آسٹریلیا کے سب سے زیادہ اعزاز یافتہ فوجیوں میں سے ایک کو منگل کے روز گرفتار کر لیا گیا ہے، جن پر افغانستان میں خدمات انجام دیتے ہوئے نہتے قیدیوں کے قتل کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ پولیس اور مقامی میڈیا کے مطابق یہ کارروائی ایک وسیع جنگی جرائم کی تحقیقات کے بعد کی گئی ہے۔
آسٹریلین فیڈرل پولیس نے بتایا کہ انہوں نے 47 سالہ سابق فوجی کو گرفتار کیا ہے، جسے مقامی میڈیا نے وکٹوریہ کراس حاصل کرنے والے ‘بین رابرٹس اسمتھ’ کے طور پر شناخت کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: کورونا کے دوران گرفتار باپ بیٹے کی تشدد سے موت پر 9 پولیس اہلکاروں کو سزائے موت
فیڈرل پولیس کمشنر ‘کرِسی بیریٹ’ نے صحافیوں کو بتایا کہ ملزم پر الزام ہے کہ وہ 2009 سے 2012 کے درمیان افغانستان میں تعیناتی کے دوران متعدد افراد کے قتل میں ملوث رہا۔ انہوں نے کہا کہ ‘متاثرین اس وقت کسی بھی لڑائی کا حصہ نہیں تھے جب انہیں مبینہ طور پر قتل کیا گیا’۔
ان کے مطابق یہ بھی الزام ہے کہ متاثرین کو یا تو خود ملزم نے گولی ماری یا اس کے ماتحت اہلکاروں نے اس کے احکامات پر انہیں قتل کیا۔ پولیس نے بتایا کہ ملزم پر 5 مقدمات درج کیے جائیں گے جن میں ‘جنگی جرم قتل’ شامل ہے۔
بین رابرٹس اسمتھ آسٹریلین اسپیشل ایئر سروس رجمنٹ کے سابق رکن رہے ہیں اور انہیں افغانستان میں بہادری کے لیے ملک کا سب سے بڑا فوجی اعزاز وکٹوریہ کراس دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: امریکی یہودیوں کی اکثریت غزہ جنگ کی خلاف ہوگئی، اسرائیل کو جنگی جرائم کا مرتکب قرار دیدیا
بعد ازاں 2018 میں آسٹریلوی اخبارات ‘دی ایج’ اور ‘دی سڈنی مارننگ ہیرالڈ’ کی رپورٹس میں ان پر افغان شہریوں اور قیدیوں کے قتل میں ملوث ہونے کے الزامات سامنے آئے، جنہوں نے بعد میں بڑے پیمانے پر تحقیقات کو جنم دیا۔
2020 کی ایک فوجی رپورٹ میں کہا گیا کہ آسٹریلوی اسپیشل فورسز نے 39 افغان شہریوں اور قیدیوں کو غیر قانونی طور پر قتل کیا۔ بین رابرٹس اسمتھ نے ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اپنی بے گناہی کا دعویٰ کیا ہے۔












