زندہ قومیں اپنے یوم آزادی کو شایان شان طریقے سے مناتی ہیں، اہل وطن بھی ہر سال یکم اگست کا چاند طلوع ہوتے ہی جشن آزادی کی تیاریاں شروع کر دیتے ہیں۔
13 اور 14 اگست کی درمیانی شب آتش بازی سے یوم آزادی کا استقبال کیا جاتا ہے۔ 14 اگست کو علیٰ الصباح 31 توپوں کی سلامی دیکر دن کا آغاز کیا جاتا ہے۔
پاکستان کے 76ویں یوم آزادی کی تیاریاں جہاں ملک بھر میں زور و شور سے جاری ہیں وہیں، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی آزادی کے جشن کی تیاریاں عروج پر ہیں۔ دو دن کی دوری پر شہر بے مثال کو دلہن کی طرح سجا دیا گیا ہے۔

برقی قمقمے جہاں اسلام آباد کی مشہور شاہراہ، شاہراہ دستور پر واقع پارلیمنٹ ہاؤس، ایوان صدر، وزیراعظم ہاؤس، سپریم کورٹ، الیکشن آف پاکستان، ریڈیو پاکستان اور دیگر عمارتوں کی شان بڑھا رہے ہیں وہیں نوجوانوں میں یوم آزادی کے بھرپور استقبال کے لیے جوش و جذبہ بھی ابھار رہے ہیں۔

اسلام آباد کی سرکاری عمارتوں کے ساتھ نجی عمارتوں پر بھی بھرپور برقی چراغاں کیا جاتا ہے۔ ہر سال ایک مقابلے کی سی فضا ہوتی ہے اور ہر عمارت وطن کی محبت میں دوسری عمارت پر بازی لے جانا چاہتی ہے۔

خدا کرے میری ارض پاک پر اترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشہء زوال نہ ہو

یہاں جو پھول کھلے وہ کِھلا رہے برسوں
یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو

یہاں جو سبزہ اُگے وہ ہمیشہ سبز رہے
اور ایسا سبز کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو

گھنی گھٹائیں یہاں ایسی بارشیں برسائیں
کہ پتھروں کو بھی روئیدگی محال نہ ہو

خدا کرے نہ کبھی خم سرِ وقارِ وطن
اور اس کے حسن کو تشویش ماہ و سال نہ ہو

ہر ایک خود ہو تہذیب و فن کا اوجِ کمال
کوئی ملول نہ ہو کوئی خستہ حال نہ ہو

خدا کرے کہ میرے اک بھی ہم وطن کے لیے
حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو
(احمد ندیم قاسمی )














