جمعرات کے روز صحافیوں نے مختلف میڈیا اداروں میں برطرفیوں اور کئی اداروں میں تنخواہوں کی بندش کے خلاف قومی اسمبلی کی پریس گیلری سے واک آؤٹ کرتے ہوئے کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔
احتجاج کے دوران درجنوں صحافی پریس گیلری سے نکل کر میڈیا لابی میں جمع ہو گئے، جس پر حکومت نے مذاکرات کے لیے 3 رکنی وفد روانہ کیا۔ وفد میں شازیہ مری، بیرسٹر عقیل ملک اور منزہ حسن شامل تھیں، جنہوں نے مظاہرین سے ملاقات کی اور ان کے مطالبات جلد پورے کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
یہ بھی پڑھیے: سپریم کورٹ: صحافی مطیع اللہ جان کیس میں ٹرائل روکنے کی استدعا مسترد
پارلیمنٹری رپورٹرز ایسوسی ایشن کے صدر ایم بی سومرو نے حکومتی وفد کو مطالبات کا چارٹر پیش کرتے ہوئے پارلیمانی عملدرآمد کمیٹی بنانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا مالکان کو طلب کر کے ہدایت دی جائے کہ وہ صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی تمام واجبات فوری ادا کریں اور جبری برطرفیوں کو واپس لیا جائے۔
بعد ازاں تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی ریٹائرڈ بریگیڈیئر اسلم گھمن نے کورم کی نشاندہی کی، جس پر اراکین کی کم حاضری کے باعث اجلاس کو جمعہ صبح ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔
دریں اثنا قومی اسمبلی نے کثرت رائے سے ‘نیشنل فنڈ فار کلچرل ہیریٹیج بل’ بھی منظور کر لیا۔












