معروف ماہرِ معاشیات عاطف میاں نے کہا ہے کہ پاکستان کی کامیاب سفارتکاری نے نہ صرف عالمی سطح پر امن کے امکانات کو بڑھایا بلکہ دنیا کو کھربوں ڈالر کا معاشی فائدہ بھی پہنچایا جو پاکستان کی اپنی معیشت سے کئی گنا زیادہ ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں عاطف میاں نے کہا کہ 7 اپریل کو صورتحال اس نہج پر پہنچ چکی تھی جہاں ایک بڑی جنگ کا خدشہ موجود تھا اور جنگ بندی کے امکانات نہایت کم ہو کر تقریباً 5 فیصد رہ گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیے: ایران امریکا جنگ بندی کے بعد پاکستان کا عالمی امیج بہتر، رائے عامہ میں نمایاں مثبت تبدیلی، رپورٹ
ان کے مطابق آخری لمحات میں پاکستان کی قیادت، بالخصوص وزیر اعظم شہباز شریف کی سفارتی کوششوں کے باعث حالات نے ڈرامائی موڑ لیا اور جنگ بندی کے امکانات تقریباً یقینی ہو گئے۔
انہوں نے بتایا کہ جنگ بندی کے اعلان کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں نمایاں بہتری دیکھی گئی، جہاں ایس اینڈ پی 500 میں تقریباً 2.9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ عاطف میاں کے مطابق عالمی منڈیوں کی مجموعی مالیت تقریباً 125 کھرب ڈالر ہے، جس میں اس اضافے کے نتیجے میں تقریباً 3.6 کھرب ڈالر کا اضافہ ہوا۔
How Pakistan made the world over 3 trillion dollars richer
On April 7, the world edged toward Trump's 8pm ultimatum that "a whole civilization will die tonight." By mid-afternoon, Polymarket gave less than a 5% chance for a ceasefire. But then in a flurry of last-minute… pic.twitter.com/fbeOcgDcid
— Atif Mian (@AtifRMian) April 10, 2026
ان کا کہنا تھا کہ اس طرح پاکستان کی سفارتکاری نے دنیا کو اس کی اپنی معیشت سے کئی گنا زیادہ فائدہ پہنچایا، جو ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔
عاطف میاں نے اس پیش رفت کو پاکستان کے لیے عالمی سطح پر ایک مثبت شناخت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک اب ایک امن کے داعی کے طور پر ابھر رہا ہے۔ انہوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ پاکستان اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے نہ صرف عالمی بلکہ اندرونی سطح پر بھی ہم آہنگی، شمولیت اور اتحاد کو فروغ دے گا۔














