کو بیک وقت انگیج کیا ہوا ہے۔ ایک طرف چین کے ساتھ سی پیک آگے بڑھ رہا ہے تو دوسری جانب قیمتی دھاتوں کے حوالے سے امریکا کے ساتھ اشتراک کار کی صورت پیدا ہو چکی ہے۔

پاکستان کے لیے ایک جہان نو پیدا ہو رہا ہے ۔ جس منظر نامے کی ہم حسرت کیا کرتے تھے کہ ہاں کبھی ہم دیکھیں گے، اور ہم نہیں تو ہماری نسلیں دیکھیں گی، وہ منظر نامہ  اس وقت  ہمارے سامنے ہے۔ پاکستان اقوام عالم میں ایک بانکپن کے ساتھ سرخرو کھڑا ہو۔ وہ نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ مشرق وسطی کے معاملات میں بھی اہم حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ اس کی عسکری صلاحیت دنیا  پہلے ہی دیکھ چکی ہے۔ اس کی سفارت کاری بھی اب سامنے کی ایک غیر معمولی حقیقت بن کر ابھر رہی  ہے۔  ساتھ ہی معیشت کے غیر معمولی امکانات بھی پیدا ہو رہے ہیں ۔  ڈینیئل رنڈے اگر لکھ رہا ہے کہ وہ وقت اب بہت قریب آن پہنچا ہے جب دنیا میں دولت کے اعتبار سے پاکستان کا مقام وہی ہو گا جو آج سعودی عرب کا ہے، تو یہ بے سبب نہیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آصف محمود انگریزی ادب اور قانون کے طالب علم ہیں۔ پیشے سے وکیل ہیں اور قانون پڑھاتے بھی ہیں۔ انٹر نیشنل لا، بین الاقوامی امور، سیاست اور سماج پر ان کی متعدد کتب شائع ہوچکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp