سابق سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران دونوں نے پاکستان پر اعتماد کیا اور پاکستان نے خطے میں ایک تاریخی اور مثبت کردار ادا کیا ہے۔
ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا نے تسلیم کی ہے کہ پاکستان ہمیشہ اخلاقی اور قانونی اصولوں پر مبنی مؤقف اختیار کرتا ہے، اور تنازعات کے خاتمے سے نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت کو بھی فائدہ ہوگا۔
یہ بھی پڑھیے: ایران امریکا جنگ بندی پر پاکستان کا عالمی خیرمقدم، سفارتی کوششوں کی بھرپور پذیرائی
مشاہد حسین سید کا کہنا تھا کہ ایران نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کو ناکام بنایا، آبنائے ہرمز اور اپنی عسکری صلاحیت کو اپنے مفاد کے لیے مؤثر انداز میں استعمال کیا، جبکہ امریکا ایران میں حکومت کی تبدیلی کے ایجنڈے میں کامیاب نہ ہو سکا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کا آغاز اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو نے کیا جو ان کے بقول مشرق وسطیٰ کا ‘گینگسٹر’ ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل نے مسلم ممالک کے درمیان تذبذب پیدا کرنے کی کوشش کی تاہم وہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔
سابق سینیٹر نے کہا کہ پاکستان ایک ابھرتی ہوئی طاقت کے طور پر سامنے آیا ہے اور مشرق وسطیٰ کے ممالک بھی اب پاکستان پر اعتماد کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حالیہ تنازع کے بعد امریکا کی ساکھ اور اعتماد کو نقصان پہنچا ہے اور اس پر اعتماد کرنے والے ممالک کو احساس ہوا ہے کہ مشکل وقت میں امریکا نے اسرائیل کو ترجیح دی۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا اور ایران 2 ہفتے کی جنگ بندی پر رضامند، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششیں کامیاب
ان کا کہنا تھا کہ اب ایشیائی ممالک کو اپنے فیصلے خود کرنا ہوں گے اور انہیں اپنی پالیسیوں کے تعین کے لیے واشنگٹن یا لندن پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔














