امریکا نے امریکا جرمنی سے تقریباً 5 ہزار فوجیوں کے انخلا کا اعلان کر دیا ہے، جسے یورپ میں سیکیورٹی پالیسی میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
پینٹاگون کے مطابق یہ انخلا آئندہ 6 سے 12 ماہ کے دوران مکمل کیا جائے گا، تاہم اس کے باوجود جرمنی میں 30 ہزار سے زائد امریکی فوجی بدستور موجود رہیں گے۔
یہ بھی پڑھیے: مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے پیش نظر فرانس اور جرمنی کا اعلیٰ سطحی جوہری اسٹریئرنگ گروپ کے قیام کا اعلان
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور جرمن چانسلر فریڈرک مرز کے درمیان ایران جنگ کے معاملے پر کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ مرز نے حالیہ بیان میں امریکا کی ایران کے خلاف جنگی حکمت عملی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ‘غیر سوچا سمجھا اقدام’ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں امریکا کو سبکی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان شان پارنل کے مطابق فوجیوں کے انخلا کا فیصلہ یورپ میں فوجی تعیناتی کے جامع جائزے کے بعد کیا گیا ہے، جس میں خطے کی ضروریات اور زمینی حالات کو مدنظر رکھا گیا۔
صدر ٹرمپ نے بھی اس سے قبل عندیہ دیا تھا کہ وہ جرمنی سمیت دیگر یورپی ممالک میں فوجی تعداد کم کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ انہوں نے جرمنی کے علاوہ اٹلی اور اسپین پر بھی ایران تنازع میں ناکافی تعاون کا الزام عائد کیا۔
یہ بھی پڑھیے: ٹرمپ کا کانگریس کو خط، ایران کے ساتھ مسلح کشیدگی کے خاتمے کا اعلان
جرمنی میں رامسٹین ایئر بیس سمیت اہم نیٹو تنصیبات موجود ہیں، جو امریکی اور اتحادی افواج کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔ جرمن حکومت نے امریکا کو محدود تعاون فراہم کیا ہے، جس میں فوجی اڈوں کے استعمال کی اجازت شامل ہے، تاہم براہ راست حملوں کے لیے ان تنصیبات کے استعمال کی اجازت نہیں دی گئی۔
یورپی اتحادیوں اور امریکا کے درمیان ایران جنگ کے باعث اختلافات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کے اثرات دفاعی تعاون پر بھی پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔














