پاکستان: ٹرانس شپمنٹ کا متوقع مرکز

ہفتہ 29 اگست 2026
author image

راحیل نواز سواتی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کو قدرت نے وہ جغرافیائی محل وقوع عطا کیا ہے جہاں سے نہ صرف خطے بلکہ دنیا کے مختلف حصوں کو ملانے والی سمندری تجارتی گزرگاہیں گزرتی ہیں۔ کراچی پورٹ، پورٹ قاسم اور گوادر بڑی بحری معاشی سرگرمی کا دروازہ بننے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اپنی جغرافیائی اہمیت کو دنیا کے لیے ایسی بحری معاشی سہولت میں تبدیل کر دے جس سے دیگر ممالک پاکستان کی بندرگاہوں کو بحری تجارت کے لیے اپنے لیے سہل ذرائع نقل و حمل تسلیم کر لیں۔

یہ ممکن ہے اور اس کے بہت سے معاشی فوائد سے پاکستان مستفید ہو سکتا ہے، لیکن بحری تجارت کے ان تقاضوں اور مطلوبہ عالمی بحری معیار کے حصول کے لیے پاکستان کو بہت محنت کرنا ہو گی۔

ٹرانس شپمنٹ کو ایک سادہ مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ مثلاً ایک بڑے بحری جہاز پر ایک ہزار کنٹینر لدے ہوئے ہیں، جن میں سو سو کنٹینر دس مختلف ممالک کے لیے ہیں۔ بڑا بحری جہاز یہ ایک ہزار کنٹینر لا کر پاکستان کی بندرگاہ تک پہنچاتا ہے اور پاکستان چھوٹے بحری جہازوں کے ذریعے ہر ملک کے سو سو کنٹینر ان ممالک تک پہنچانے کا بندوبست کر دیتا ہے تو یہ ٹرانس شپمنٹ کہلائے گی۔ یعنی بڑے بحری جہاز کا مال کسی ایک بندرگاہ پر اتار کر وہاں سے چھوٹے بحری جہازوں کے ذریعے مختلف منزلوں تک پہنچانا ٹرانس شپمنٹ کا بنیادی تصور ہے۔

اس نظام کے لیے کسی ملک کے بڑے بحری جہاز کا مال کراچی یا گوادر کی بندرگاہ پر آنے کے بعد وہاں سے آگے بھیجنے کے لیے چھوٹے بحری جہازوں، مسلسل اور باقاعدہ سروس اور مناسب و مسابقتی کرایے کی فراہمی کا بندوبست انتہائی بنیادی ضرورت ہے۔ اگر ایک شپنگ کمپنی کو یقین ہو کہ اس کا بڑا جہاز پاکستان کی بندرگاہ پر کم وقت میں اپنا مال اتار سکتا ہے، وہاں سے یہ مال مناسب وقت اور کم لاگت میں دوسرے جہازوں پر منتقل ہو سکتا ہے اور آگے مطلوبہ ممالک تک پہنچ سکتا ہے تو پاکستان اس کمپنی کے لیے ایک پرکشش ٹرانس شپمنٹ مرکز بن سکتا ہے۔

بندرگاہوں کا مؤثر انتظامی نظام ہی ان کی عملی صلاحیت اور کارکردگی کی ضمانت ہے۔ پاکستان کو کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر کے انتظامی، ضابطہ جاتی اور تجارتی نظام میں ایسی اصلاحات لانا ہوں گی کہ شپنگ کمپنیوں کو تیز تر، شفاف، قابلِ پیش گوئی اور باہم مسابقتی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ بندرگاہ پر آنے والی شپنگ کمپنی کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اس کے جہاز کو برتھ کب ملے گا، کارگو اتارنے اور دوبارہ منتقل کرنے میں کتنا وقت لگے گا، اس پر کتنی لاگت آئے گی اور کسی غیر ضروری تاخیر کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

اس کے ساتھ ساتھ جدید بندرگاہی انتظام قائم کرنا ناگزیر ہو گا، جس کے تحت بندرگاہوں کے بنیادی ڈھانچے کو بھی عالمی معیار کے مطابق بنانا ہو گا۔ اس میں سمندری لہروں کی شدت روکنے کے لیے موج شکن، بحری جہازوں کی آمد و رفت کے لیے مناسب گہرائی اور چوڑائی کی گزرگاہ، بڑے جہازوں کو رخ تبدیل کرنے کے لیے کشادہ آبی حصہ، گہرے پانی کے برتھ، جدید کرینیں اور جدید کنٹینر ٹرمینلز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کنٹینر رکھنے کے لیے وسیع اور منظم یارڈ، جدید گودام اور سمندر کی تہہ سے مٹی، ریت اور گاد نکال کر مطلوبہ گہرائی برقرار رکھنے کا مؤثر نظام بھی ضروری ہے۔

بڑے بحری جہازوں کی محفوظ آمد و رفت اور تیز رفتار کارگو ہینڈلنگ کے لیے صرف گہرا برتھ کافی نہیں ہو گا۔ بندرگاہ تک پہنچنے والی بحری گزرگاہ، جہاز کے رخ تبدیل کرنے کی جگہ اور برتھ سمیت پورا نظام بڑے جہازوں کی ضروریات کے مطابق ہونا چاہیے۔ اسی طرح جدید اور تیز رفتار کرینیں بھی ضروری ہیں تاکہ جہاز بندرگاہ پر غیر ضروری وقت ضائع کیے بغیر اپنا کارگو اتار سکے۔

