بارکھان واقعہ، پولیس کا صوبائی وزیر عبدالرحمان کھیتران کے گھر پر چھاپہ

بدھ 22 فروری 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پولیس نے خان محمد مری کے 5 بچوں کی بازیابی کے لیے صوبائی وزیر مواصلات عبدالرحمان کھیتران کے گھر پر چھاپہ مارا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق پولیس نے پٹیل باغ کے علاقے میں صوبائی وزیر کے گھر جانیوالے راستوں کو بھی سیل کردیا ، پولیس کی جانب سے عبدالرحمان کھیتران کے مہمان خانے اور گھر کے دیگر حصوں کی تلاشی لی گئی ۔ چھاپے کے دوران لیڈیز پولیس اہلکار بھی موجود تھیں۔

بارکھان کے علاقے میں کنویں سے 3 لاشیں ملی تھیں۔ دکی کے رہائشی خان محمد مری نے دعویٰ کیا تھا کہ تینوں لاشیں اس کی اہلیہ 40 سالہ گرناز، 22 سالہ بیٹے محمد نواز اور 15 سالہ بیٹے عبدالقادر کی ہیں، جو گزشتہ چار برس سے صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران کی نجی جیل میں قید تھے۔

خان محمد مری کے مطابق ان کی اہلیہ اور بچوں پر بدترین ظلم کے ساتھ بھوکا پیاسا بھی رکھا جاتا تھا جبکہ ان کی 14 سالہ بیٹی اور 5 سے 13 برس کے 4 بیٹے اب بھی صوبائی وزیر کی نجی جیل میں قید ہیں جن کی زندگی کو بھی خطرات لاحق ہیں۔

یہ بھی پڑھیے : بارکھان واقعہ پر جے آئی ٹی کی تشکیل، مظاہرین کوئٹہ ریڈ زون پہنچ گئے

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

فیفا کا بڑا فیصلہ، امریکی فٹبالر بالوگن کا ریڈ کارڈ واپس، صدر ٹرمپ کا خصوصی اظہار تشکر

ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ: آسٹریلیا نے انگلینڈ کو شکست دے کر 7 ویں بارعالمی چیمپیئن کا تاج اپنے سر سجا لیا

خاتون کو بچاتے ہوئے گولی لگنے سے شہید ہونے والے گروپ کیپٹن عاصم کا قاتل گرفتار کرلیا گیا

آئی فون کو ٹکر دینے کی تیاری، سام سنگ گلیکسی ایس 27 میں زبردست فیچر متعارف

کل 6 جولائی سے ملک بھر میں موسلا دھار بارشیں، این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کردیا

ویڈیو

پاکستان اور ترکیہ معاشی شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گے، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار

’بھارت نے پانی روکا تو پاکستان بھارت کی لائف لائن بند کر دے گا‘

’مریم کی دستک‘ ایپ کیا ہے اور اس کے ساتھ کتنے ادارے منسلک ہیں؟

کالم / تجزیہ

ریڈیو کا روشن باب: بھائی لال اور اوم پرکاش

بریسٹ کینسر: خوف نہیں، آگاہی کی ضرورت

بھارتی آبی دہشتگردی کا پاکستان کیسے جواب دے؟