سینیٹ کمیٹی برائے خزانہ نے بینکنگ موبائل ایپ چارجز کا نوٹس لے لیا

بدھ 1 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سینیٹ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات نے بینکنگ موبائل ایپ چارجز کا نوٹس لیتے ہوئے تفصیلات طلب کر لی ہیں۔

اسلام آباد میں سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت منعقدہ کمیٹی کے اجلاس میں  بینکوں کے موبائل ایپ چارجز، ٹیلی کام اخراجات اور یونیورسٹی اساتذہ کی تنخواہوں سمیت متعدد اہم امور پر غور کیا گیا۔

اجلاس میں سینیٹر محمد عبدالقادر شریک ہوئے جبکہ فاروق ایچ نائیک اور انوشہ رحمان، احمد خان نے زوم کے ذریعے شرکت کی، اس کے علاوہ وزارت خزانہ، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، پاکستان بینکس ایسوسی ایشن، میزان بینک، ایچ بی ایل اور دیگر بینکوں کے سربراہان کے ساتھ ٹیلی کام کمپنیوں کے نمائندگان بھی اجلاس میں موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیں: سینیٹ کمیٹی کا اسپیکٹرم کی نیلامی میں تاخیر اظہار تشویش، سائبر فراڈز پر فوری اصلاحات کا مطالبہ

پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے چیئرمین نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ بینکوں کی جانب سے 2 مختلف نوعیت کے چارجز لیے جاتے ہیں، ایک لازمی چارج ہے جو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ہدایت پر ایس ایم ایس سروس کے لیے ہوتا ہے، جبکہ دوسرا چارج صارفین کی رضامندی سے فراہم کی جانے والی اضافی سروسز کے لیے لیا جاتا ہے۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ بینکنگ سیکٹر ٹیلی کام کمپنیوں کو سالانہ تقریباً 25.6 ارب روپے ادا کر رہا ہے جبکہ اس مد میں آمدن 18.7 ارب روپے ہے، یوں بینکوں کو 6.9 ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

مزید بتایا گیا کہ 2018 سے اب تک ٹیلی کام چارجز میں 88 فیصد اضافہ ہو چکا ہے اور ہر بینکنگ ایس ایم ایس پر تقریباً 3.40 روپے وصول کیے جا رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں کتنے فری لانسرز کے پاس بینک اکاؤنٹس ہیں؟

کمیٹی کے چیئرمین نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ لازمی ایس ایم ایس چارجز سے متاثرہ صارفین کی تعداد اور رضامندی سے اضافی سروس لینے والے صارفین کی تفصیلات فراہم کی جائیں، جبکہ بینکوں کی جانب سے ٹیلی کام کمپنیوں کو ادا کی جانے والی مکمل رقم کا ریکارڈ بھی جمع کرایا جائے۔

اجلاس میں پارلیمنٹ ہاؤس میں بجٹ سیشن کے دوران تعینات طبی اور پاکستان ٹیلی ویژن کے عملے کو اعزازیہ نہ دینے کا معاملہ بھی زیر بحث آیا، کمیٹی نے فوری طور پر معاملہ وزیر خزانہ کو بھیجنے کی سفارش کرتے ہوئے عدم عملدرآمد پر کارروائی کی وارننگ بھی دی۔

مزید پڑھیں: لوگ کرپشن اور ہراساں کیے جانے کے سبب ٹیکس اتھارٹی سے ڈیل نہیں کرنا چاہتے، وفاقی وزیر خزانہ کا انکشاف

یونیورسٹی اساتذہ کی تنخواہوں میں گزشتہ 10 سال سے اضافہ نہ ہونے پر بھی کمیٹی نے شدید تشویش کا اظہار کیا اور اسے اساتذہ کے ساتھ ناانصافی قرار دیا, وزیر مملکت برائے خزانہ نے یقین دہانی کرائی کہ اس معاملے پر 15 دن میں رپورٹ پیش کی جائے گی۔

سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی جانب سے پولی یوریتھین لیدر کی درجہ بندی کا معاملہ بھی زیر غور آیا، پاکستان کسٹمز نے اسے ٹیکسٹائل قرار دیا جبکہ تاجر نمائندگان نے اسے لیدر کے زمرے میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا۔ چیئرمین ایف بی آر نے متاثرہ فریقین کو اپیل دائر کرنے کا مشورہ دیا، جس کی کمیٹی نے بھی توثیق کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp