امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس کو لکھے گئے ایک اہم خط میں ایران کے ساتھ جاری مسلح کشیدگی کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی کارروائیاں اب اختتام پذیر ہو چکی ہیں۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب جنگی اختیارات سے متعلق قانونی ڈیڈلائن قریب پہنچ رہی تھی، جبکہ خطے کی صورتحال پر عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران کی نئی پیشکش پر ٹرمپ غیر مطمئن، پاکستان کے ذریعے سفارتی رابطے جاری
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی صدر نے کانگریس کو ارسال کردہ خط میں مؤقف اختیار کیا کہ ایران کے ساتھ جاری فوجی جھڑپیں اب ختم ہو چکی ہیں اور امریکا نے اپنے جنگی مقاصد حاصل کر لیے ہیں۔
Reuters:
1) Trump says Iran war 'terminated,' as war powers deadline arrives
2) Trump says he’s not satisfied with Iran latest proposal for talks pic.twitter.com/xdfYypIkvL— dr. Marina (@mmeeuw) May 1, 2026
خط میں بتایا گیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے دوران کی گئی کارروائیاں محدود نوعیت کی تھیں اور ان کا مقصد مخصوص اہداف کا حصول تھا، جو اب مکمل ہو چکا ہے۔ امریکی انتظامیہ کے مطابق اپریل کے اوائل کے بعد کوئی بڑی فوجی جھڑپ سامنے نہیں آئی۔
یہ خط ایسے وقت میں بھیجا گیا جب امریکی قانون کے تحت صدر کو بیرونِ ملک فوجی کارروائیوں سے متعلق کانگریس کو مقررہ مدت کے اندر آگاہ کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس خط کے ذریعے نہ صرف قانونی تقاضا پورا کیا گیا بلکہ عالمی سطح پر ایک واضح پیغام بھی دیا گیا کہ امریکا اس مرحلے پر مزید کشیدگی نہیں چاہتا۔
US President Donald Trump told lawmakers on Friday that the campaign against Iran has "terminated," as the 60-day clock for Congressional approval ran out. pic.twitter.com/OFwkun30Jp
— CGTN (@CGTNOfficial) May 2, 2026
دوسری جانب مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکا نے کشیدگی کے خاتمے کا اعلان کیا ہے، تاہم خطے میں امریکی فوجی موجودگی اور نگرانی کا نظام بدستور قائم ہے، جس کے باعث صورتحال پر مکمل اطمینان کا اظہار قبل از وقت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امن کے لیے پاکستان کی کوششیں جاری، ایران امریکا حتمی مذاکرات کے کیا امکانات ہیں؟
یہ پیشرفت مشرقِ وسطیٰ میں ممکنہ کشیدگی کے خاتمے کی طرف ایک اہم قدم ہو سکتی ہے، تاہم اس کے عملی اثرات کا دارومدار آنے والے دنوں کی سفارتی اور عسکری صورتحال پر ہوگا۔
’امریکی بحریہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی میں ’قزاقوں‘ کی طرح کام کر رہی ہے‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران ایک متنازع بیان میں کہا ہے کہ امریکی بحریہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے دوران ’قزاقوں‘ کی طرح کارروائیاں کر رہی ہے۔ ان کے اس بیان نے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے جبکہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگی صورتحال پہلے ہی شدید تناؤ کا شکار ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کا کانگریس کو خط، ایران کے ساتھ مسلح کشیدگی کے خاتمے کا اعلان
واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی بحریہ ایران کے خلاف جاری کارروائیوں میں سخت اقدامات کر رہی ہے، جن میں بحری جہازوں اور تیل کی کھیپوں کی ضبطی بھی شامل ہے۔ ان کے مطابق امریکہ نے بعض جہازوں پر قبضہ کیا اور ان کے کارگو اور تیل کو بھی تحویل میں لیا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم نے جہاز بھی لے لیا، کارگو بھی اور تیل بھی۔ یہ ایک منافع بخش کاروبار ہے، ہم قزاقوں کی طرح ہیں، لیکن ہم مذاق نہیں کر رہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکا نے ایران سے تعلق رکھنے والے کئی بحری جہازوں کو مختلف سمندری راستوں پر قبضے میں لیا ہے، جن میں ایشیائی پانیوں میں موجود ٹینکرز بھی شامل ہیں۔ دوسری جانب ایران پر الزام ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے غیر ملکی بحری جہازوں پر پابندیاں عائد کی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ایران کی نئی پیشکش پر ٹرمپ غیر مطمئن، پاکستان کے ذریعے سفارتی رابطے جاری
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کارروائیوں کے بعد صورتحال مزید بگڑ گئی ہے، جبکہ خطے میں تیل کی سپلائی اور عالمی منڈی متاثر ہوئی ہے۔













