ملک کا نام بھارت یا انڈیا؟ بھارتی حکمران مخمصے کا شکار

منگل 5 ستمبر 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ہندوستان کو آزاد ہوئے 76 برس ہوچکے ہیں مگر وہاں کی حکومت کو تاحال معلوم نہیں کہ ان کے ملک کا نام ’انڈیا‘ ہے یا ’بھارت‘۔

دی انڈین ایکسپریس کے مطابق بھارت میں 9 اور10 ستمبرکو جی20 اجلاس کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ بھارتی راشٹرپتی بھون (ایوان صدر) نے اس حوالے سے مہمانوں کو عشائیے کے دعوت نامے بھیجے ہیں جن میں ملک کے صدر کو ’پریزیڈنٹ آف بھارت‘ تحریر کیا گیا ہے۔

’انڈیا‘ کو ’بھارت‘ کہے جانے پر حزب اختلاف نے اعتراض کیا تھا، جس پر منگل کو برسر اقتدار جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے حزب اختلاف کے رد عمل پر سوال اٹھایا ہے کہ کیا حزب اختلاف کو لفظ ’بھارت‘ پر کوئی اعتراض ہے۔ حتیٰ کہ آسام کے وزیراعلیٰ ہمانتا بسوا شرما نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’X‘ پر لکھ ڈالا، ’جمہوریہ بھارت ۔ یہ خوشی اور فخر کی بات ہے کہ ہماری تہذیب امرت کال کی جانب بےخوفی سے گامزن ہے ۔‘

اس سے قبل 2015 میں بی جے پی کی قیادت میں مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کو آگاہ کیا تھا کہ ملک کا نام ’انڈیا‘ ہے اور اسے ’ہندوستان‘ کے نام سے نہ پکارا جائے۔ مفاد عامہ کی اس قانونی درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ مرکزی اور صوبائی حکومتیں سرکاری اور غیر سرکاری طور پر ملک کا نام ’بھارت‘ استعمال کریں۔ اس درخواست کا جواب دیتے ہوئے مودی حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ بھارتی آئین کے آرٹیکل 1 میں تبدیلی سے متعلق غوروفکر کے لیے حالات و واقعات میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی ہے۔  جبکہ آرٹیکل 1.1 کہتا ہے: ’انڈیا یعنی بھارت، ریاستوں کا اتحاد ہو گا۔‘

بھارتی وزارت داخلہ نے عدالت کے سامنے مؤقف اپنایا کہ جب آئین کا مسودہ تیار کیا گیا تو اس وقت آئین ساز اسمبلی نے ملک کے نام سے متعلق معاملے پرغوروفکر کیا تھا اور آرٹیکل 1 کی شقوں کو متفقہ طور پر منظور کیا تھا۔ حکومت نے یہ بھی نشاندہی کی کہ آئین کے اصل مسودے میں ملک کا نام ’بھارت‘نہیں تھا بلکہ دستور ساز اسمبلی نے بحث کے دوران چند ناموں اور ترکیبوں پر غور کیا تھا جیسا کہ بھارت، بھارت بھومی، بھارت ورش، انڈیا یعنی بھارت، اور بھارت یعنی انڈیا۔

دوسری جانب بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت نے ملکی آئین میں انڈیا کا نام تبدیل کر کے ’بھارت‘ رکھنے کا فیصلہ کرلیاہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی پارلیمنٹ کا اجلاس 18 سے 22 ستمبر تک جاری رہے گا جس میں بھارتی آئین میں ترمیم کرتے ہوئے ملک کا نام صرف ’جمہوریہ بھارت‘ رکھا جائے گا۔

یاد رہے، مودی حکومت اس سے قبل کئی مرتبہ اس بات کا عندیہ دے چکی ہے کہ وہ ملک کا نام ’بھارت‘ رکھنا چاہتی ہے۔ 2022ء میں یوم آزادی کی تقریر میں وزیراعظم مودی نے بھارتی شہریوں سے کہا تھا کہ وہ غلامی کی بچی کھچی نشانیاں مٹا دیں کیونکہ ملک کا نام ’بھارت‘ رکھنا قومی شناخت اپنائے جانے کی علامت ہو گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سفید جادو، مثبت اور مددگار

متحدہ اپوزیشن کی تشکیل پر اتفاق: کیا مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں یہ اتحاد حکومت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے؟

شام کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان مکمل: باہمی تعاون اور تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق

برونائی کے سلطان نے بہو سے شاہی اعزازات کیوں واپس لے لیے؟

عمران خان کو عین وقت پر شفا اسپتال کی بجائے پمز کیوں لے جایا گیا؟ طارق فضل چوہدری نے بتادیا

ویڈیو

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

امریکی صدر پر گانا چرانے کا الزام، گلوکارہ آریانا گرانڈے ڈونلڈ ٹرمپ پر برس پڑیں

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