ٹرانس شپمنٹ کا کاروبار صرف بندرگاہ کی حدود تک محدود نہیں۔ پاکستان کو اپنی بندرگاہوں کو سڑک، ریلوے اور دیگر اندرونِ ملک ذرائع نقل و حمل سے مؤثر طور پر منسلک کرنا ہو گا۔ کسٹمز کے نظام کو تیز، شفاف اور زیادہ سے زیادہ ڈیجیٹل بنانا ہو گا تاکہ ٹرانس شپمنٹ کارگو غیر ضروری کاغذی کارروائی اور تاخیر کے بغیر ایک جہاز سے دوسرے جہاز تک منتقل ہو سکے۔

شپنگ کمپنی صرف یہ نہیں دیکھے گی کہ پاکستان کی بندرگاہ جغرافیائی اعتبار سے کہاں واقع ہے، بلکہ وہ یہ بھی دیکھے گی کہ مجموعی لاگت کتنی ہے، جہاز کو بندرگاہ پر کتنا وقت لگتا ہے، چھوٹے بحری جہازوں کی سروس کتنی باقاعدہ ہے اور کارگو کو اس کی منزل تک پہنچانے میں کتنی سہولت میسر ہے۔ اس لیے پاکستان کو اپنی بندرگاہوں کو صرف جغرافیائی اعتبار سے موزوں نہیں بلکہ تجارتی اعتبار سے بھی مسابقتی بنانا ہو گا۔

کولمبو اور جبل علی جیسے مراکز پہلے ہی بہت بڑے پیمانے پر ٹرانس شپمنٹ اور کنٹینر کارگو سنبھال رہے ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ صورتحال بظاہر ایک بڑا چیلنج ہے، لیکن اسے ایک بڑے موقع کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ پاکستان کا موجودہ ٹرانس شپمنٹ حجم ان مراکز کے مقابلے میں بہت کم ہے، جس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ اس مارکیٹ میں پاکستان کے لیے ترقی کی بہت بڑی گنجائش موجود ہے۔

پاکستان کے پاس کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر کی صورت میں تین اہم بحری دروازے موجود ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان تینوں بندرگاہوں کو ایک دوسرے کا حریف بنانے کے بجائے ایک مربوط قومی بحری تجارتی نظام کے طور پر ترقی دی جائے۔ کراچی اپنی موجودہ تجارتی اہمیت کے ساتھ، پورٹ قاسم اپنی صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کے ساتھ اور گوادر اپنی جغرافیائی پوزیشن اور گہرے سمندری بندرگاہی امکانات کے ساتھ پاکستان کی بحری معیشت میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

پاکستان کو قدرت نے جغرافیہ دیا ہے، لیکن صرف جغرافیہ کسی ملک کو بحری تجارتی مرکز نہیں بناتا۔ جغرافیائی اہمیت کو معاشی طاقت میں تبدیل کرنے کے لیے مؤثر بندرگاہی انتظام، جدید بنیادی ڈھانچہ، باقاعدہ چھوٹی بحری سروسز، مسابقتی کرائے، تیز کسٹمز، بہتر سڑک و ریلوے رابطے اور سب سے بڑھ کر شپنگ کمپنیوں کا اعتماد حاصل کرنا ہو گا۔ اگر پاکستان یہ تقاضے پورے کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو ٹرانس شپمنٹ نہ صرف بندرگاہوں کی سرگرمی میں اضافہ کر سکتی ہے بلکہ پاکستان کے لیے روزگار، سرمایہ کاری، زرمبادلہ اور مجموعی بحری معیشت کے فروغ کا ایک اہم ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

صومالی قزاقوں کو تاوان ادا نہیں کریں گے، پاکستان عالمی قوانین کا پابند ہے، اسحاق ڈار

ملک کے مختلف علاقوں میں 30 اگست سے 4 ستمبر تک بارشوں کی پیشگوئی، الرٹ جاری

وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی کا بند راستے کھولنے اور انٹرنیٹ سروس کی بحالی کا اعلان، گرین بس سروس کا افتتاح کردیا

بانی پی ٹی آئی کے بیٹوں کے نائیکوپ فعال، ویزے کا بھی کوئی مسئلہ نہیں، تحریک انصاف کا منفی پروپیگنڈا بے نقاب

دیامیر بھاشا ڈیم کا 4500 میگاواٹ بجلی منصوبہ منسوخ نہیں ہوا، وزارتِ اقتصادی امور نے گمراہ کن دعوؤں کو مسترد کردیا

ویڈیو

زینب اور فاطمہ کو بی ایل اے نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا، وزیر داخلہ بلوچستان ضیا لانگو کی متاثرہ خواتین کے ہمراہ پریس کانفرنس

میڈیا طلبہ کی عملی تربیت، وی نیوز میں انٹرن شپ مکمل ہونے پر تقریب

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں