زینب اور فاطمہ کو بی ایل اے نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا، وزیر داخلہ بلوچستان ضیا لانگو کی متاثرہ خواتین کے ہمراہ پریس کانفرنس

ہفتہ 29 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیا لانگو نے الزام عائد کیا ہے کہ کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) خواتین اور کم عمر بچیوں کو اپنے مقاصد اور مبینہ بیانیے کے فروغ کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگرد عناصر خواتین کو پہاڑوں پر لے جا کر نامحرم مردوں کے ساتھ رہنے پر مجبور کر کے  بلوچ معاشرے کی روایات، خواتین کے احترام اور اقدار کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

متاثرہ خواتین کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میر ضیا لانگو نے کہا کہ اگر کسی بلوچ کی ماں، بہن یا بیٹی کسی نامحرم کے ساتھ پہاڑوں میں جا کر رہے اور دشمن کے بیانیے کے تحت کام کرے تو کیا بیرون ملک یا دنیا کے کسی بھی حصے میں رہنے والے بلوچ اپنی خواتین کے بارے میں ایسا تصور قبول کرسکتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں نے بلوچ روایات کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے، خاص طور پر خواتین کے احترام اور ناموس سے متعلق روایات کو۔

انہوں نے پریس کانفرنس میں ساتھ موجود 16 سالہ زینب اور اس کی 12 سالہ کزن فاطمہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں کو بی ایل اے کے شکنجے میں لا کر اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی۔ ان کے مطابق زینب جنوبی بلوچستان کی رہائشی ہے اور اس کے 8 سے 10 رشتہ داروں کو بی ایل اے نے مختلف اوقات میں قتل کیا۔

یہ بھی پڑھیں:بلوچستان میں امن کے لیے سخت فیصلے، ہر دہشتگرد کا پیچھا کیا جائے گا، میر ضیا لانگو

وزیر داخلہ کے مطابق زینب کی 16 سال کی عمر میں سیف نامی شخص سے شادی ہوئی، جو ایک پرامن شہری تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ بی ایل اے کے ایک مقامی کمانڈر نے سیف کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی۔ کمانڈر نے کسی ذریعے سے سیف کا موبائل نمبر حاصل کرکے اس سے رابطہ کیا اور اسے اپنے ساتھ کام کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی، تاہم ناکامی کے بعد مبینہ طور پر سیف کو قتل کردیا گیا۔

میر ضیا لانگو نے کہا کہ سیف کی لاش، اس کا موبائل فون اور دیگر سامان گھر پہنچایا گیا، لیکن کمانڈر کی جانب سے رابطے کی کوششیں ختم نہیں ہوئیں۔ ان کے مطابق اس دوران کمانڈر نے زینب سے بھی رابطہ کیا اور اسے یہ کہہ کر گمراہ کرنے کی کوشش کی کہ اس کے شوہر کو ریاستی اداروں نے قتل کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہی وہ مبینہ جھوٹا بیانیہ ہے جس کے ذریعے دہشتگرد نوجوانوں کو گمراہ کرکے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشتگرد بلوچ معاشرے میں خواتین، بچیوں اور خاندانوں کے احترام سے متعلق روایات کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔

وزیر داخلہ نے بتایا کہ زینب اور اس کی 12 سالہ کزن فاطمہ کو ایک کال کے ذریعے بلایا گیا، جس کے بعد دونوں کو مبینہ طور پر تقریباً 40 روز تک ایک خالی کوٹھری میں رکھا گیا۔ ان کے مطابق اس دوران انہیں مسلسل اپنے بیانیے پر قائل کرنے کی کوشش کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:بلوچستان میں جہاں ضرورت پڑی فل فلیج آپریشن ہوگا، دہشتگردوں کو کسی صورت نہیں چھوڑیں گے، میر ضیاء اللہ لانگو

میر ضیا لانگو نے کہا کہ انٹیلیجنس اداروں نے کارروائی کرکے دونوں بچیوں کو بحفاظت بازیاب کرالیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دہشتگرد تنظیمیں کس طرح خواتین اور کم عمر بچیوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچ معاشرہ خواتین کے احترام کے حوالے سے اپنی روایات کے لیے جانا جاتا ہے اور پاکستانی معاشرے میں بھی خواتین کو بہت بلند مقام حاصل ہے۔ ان کے مطابق حکومت بلوچستان وزیراعلیٰ کی قیادت میں خواتین کو سہولیات فراہم کرنے، ان کی تعلیم پر توجہ دینے، آمدورفت بہتر بنانے اور انہیں اسکالرشپس دینے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

میر ضیا لانگو نے کہا کہ کسی بھی انسان کا ضمیر یہ گوارا نہیں کرتا کہ اس کی ماں، بہن یا بیٹی ایک منٹ کے لیے بھی کسی نامحرم کے ساتھ جا کر رہے۔ ان کے بقول خواتین کو اپنے مقاصد کے لیے پہاڑوں میں رکھنا بلوچ اور بلوچستان کی روایات میں کوئی جگہ نہیں رکھتا۔

انہوں نے دہشتگرد عناصر سے سوال کیا کہ اگر انہیں دہشتگردی کرنی ہے تو وہ خود یہ کارروائیاں کریں، خواتین اور بچیوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیوں کیا جا رہا ہے؟ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس طرز عمل کے ذریعے بلوچ خواتین اور بلوچ معاشرے کی روایات کو بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:صوبہ میں دہشت گردی کیخلاف سیاسی اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہوگا، وزیر داخلہ بلوچستان ضیاء اللہ لانگو

وزیر داخلہ نے کہا کہ دہشتگردی کے لیے خواتین اور بچوں کو استعمال کرنا بلوچ روایات کے منافی ہے اور ایسے عناصر دراصل بلوچ معاشرے کی اقدار سے دور ہوچکے ہیں۔

اس موقع پر متاثرہ 16 سالہ زینب نے بھی پریس کانفرنس میں بلوچی زبان میں اظہار خیال کیا۔ انہوں نے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات بیان کیے اور بی ایل اے کے مبینہ طریقہ واردات، رابطوں اور اپنے مقاصد کے لیے اسے استعمال کرنے کی کوششوں کے بارے میں بتایا۔

میر ضیا لانگو نے کہا کہ حکومت اور ریاستی ادارے خواتین اور عام شہریوں کے تحفظ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے اور دہشتگرد عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بانی پی ٹی آئی کے بیٹوں کے نائیکوپ فعال، ویزے کا بھی کوئی مسئلہ نہیں، تحریک انصاف کا منفی پروپیگنڈا بے نقاب

دیامیر بھاشا ڈیم کا 4500 میگاواٹ بجلی منصوبہ منسوخ نہیں ہوا، وزارتِ اقتصادی امور نے گمراہ کن دعوؤں کو مسترد کردیا

جنوبی خیبر پختونخوا میں ریاستی رِٹ کی بحالی، متوازی طاقت کے مراکز کے خلاف فیصلہ کن کارروائی

’دنیا کے رنگ نرالے‘ امریکا میں روبوٹ ویٹر نے بھی ٹِپ مانگ لی

ایلینز کی تلاش میں انسان کا سب سے بڑا قدم، دنیا کی طاقتور ترین دوربین کی تیاری جاری

ویڈیو

میڈیا طلبہ کی عملی تربیت، وی نیوز میں انٹرن شپ مکمل ہونے پر تقریب

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں