پاکستان میں سیاست کرنا خصوصا اقتدار میں رہنا کبھی بھی کسی پارٹی یا کسی لیڈر کیلئے آسان نہین رہا، سیاسی قائدین اور رہنماوں نے بڑی قربانیاں دی ہیں، قید و بند کی صعوبتیں بھگتیں، جلاوطنی کاٹی، کڑا تشدد برداشت کیا یہاں تک کہ وزرائے اعظم تختہ دار پر لٹکا دیئے گئے۔
لیکن کبھی کسی سیاسی جماعت نے ملک دشمن اقدامات نہیں کیئے، بلکہ انہوں پر امن سیاسی جدوجہد کے ذریعے اس کٹھن سفر کو عبور کیا اور وقت نے انہیں اقتدار میں آنے کا دوبارہ موقع دیا۔
پاکستان تحریک انصاف اس واحد سیاسی جماعت کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے، جس نے اپنی اقتدار سے دوری پر ملک دشمنی پر اترنے کو راہ نجات تصور کیا۔
تحریک انصاف کی حالیہ تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جس میں انہوں نے اپنے لیڈر کو جیل سے نکلوانے کیلئے ہر ممکن کوشش کی پھر چاہے وہ ملکی مفادات سے ہی متصادم کیوں نہ ہو۔
گزشتہ روز عمران خان کے بیٹے قاسم نے یورپ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یورپی یونین کی توجہ پاکستان کے اندرونی سیاسی حالات کی جانب مبذول کرائی اور کہا کہ ’پاکستان انسانی حقوق کی شرائط پوری نہیں کر رہا‘۔
اس بات کا مقصد پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان اس جی ایس پی پلس معاہدے کی طرف توجہ دلانا تھا جس کے تحت پاکستان انسانی حقوق سے مشروط یورپی منڈیوں تک ڈیوٹی فری برآمدات پہنچاتا ہے، اور نتیجتا پاکستان کو نہ صرف اربوں ڈالر کا فائدہ ہوتا ہے، بلکہ ملک میں ٹیکسٹائل اور دیگر انڈسٹری چلنے سے ہزاروں پاکستانیوں کو روزگار ملتا ہے۔
تحریک انصاف کی پے درپے ان سازشوں کے نتیجے میں پاکستان اس اہم تجارتی فائدے سے ہاتھ دھو سکتا ہے، لیکن تاحال تحریک انصاف کو اس امر میں ناکامی کا ہی سامنا ہے۔
پی ٹی آئی جب انسانی حقوق کی علمبردار بنتی ہے تو وہ اپنے دور میں مخالفین پر ڈھائے جانے والے مظالم بھول جاتی ہے، جب نیب کو سیاسی مخالفین پر قہر ڈھانے کیلئے ذاتی رکھیل کی طرح استعمال کیا جاتا تھا۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ کس طرح رانا ثنااللہ پر عمران خان کی ایماں پر 15 کلو ہیروئن برآمدگی کا جھوٹا کیس بنا کر جیل میں سڑایا گیا، جہاں انکو نہ صرف گھر والوں سے ملاقات بلکہ عارضہ قلب کی ادویات بھی پہنچانے پر پابندی تھی۔
تحریک انصاف بھول جاتی ہے کہ کیسے انکے مرشد کے احکامات پر نواز شریف اور انکی بیٹی کی جیل میں ملاقات پر پابندیاں تھیں، اور وہ وقت جب انکے لیڈر نے امریکی سرزمین پر کھڑے ہو کر تکبر سے سرشار ہو کر کہا تھا کہ میں نواز شریف کی سیل سے اے سی سمیت تمام سہولیات کا خاتمہ کرونگا۔ تحریک انصاف کے مخالفین پر مظالم کی ایک لمبی داستان ہے جو انکو اور انکے سپورٹرز کو یاد نہیں رہتی۔
سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ تحریک انصاف کا اپنے لیڈر کی رہائی کیلئے ملکی معیشت کے خلاف اقدامات کرنا ہی کیوں ضروری ہے، وہ اندرونی طور پر ایک پر امن جدوجہد بھی تو کر سکتے ہیں، جیسے دیگر پارٹیاں اپنے دور میں کرتی رہی ہیں۔ کیوں انکے لیئے 9 مئی جیسے پرتشدد واقعات کرنا اور ہر وہ کام جس سے ملک کا نقصان ہو کرنا ضروری ہے۔
تحریک انصاف کی ملک دشمنی کی داستان انکے اپنے دور حکومت سے ہی شروع ہو چکی تھی، جب عمران خان نے بطور وزیراعظم یہ محسوس کیا کہ اب انکی حکومت چند دن کی مہمان ہے تو اسی وقت جب عدم اعتماد کی تحریک شدت اختیار کر رہی تھی۔
