چینی کی قیمتوں کا تعین صوبے کریں گے، لاہور ہائیکورٹ نے محفوظ فیصلہ سنادیا

جمعرات 5 اکتوبر 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

لاہور ہائیکورٹ نے چینی کی قیمتیں مقرر کرنے کے نوٹیفکیشن کے خلاف دائر شوگرملز کی درخواستوں پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ چینی کی قیمت مقرر کرنے کا اختیار صوبوں کے پاس ہے۔

جسٹس شاہد کریم کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا۔

درخواستوں کے سماعت کے دوران شوگرملز مالکان کے وکیل شہزاد عطا الٰہی نے موقف اختیار کیا تھا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے چینی کی قیمت مقرر کرنا غیر قانونی ہے، 18ویں ترمیم کے بعد وفاقی حکومت صوبائی معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتی ہے لہٰذا عدالت وفاقی حکومت کی جانب سے چینی کی قیمت کو مقرر کرنے کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے۔

دوسری طرف وفاقی حکومت کے وکیل اسد باجوہ نے شوگر ملز مالکان کی درخواستوں کی مخالفت کرتے ہوئے عدالت کو بتایا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کی روشنی میں وفاقی حکومت چینی کی قیمت مقرر کر سکتی ہے، وفاقی حکومت کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹیفکیشن قانون کے مطابق ہے۔

واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے چینی کی قیمتیں مقرر کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔ وفاقی حکومت کے نوٹیفکیشن کو شوگر ملز کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

دلچسپی و لگن سے عاری نوجوان کرکٹرز کی توجہ کھیل سے زیادہ پیسہ کمانے پر ہے، اقبال قاسم

حکومت سازی کی تیاریاں، آزاد کشمیر کا اگلا وزیراعظم کون ہوگا؟

آزاد کشمیر میں حکومت سازی کی تیاریاں، نواز شریف نے پارٹی کا اہم مشاورتی اجلاس طلب کرلیا

وائٹ ہاؤس کی تاریخ کی کم عمر ترین ترجمان کیرولین لیویٹ کا عہدہ چھوڑنے کا اعلان، وجہ کیا بتائی؟

براڈ پیک پر لاپتا پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی کی لاش مل گئی

ویڈیو

حکومت سازی کی تیاریاں، آزاد کشمیر کا اگلا وزیراعظم کون ہوگا؟

ایران امریکا جنگ میں پاکستان کے ثالثی کردار کی بھرپور حمایت کرتے ہیں، نارویجن وزیرِ خارجہ کی اسحاق ڈار کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس

آزاد کشمیر کے عوام نے عوامی ایکشن کمیٹی کو مسترد کر دیا، تشدد کسی صورت برداشت نہیں ہوگا،  ترجمان آزاد جموں و کشمیر پولیس

کالم / تجزیہ

انڈین خارجہ پالیسی کی ارتھی

ہمیں کاکروچ نہیں، خرگوش چاہییں

13 برس بعد معلوم ہوا