وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں حکومت کے خلاف احتجاج کی کوئی ٹھوس وجہ نہیں بنتی، اور اگر احتجاج کرنا ہی ہے تو اسے اسرائیل اور نیتن یاہو کے خلاف ہونا چاہیے۔
فیصل آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بعض عناصر اپنے سیاسی مفادات کے حصول کے لیے احتجاج کی راہ اختیار کرنا چاہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کا نتیجہ ہے، جس میں حکومت کا براہِ راست کوئی کردار نہیں۔
رانا ثنااللہ نے کہاکہ ابتدا میں توقع تھی کہ یہ جنگ چند ہفتوں میں ختم ہو جائے گی، تاہم اب بھی بعض لوگ ذاتی اور گروہی مفادات کے لیے ملک میں بے چینی پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں، جن کے لیے کوئی گنجائش نہیں۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ معاہدوں پر عمل کررہا ہے، اور وزیراعظم و عسکری قیادت کی کوششوں کے باعث تیل کی فراہمی متاثر نہیں ہوئی۔
ان کے مطابق عالمی برادری اس وقت جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کی طرف دیکھ رہی ہے، لہٰذا سب کو ملک کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔
رانا ثنااللہ نے یہ بھی بتایا کہ وزیراعظم نے حال ہی میں پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 80 روپے کمی کی، تاہم بعض ناگزیر حالات کے باعث قیمتوں میں اضافہ بھی کرنا پڑا۔
انہوں نے ایک بار پھر کہاکہ حکومت کے خلاف احتجاج کا جواز نہیں بنتا، اور اگر احتجاج کرنا ہے تو اسے اسرائیل اور نیتن یاہو کے خلاف ہونا چاہیے۔