عمران خان نے اپنے خدشے کی بنا پر عوام کو سبسڈی دینے کا بہانہ بناتے ہوئے بجلی اور پٹرول پر سبسڈی دی۔ عمران خان نے IMF کے فنڈز پر بھی سبسڈی دے دی اور معیشت کے لیے “land mines” رکھ دیے۔ سبسڈی کے پیسے موجود نہ ہونے، عالمی منڈی میں پٹرول کی بڑھتی قیمتوں اور زرمبادلہ پر شدید دباو کے باوجود بغیر ECC کے اپروول یا مکمل اقتصادی منصوبہ بندی کے سبسڈی دی گئی، جس سے حکومت کا مالی توازن مزید خراب ہوا۔
عمران خان کی جانب سے اپنی کرسی جانے کے ڈر سے جان بوجھ کر کیئے گئے ان ملک دشمن اقدامات کے نتیجے میں خزانے پر بوجھ بڑها، زر مبادلہ ذخائر کم ہوئے، فسکل ڈیفیسٹ شوٹ کیا اور ملک بالآخر ڈیفالٹ کے دہانے تک جا پہنچا۔
عمران خان کی حکومت پر عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد پی ڈی ایم کی نئی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی ختم کر کے قیمتیں دوبارہ مارکیٹ ریٹ پر بحال کیں۔
IMF پروگرام کیلئے سخت اور ناگوار شرائط مانیں، امپورٹس پر پابندیاں لگائیں، بجٹ اخراجات میں کٹوتی کے ذریعے مالی توازن بحال کر کے ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچایا گیا لیکن تحریک انصاف سے حکومت کی یہ کامیابی ہضم نہ ہو سکی اور ملک کیلئے ایک اور سازش رچائی گئی۔
اس وقت کے خیبر پختونخوا کے وزیر خزانہ تیمور سلیم جگڑا نے آئی ایم ایف کی وفاق کے ساتھ صوبوں کے بجٹ سرپلس کی شرط کو بنیاد بنا کر IMF کو خط لکھا ڈالا تھا، جس میں کہا گیا کہ خیبر پختونخوا وفاق کو مطلوبہ بجٹ سرپلس نہیں دے سکتا، خط میں یہ بھی کہا گیا کہ وفاقی حکومت نے صوبوں سے مشاورت نہیں کی اور ان پر زبردستی مالی اہداف ڈال دیے۔
اس کے باعث آئی ایم ایف پروگرام خطرے میں پڑ گیا تھا، لیکن وفاق نے جیسے تیسے تمام شرائط پوری کر کے آئی ایم ایف کا قرض پروگرام حاصل کر لیا اور تحریک انصاف کو اس محاز پر بھی منہ کی کھانی پڑی۔
عمران خان خود تو سائفر لہرا کر امریکہ پر یہ الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ امریکہ نے پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر کے انکی حکومت گرائی، لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کی الیکشمن 2024 میں دوسری بار کامیابی سے خود تحریک انصاف نے یہ امید لگائی اور بھرپور کوشش کی کہ وہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کریں اور حکومت پر دباو ڈال کر عمران خان کو جیل سے باہر نکلوائیں۔
اس معاملے کے لیئے صرف زبانی کلامی کوشش نہیں کی، بلکہ PTI سے منسلک اوورسیز سپورٹرز نے امریکی سینیٹرز سے عمران خان کی ہمایت بیان دلوانے کیلئے اربوں ڈالر خرچ کیئے، امریکی لابنگ فرم Fenton/Arlook کو hire کیا گیا، لیکن یہاں بھی تحریک انصاف کو منہ کی کھانی پڑی، نہ لیڈر باہر آیا نہ پاکستان کو کوئی نقصان پہنچا سکے۔
تحریک انصاف کے انہی ملک دشمن اقدامات کے باعث اسٹیبلشمنٹ نہ صرف ان سے اب کسی قسم کی بات چیت پر یقین رکھتی ہے بلکہ انکو ملک دشمن اور غدار وطن بھی قرار دے چکی ہے۔
تحریک انصاف کو ابھی بھی ملک دشمن حرکات سے بعض رہ کر سیاسی دھارے میں واپس آتے ہوئے پر ایک امن سیاسی جدوجہد شروع کرنی چاہیئے تا کہ وہ حکومت میں آنے کے اپنے مقاصد حاصل کر سکیں۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔














