یورپی یونین مصنوعی ذہانت کے لیے قوانین بنانے پر متفق، 3 ممالک نے مخالفت کر دی

ہفتہ 9 دسمبر 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

یورپی یونین چیٹ جی پی ٹی جیسی مصنوعی ذہانت کے لیے قوانین بنانے پر متفق ہوئی ہے، تاہم فرانس، جرمنی اور اٹلی ان قوانین کی مخالفت کر رہے ہیں۔

ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق یورپی یونین نے مصنوعی ذہانت کے لیے قوانین بنانے پر اتفاق کیا ہے، جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ مغربی دنیا میں ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کو کنٹرول کرنے والا یہ پہلا بڑا ضابطہ بننے جا رہا ہے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق یورپی یونین سے وابستہ ممالک نے معاہدے تک پہنچنے کی کوشش میں تجاویز تیار کرنے میں ایک ہفتہ کا وقت لگایا ہے، ان میں تجاویز میں سب سے اہم جنریٹیو اے آئی ماڈلز کو ریگولیٹ کرنے کا طریقہ شامل ہے، جو چیٹ جی پی ٹی جیسے ٹولز بنانے کے لیے استعمال ہوتا ہے اس کے علاوہ اس میں بائیو میٹرک شناخت، جیسے چہرے کی شناخت اور فنگر پرنٹ اسکیننگ کا استعمال بھی شامل ہے۔

جرمنی، فرانس اور اٹلی نے جنریٹیو مصنوعی ذہانت جنہیں ‘فاؤنڈیشن ماڈلز’ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کے ماڈلز کو براہ راست ریگولیٹ کرنے کی مخالفت کی ہے۔

مذکورہ تینوں ممالک کا کہنا ہے کہ وہ اس کے بجائے حکومتوں کی جانب سے متعارف کرائے گئے ضابطہ اخلاق کے ذریعے مصنوعی ذہانت کے پیچھے موجود کمپنیوں سے سیلف ریگولیشن کی حمایت کرنے کے لیے تیار ہیں۔

جرمنی، فرانس اور اٹلی کی تشویش یہ ہے کہ حد سے زیادہ ریگولیشن یورپ کی چینی اور امریکی ٹیک کمپنیوں کے ساتھ مقابلہ کرنے کی صلاحیت کو دباؤ میں لا سکتی ہے۔

واضح رہے کہ جرمنی اور فرانس یورپ کے سب سے زیادہ مصنوعی ذہانت کا استعمال کرنے والے ممالک میں شمار ہوتے ہیں۔ یورپی یونین کا اے آئی ایکٹ اپنی نوعیت کا پہلا ضابطہ اخلاق ہو گا جو خاص طور پر مصنوعی ذہانت کے استعمال کے لیے ہو گا۔ یہ اس قانون کے لیے کوششیں 2021 میں شروع ہوئی تھیں، جب یورپی کمیشن نے پہلی بار مصنوعی ذہانت کے لیے ایک مشترکہ ریگولیٹری اور قانونی فریم ورک کی تجویز پیش کی تھی۔

یہ قانون مصنوعی ذہانت کو “ناقابل قبول” سے لے کر مصنوعی ذہانت کی اعلیٰ، درمیانی اور کم خطرے والی اقسام میں تقسیم کرتا ہے۔

چیٹ جی پی ٹی اور دیگر جنریٹیو اے آئی ٹولز جیسے اسٹیبل ڈسفیوژن، گوگل کے بارڈ اور اینتھروپک کے کلاڈنے مصنوعی ذہانت کے ماہرین اور ریگولیٹرز کو چونکا کر رکھ دیا ہے جو وسیع مقدار میں ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے سادہ سوالات سے جدید جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پورٹ قاسم پر تیل بردار جہاز کی ہنگامی برتھنگ شروع،مزید 2 جہاز جلد پاکستان پہنچے گے

مشرق وسطیٰ بحران: وزیراعظم کی جانب سے کیے گئے کفایت شعاری اقدامات کیا ہیں؟

اسلام آباد: پریس کلب انڈرپاس ٹریفک کے لیے بند، متبادل راستے کیا ہیں؟

آپ کے گھر کا پتا اور ذاتی معلومات آن لائن فروخت ہو رہی ہیں، تدارک کیا ہے؟

وائی فائی سے نگرانی، کیسے رؤٹر دیواروں کے پار انسانی حرکت دیکھ سکتا ہے؟

ویڈیو

تیل کی قیمتوں میں اضافہ، حالات کنٹرول سے باہر ہونے کا خدشہ، امریکا و اسرائیل کو بھاری نقصان، ٹرمپ کی چیخیں

نقاب میں شناخت، چارسدہ کی نوجوان کنٹینٹ کریئیٹر کی کہانی

ڈی بال کی راتیں: رمضان المبارک میں لیاری کی گلیوں کی رونق

کالم / تجزیہ

انڈین کرکٹ ٹیم مسلسل ناقابل شکست کیسے بنی؟

کیا یہ امریکا کی آخری جنگ ہے؟

موکھی متارا: کراچی کی ایک تاریخی داستان