روایتی شال: کوئٹہ کی یخ بستہ سردی میں لباس کا اہم جزو

پیر 20 نومبر 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وادی کوئٹہ ان دنوں یخ بستہ ہواؤں کی لپیٹ میں ہے، ایسے میں وادی کے باسیوں نے گرم ملبوسات الماریوں سے نکال لیے ہیں۔ بات ہو گرم ملبوسات کی اور شال کا ذکر نہ ہو ایسا ممکن ہی نہیں۔ ویلوٹ، اون، اسٹیپل سمیت دیگر اقسام کے کپڑوں سے بنی یہ چادریں نہ صرف اوڑھنے کے بعد دلکش نظر آتی ہیں بلکہ جسم کو حرارت فراہم کرنے میں بھی مددگار ہوتی ہیں۔

کوئٹہ میں واقع شال کی دکانوں پر اس وقت خریداروں کا رش نظر آتا ہے، جو نہ صرف اپنے لیے بلکہ دوست احباب اور اہل خانہ کے لیے اسے خریدنے میں دلچسپی رکھتے ہیں، شہر میں دستیاب بیشتر شالیں خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع سے منگوائی جاتی ہیں تاہم سوات کی چادریں شہریوں کی اولین ترجیح ہیں۔

مختلف رنگوں سے بنی ان شالز پرہاتھ سے کی جانے والی کشیدہ کاری سے مختلف ثقافتی کلچر کی جھلک بھی نمایاں ہوتی ہے۔ دکانداروں کے مطابق بلوچستان میں قبائلی رسم رواج کے مطابق سردیوں میں ان شالوں کا استعمال سب سے زیادہ کیا جاتا ہے جبکہ بہت سے مقامی افراد اسے سردیوں کے لباس کا اہم جزو سمجھتے ہیں جو مرد کی شخصیت کو مزید نکھارتا ہے۔

دکانداروں کا موقف ہے کہ یوں تو کئی اقسام کی شالیں کوئٹہ کی مارکیٹوں میں دستیاب ہیں لیکن یہاں کہ لوگ اون سے بنی سادہ شال کو بے حد پسند کرتے ہیں کیونکہ یہ وزن میں کم اور گرم زیادہ ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ ان شالوں کی قیمت بھی عام شالوں کی نسبت زیادہ ہوتی ہے۔ عام طور پر ایک شال 15 سو سے 2 ہزار روپے تک مل جاتی ہے لیکن اعلٰی کوالٹی کی شالوں کی قیمت 10 ہزار روپے تک پہنچ جاتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

‘انڈس اے آئی ویک’ پاکستان میں ڈیجیٹل انقلاب کی طرف ایک قدم

دینی اور دنیوی تعلیم کی روشنی پھیلانے والے جامعہ اشرفیہ کے نابینا مدرس و مدیر انگریزی رسالہ

محمود خان اچکزئی کی بطور اپوزیشن لیڈر نامزدگی پر سابق پی ٹی آئی رہنما کیا کہتے ہیں؟

پاک سعودی دفاعی معاہدے میں تُرکیہ کی شمولیت کا کتنا اِمکان ہے؟

یہ اظہارِ رائے نہیں، یہ سائبر وار ہے

ویڈیو

‘انڈس اے آئی ویک’ پاکستان میں ڈیجیٹل انقلاب کی طرف ایک قدم

دینی اور دنیوی تعلیم کی روشنی پھیلانے والے جامعہ اشرفیہ کے نابینا مدرس و مدیر انگریزی رسالہ

بسنت منانے کی خواہش اوورسیز پاکستانیوں کو بھی لاہور کھینچ لائی

کالم / تجزیہ

یہ اظہارِ رائے نہیں، یہ سائبر وار ہے

دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا

’شام ڈھل جائے تو محسنؔ تم بھی گھر جایا کرو‘