ٹرمپ کا کانگریس کو خط، ایران کے ساتھ مسلح کشیدگی کے خاتمے کا اعلان

ہفتہ 2 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس کو لکھے گئے ایک اہم خط میں ایران کے ساتھ جاری مسلح کشیدگی کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی کارروائیاں اب اختتام پذیر ہو چکی ہیں۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب جنگی اختیارات سے متعلق قانونی ڈیڈلائن قریب پہنچ رہی تھی، جبکہ خطے کی صورتحال پر عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران کی نئی پیشکش پر ٹرمپ غیر مطمئن، پاکستان کے ذریعے سفارتی رابطے جاری

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی صدر نے کانگریس کو ارسال کردہ خط میں مؤقف اختیار کیا کہ ایران کے ساتھ جاری فوجی جھڑپیں اب ختم ہو چکی ہیں اور امریکا نے اپنے جنگی مقاصد حاصل کر لیے ہیں۔

خط میں بتایا گیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے دوران کی گئی کارروائیاں محدود نوعیت کی تھیں اور ان کا مقصد مخصوص اہداف کا حصول تھا، جو اب مکمل ہو چکا ہے۔ امریکی انتظامیہ کے مطابق اپریل کے اوائل کے بعد کوئی بڑی فوجی جھڑپ سامنے نہیں آئی۔

یہ خط ایسے وقت میں بھیجا گیا جب امریکی قانون کے تحت صدر کو بیرونِ ملک فوجی کارروائیوں سے متعلق کانگریس کو مقررہ مدت کے اندر آگاہ کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس خط کے ذریعے نہ صرف قانونی تقاضا پورا کیا گیا بلکہ عالمی سطح پر ایک واضح پیغام بھی دیا گیا کہ امریکا اس مرحلے پر مزید کشیدگی نہیں چاہتا۔

دوسری جانب مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکا نے کشیدگی کے خاتمے کا اعلان کیا ہے، تاہم خطے میں امریکی فوجی موجودگی اور نگرانی کا نظام بدستور قائم ہے، جس کے باعث صورتحال پر مکمل اطمینان کا اظہار قبل از وقت قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:امن کے لیے پاکستان کی کوششیں جاری، ایران امریکا حتمی مذاکرات کے کیا امکانات ہیں؟

یہ پیشرفت مشرقِ وسطیٰ میں ممکنہ کشیدگی کے خاتمے کی طرف ایک اہم قدم ہو سکتی ہے، تاہم اس کے عملی اثرات کا دارومدار آنے والے دنوں کی سفارتی اور عسکری صورتحال پر ہوگا۔

’امریکی بحریہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی میں ’قزاقوں‘ کی طرح کام کر رہی ہے‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران ایک متنازع بیان میں کہا ہے کہ امریکی بحریہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے دوران ’قزاقوں‘ کی طرح کارروائیاں کر رہی ہے۔ ان کے اس بیان نے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے جبکہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگی صورتحال پہلے ہی شدید تناؤ کا شکار ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کا کانگریس کو خط، ایران کے ساتھ مسلح کشیدگی کے خاتمے کا اعلان

واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی بحریہ ایران کے خلاف جاری کارروائیوں میں سخت اقدامات کر رہی ہے، جن میں بحری جہازوں اور تیل کی کھیپوں کی ضبطی بھی شامل ہے۔ ان کے مطابق امریکہ نے بعض جہازوں پر قبضہ کیا اور ان کے کارگو اور تیل کو بھی تحویل میں لیا ہے۔

ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم نے جہاز بھی لے لیا، کارگو بھی اور تیل بھی۔ یہ ایک منافع بخش کاروبار ہے، ہم قزاقوں کی طرح ہیں، لیکن ہم مذاق نہیں کر رہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکا نے ایران سے تعلق رکھنے والے کئی بحری جہازوں کو مختلف سمندری راستوں پر قبضے میں لیا ہے، جن میں ایشیائی پانیوں میں موجود ٹینکرز بھی شامل ہیں۔ دوسری جانب ایران پر الزام ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے غیر ملکی بحری جہازوں پر پابندیاں عائد کی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ایران کی نئی پیشکش پر ٹرمپ غیر مطمئن، پاکستان کے ذریعے سفارتی رابطے جاری

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کارروائیوں کے بعد صورتحال مزید بگڑ گئی ہے، جبکہ خطے میں تیل کی سپلائی اور عالمی منڈی متاثر ہوئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

19ویں صدی میں چترال سے انگریز فوج کی جانب سے قبضے میں لیے گئے نایاب قرآنی نسخے کی برطانیہ میں نیلامی

امریکی بحریہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی میں ’قزاقوں‘ کی طرح کام کر رہی ہے، یہ منافع بخش کاروبار ہے، صدر ٹرمپ

قطر کی جانب سے امریکی صدر کو دیے گئے طیارے کی ٹیسٹنگ مکمل، جلد استعمال متوقع

بگ باس 17 کے فاتح کامیڈین منور فاروقی کے گھر بیٹی کی پیدائش

میں بھی ملک کی ترقی کے لیے وقف ایک مزدور ہوں، بنگلہ دیشی وزیراعظم طارق رحمان کا یوم مزدور پر پیغام

ویڈیو

پنجاب حکومت کی ’اپنا کھیت اپنا روزگار‘ اسکیم: لیہ کے بے زمین کسان کیا کہتے ہیں؟

ایندھن کی خریداری میں ہڑبونگ: عوام کی گھبراہٹ کتنی بجا، ملک میں ایندھن کتنا باقی؟

پی ایس ایل: اسٹیڈیمز آباد ہونے پر رونقیں دوبالا، شائقین پرجوش

کالم / تجزیہ

صحافت بمقابلہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس: کون جیتے گا؟

امریکی دبدبہ

چندی گڑھ میں لاہوری