افریقہ کی منڈیوں میں داخلے کا سنہری موقع، یوگنڈا کی پاکستان کو 25 سال تک ٹیکس چھوٹ سرمایہ کاری کی پیشکش

ہفتہ 29 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

یوگنڈا نے پاکستانی سرمایہ کاروں کو زراعت، معدنیات، توانائی اور سیاحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے 25 سال تک کی شاندار ٹیکس چھوٹ کی پیشکش کر دی ہے۔

اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) میں ہونے والے اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ پاکستان اور یوگنڈا کے تعلقات اب محض سفارتی خیر سگالی تک محدود نہیں رہنے چاہییں بلکہ انہیں مضبوط تجارتی شراکت داری میں بدلنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:عالمی ہیلتھ ایمرجنسی کا اعلان: پاکستان بھر کے ہوائی اڈوں پر ایبولا وائرس کی اسکریننگ سخت

یوگنڈا کے ناظم الامور سفیر متتا تواہانے ہفتے کے روز اسلام آباد چیمبر آف کامرس میں تاجروں کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک پاکستانی تاجروں کو سرمایہ کاری اور براہ راست تجارتی روابط قائم کرنے میں ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

اس موقع پر یوگنڈا میں پاکستان کے ڈپٹی ہائی کمشنر بلال محسن نے بتایا کہ یوگنڈا کی جانب سے 10 سالہ ٹیکس ہالیڈے کی پیشکش کی جا رہی ہے، جبکہ گرین فیلڈ منصوبوں کے سرمایہ کار 25 سال تک کی ٹیکس مراعات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

اکتوبر میں پاکستانی وفد کا دورہ اور تجارتی نمائش

یوگنڈا کے سفیر نے اس بات پر زور دیا کہ دیرینہ سفارتی بنیادوں کے باوجود دونوں ممالک کے تعلقات کو وسیع تر تجارت اور سرمایہ کاری میں بدلنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ پاکستانی تاجروں کا ایک وفد اکتوبر میں یوگنڈا کا دورہ کرے، جہاں وہ ایک ہفتے کے بزنس فورم میں شرکت کے علاوہ چائے، کافی، کوکو اور کپاس کے فارمز کا براہ راست جائزہ لے۔

انہوں نے بتایا کہ یوگنڈا کی ‘اقتصادی و کمرشل ڈپلومیسی حکمت عملی 2025’ کے تحت ان کا مشن دوست ممالک کے ساتھ تجارتی و معاشی تعاون کو فروغ دے رہا ہے۔

مزید برآں انہوں نے اسلام آباد یا کمپالا میں پہلی پاک یوگنڈا تجارتی نمائش منعقد کرنے اور دونوں ممالک کے چیمبرز کے درمیان ادارہ جاتی تعاون کے لیے باضابطہ میکانزم بنانے کی بھی تجویز دی۔ سفارتکاری دروازے کھولتی ہے مگر گزرنا کاروبار کو پڑتا ہے۔

آئی سی سی آئی کے صدر سردار طاہر محمود نے کہا کہ افریقہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو اب ایک متحرک تجارتی، تکنیکی اور معاشی شراکت داری کی طرف لے جانا ہوگا۔

مزید پڑھیں:’قانون یورپ والے اور سہولیات یوگنڈا جیسی‘، چالان کرنے پر شہری ٹریفک پولیس پر برس پڑا

انہوں نے پاکستان سے چاول، ادویات، ٹیکسٹائل، سرجیکل آلات، کھیلوں کے سامان اور انجینیئرنگ مصنوعات کو برآمدات کے لیے بہترین قرار دیا، جبکہ یوگنڈا سے کافی، چائے اور زرعی اجناس درآمد کی جا سکتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘سفارت کاری دروازے تو کھول سکتی ہے، لیکن ان دروازوں سے گزر کر اصل منزل تک کاروبار ہی پہنچتا ہے’۔

پاکستان گزشتہ کچھ عرصے سے اپنی سفارتی اور تجارتی پالیسیوں کے تحت افریقی ممالک کے ساتھ معاشی روابط بڑھانے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔

اس حالیہ پیش رفت کا پس منظر بھی گزشتہ چند ماہ کے دوران ہونے والے وہ مذاکرات ہیں جن کا مقصد دونوں ممالک کی تاجر برادری کو قریب لانا تھا۔

سابق صدر آئی سی سی آئی ظفر بختاوری نے اجلاس میں بتایا کہ چیمبر ہمیشہ سے پاک افریقہ تعلقات کی مضبوطی کا حامی رہا ہے اور اسی مقصد کے تحت ہر سال ‘افریقہ ڈے’ منایا جاتا ہے۔

انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان براہ راست فضائی رابطے قائم کرنے اور اسلام آباد میں یوگنڈا کا باقاعدہ سفارتی مشن قائم کرنے پر بھی زور دیا تاکہ مستقبل میں تجارتی اہداف کو باآسانی اور تیزی سے حاصل کیا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

نو منتخب وزیراعظم آزاد کشمیر بیرسٹر افتخار گیلانی کی شاہ غلام قادر سے اہم ملاقات، ناراضی ختم ہونے کا امکان

پمز سانحہ، ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت 8 افسران معطل، وزیراعظم کا ذمہ داروں کے خلاف فوجداری کارروائی کا حکم

ہمارا نظامِ صحت سڑ چکا، سانحہ پمز کی انکوائری رپورٹ سے تمام حقائق سامنے آجائیں گے، وزیر صحت مصطفیٰ کمال

وزیر داخلہ محسن نقوی کا کراچی پاسپورٹ آفس اور ایئرپورٹ کا دورہ، سہولیات میں اضافے کا اعلان

صومالی قزاقوں کو تاوان ادا نہیں کریں گے، پاکستان عالمی قوانین کا پابند ہے، اسحاق ڈار

ویڈیو

ہمارا نظامِ صحت سڑ چکا، سانحہ پمز کی انکوائری رپورٹ سے تمام حقائق سامنے آجائیں گے، وزیر صحت مصطفیٰ کمال

وزیر داخلہ محسن نقوی کا کراچی پاسپورٹ آفس اور ایئرپورٹ کا دورہ، سہولیات میں اضافے کا اعلان

زینب اور فاطمہ کو بی ایل اے نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا، وزیر داخلہ بلوچستان ضیا لانگو کی متاثرہ خواتین کے ہمراہ پریس کانفرنس

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں