انسداد پولیو کا بجٹ اربوں میں مگر متاثرہ افراد کے لیے حکومت کے پاس کیا ہے؟

اتوار 17 دسمبر 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلام آباد کے مضافاتی علاقے بہارہ کہو کے نسبتاً پسماندہ علاقے میں واقع 3 مرلے کے چھوٹے سے گھر کے دوسرے ’فلور‘ پر رہائش پذیر 26 سالہ علی حمزہ پاکستان کے ان ہزاروں پولیو سے متاثرہ افراد میں سے ایک ہیں جو بچپن میں انسداد پولیو کے قطرے پینے کے باوجود ساری زندگی کے لیے معذوری کا شکار ہیں۔ اپنی ٹانگوں کے سہارے چلنے پھرنے سے محروم حمزہ کے کندھوں پر نا صرف اپنی معذوری کا بوجھ ہے بلکہ ایک بیوی اور 2 بچوں کی کفالت کی ذمہ داری بھی ہے۔

پاکستان میں جہاں پولیو کے خاتمے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کیے جا رہے ہیں۔ کیا پولیو کی وجہ سے ساری زندگی کی معذوری کا شکار افراد کے لیے بھی حکومت کے پاس کوئی پروگرام ہے؟ یا ایسے افراد کی فلاح، تعلیم اور معاشرے میں باعزت روزگار کے لیے حکومت کیا کر رہی ہے؟ وی نیوز نے ان سوالات کے جوابات جاننے کی کوشش کی ہے۔

 پاکستان اور افغانستان دنیا میں پولیو وائرس کا شکار صرف 2 ملک باقی رہ گئے ہیں۔ طویل عرصہ تک نائجیریا پولیو سے متاثرہ تیسرا ملک تھا مگر 2 سال قبل ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے اس افریقی ملک کو بھی پولیو فری قرار دے دیا۔ پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے لیے حکومت، ڈبلیو ایچ او سمیت عالمی اور لوکل این جی اوز بھرپور کام کر رہی ہیں۔

وفاقی حکومت نے پولیو کے خاتمے کے لیے 2022 میں 5 سالہ پلان منظور کیا ہے جس کے تحت تقریباً 800 ملین روپے خرچ کیے جائیں گے۔ اخراجات کے تخمینے کے مطابق 192 ملین اسلامک ڈویلپمنٹ بینک سے حاصل کیے جائیں گے جبکہ 606 ملین پولیو کے خاتمے کے لیے کام کرنے والی عالمی ایجنسی جی پی ای آئی (گلوبل پولیو ایریڈکشن انیشی) فراہم کرے گی۔ مگر کیا حکومتی سطح پر پولیو سے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے بھی کوئی پروگرام یا بجٹ ہے؟

وی نیوز نے یہ سوال پولیو کے تدارک کے لیے قائم نیشنل پولیو پروگرام کے سربراہ ڈاکٹر شہزاد بیگ کے سامنے رکھا۔

ان سے یہ بھی پوچھا گیا کہ کیا پاکستان میں پولیو سے متاثرہ افراد کی فلاح و بہبود کے لیے کوئی پروگرام یا فنڈز مختص کیے گئے ہیں؟

پولیو کا شکار بچوں کی بحالی کے لیے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، ڈاکٹر شہزاد بیگ

ڈاکٹر شہزاد بیگ نے وی نیوز کو بتایا کہ قومی پولیو پروگرام کے تحت 2012 سے پولیو بحالی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں تاکہ پولیو سے معذوری کا شکار بچوں کے معیار زندگی کو بہتر بنایا جا سکے۔ یہ بحالی کی خدمات پولیو کی تصدیق کے چند ہفتوں کے اندر بچے کے گھر پر فراہم کی جاتی ہیں۔

ڈاکٹر شہزاد بیگ وی نیوز کو تفصیلات بتا رہے ہیں

انہوں نے بتایا کہ فراہم کردہ خدمات میں شدید فالج کا شکار بچوں کے لیے آرتھوٹک آلات کی فراہمی، فزیوتھراپی کی مشقیں، جامع تعلیم کے لیے اسکول میں داخلہ اور مشاورت شامل ہیں۔ 2012 سے تقریباً 700 بچے اس پروگرام کے ذریعے باقاعدہ اور مسلسل تعاون حاصل کر رہے ہیں۔

حکومت کا تعاون کبھی نہیں ملا، اپنی مدد آپ کے تحت گزارہ کر رہے ہیں، علی حمزہ

ڈاکٹر شہزاد بیگ کے دعوے کے برعکس علی حمزہ اور ان جیسے کئی نوجوان کسی بھی طرح کے حکومتی تعاون سے محروم ہیں اور مشکل حالات میں زندگی کی گاڑی رواں رکھنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔

 علی حمزہ اگر چہ خود تو پولیو کا شکار ہیں مگر اپنے عزم اور حوصلے کے دم پر کسی پر بوجھ بننے کے بجائے لوگوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، وہ خود تو چل نہیں سکتے مگر لوگوں کو منزل پر پہنچاتے ہیں۔

وی نیوز سے گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ میں نے معذوری کو کمزوری نہیں بننے دیا۔ ابتدائی طور پر میں نے سلائی کا کام سیکھا، اب میں بائیک رائیڈر ہوں۔ مجھے پتا ہے میری زندگی اب ایسے ہی گزرے گی، اس کا کوئی علاج نہیں، اس لیے گھر بیٹھنے یا بھیک مانگنے کے بجائے میں خود کماتا ہوں اور اپنے گھر کی کفالت کر رہا ہوں۔

’معذوری کوئی اچھی چیز تو نہیں، آدمی ہر وقت کسی کا محتاج رہتا ہے مگر میں نے فیصلہ کیا کہ رزق کے معاملے میں کسی کا محتاج نہیں رہنا اور یہ میری ماں کی نصیحت بھی تھی کہ بیٹا بھوک برداشت کرنا مگر بھیک نہ مانگنا‘۔

اس سوال پر کہ کیا کبھی کسی حکومتی ادارے کی طرف سے ان سے رابطہ کیا گیا؟ علی حمزہ  نے بتایا کہ میری والدہ نے مجھے بتایا کہ میری معذوری کے ابتدائی دنوں میں حکومتی اہلکار مسلسل گھر آتے تھے مگر کچھ سال بعد یہ سلسلہ بند ہو گیا۔ نا تو کسی نے رابطہ کیا اور نا ہی میں نے کوشش کی کہ اس حوالے سے کسی حکومتی اسکیم سے فائدہ اٹھا سکوں۔

علی حمزہ نے بائیک رائیڈر بننے کا مشکل فیصلہ کیسے کیا؟

علی حمزہ نے بتایا کہ میرے والدین فوت ہو چکے ہیں۔ دونوں میرے مستقبل کے حوالے سے بہت فکر مند رہتے تھے بالخصوص میری والدہ کی آنکھوں میں اکثر آنسو آ جاتے تھے۔ میرے لیے وہی سب سے بڑا حوصلہ ہیں۔ میں اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ مجھے ساتھ دینے والی بیوی ملی ہے۔ مجھے کبھی یہ محسوس نہیں ہونے دیا گیا کہ میں معذور ہوں یا اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر سکتا۔

یہ بھی پڑھیں پاکستان کو پولیو سے پاک کرنے کے لیے انسداد پولیو کی جنگ جیتیں گے، انوار الحق کاکڑ

انہوں نے کہاکہ بس یہی چیز مجھے حوصلہ دیتی ہے۔ مجھے  ہر روز صبح اٹھ کر اپنے آپ کو نئے سرے سے حوصلہ دینا ہوتا ہے۔ سارا دن محنت کے بعد ایک  ہزار روپے کے قریب کما لیتا ہوں جس سے بمشکل گزارہ ہوتا ہے۔ میری خواہش ہے میرا بیٹا پڑھ لکھ کر میرا سہارا بنے۔ میں خود مشکلات کی وجہ سے نہیں پڑھ سکا، ’ہمارے معاشرے میں چلنے پھرنے سے معذور شخص کے لیے پڑھائی آسان کام نہیں جبکہ اس حوالے سے حکومتی سطح پر بھی کوئی جامع پالیسی نہیں ہے۔ اس لیے میری ساری امیدیں اب میرے بیٹے سے وابستہ ہیں‘۔

 حکومت کو خیال نہیں مگرمعاشرے کو ہماری مجبوریوں کا احساس کرنا چاہیے

علی حمزہ نے ٹانگوں سے معذوری کی وجہ سے اسپیشل بائیک تیار کروایا ہے جس کے زیادہ تر’فنکشن‘ ہاتھوں سے ’آپریٹ‘ ہوتے ہیں۔ وی نیوز کے سوال پر کہ معذور ہونے کی وجہ سے لوگ ان کے ساتھ سفر سے ہچکچاتے تو نہیں؟ علی حمزہ نے بتایا کہ  میرے لیے وہ صورتحال انتہائی  تکلیف دہ ہوتی ہے جب کوئی میری مخصوص بائیک دیکھ کر ’رائیڈ‘ منسوخ کر دیتا ہے۔ ’مشکل تو ہوتی ہے مگر میرے لیے کوئی اور راستہ بھی نہیں۔ بیوی اور بچوں کا خیال آتا ہے تو اپنا دکھ بھول جاتا ہوں‘۔

یہ بھی پڑھیں پاکستان نے پولیو وائرس کو 7 اضلاع تک محدود کر دیا ہے، نگراں وزیر صحت

علی حمزہ کے مطابق ایسا نہیں کہ سب لوگ ایک جیسا ہی رویہ رکھتے ہیں، کئی لوگ حوصلہ بھی دیتے ہیں اور طے شدہ رقم سے زیادہ ادا کرتے ہیں۔ مگر میں یہ کہوں گا کہ مجموعی طور پر رد عمل حوصہ افزا نہیں ہے۔ معاشرے کو ہماری مجبوریوں کا احساس کرنا چاہیے۔

علی حمزہ نے مطالبہ کیاکہ حکومت اور متعلقہ ادارے کسی بھی وجہ سے پولیو کا شکار ہونے والے معذور افراد کی تعلیم اور نوکریوں کے لیے خصوصی انتظام کریں تاکہ میرے جیسے دیگر ہزاروں افراد بھی باعزت زندگی گزار سکیں۔

 کیا پولیو کا شکار کسی مریض کی صحت یابی ممکن ہے؟

علی حمزہ کے مطابق وہ 6 ماہ کے تھے جب اس مرض کا شکار ہوئے۔ ’میرے والدین نے میرا علاج کرانے کی کوشش کی مگر یہ بات حتمی ہے کہ پولیو کا شکار ہو جانے کے بعد مکمل بحالی ممکن نہیں‘۔

یہ بھی پڑھیں ٹانک میں نامعلوم افراد کے ہاتھوں خاتون سمیت 4 پولیو ورکرز اغوا

پولیو کا شکار کسی بچے کی جسمانی بحالی کے کتنے امکانات ہیں؟ اس حوالے سے پولیو تدارک کے قومی پروگرام کے سربراہ ڈاکٹر شہزاد بیگ نے وی نیوز کو بتایا کہ بدقسمتی سے پولیو لاعلاج ہے۔ پولیو وائرس سے متاثر ہونے والے 200 میں سے صرف ایک بچے کی بحالی کے امکانات ہو سکتے ہیں۔ پولیو کا شکار بچے ناقابل بحالی مرض کا شکار ہو جاتے ہیں جو زندگی بھر رہتا ہے۔ صرف پولیو ویکسین ہی اس وائرس سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔ جو اس کے باوجود وائرس کا شکار ہو جائے اس کے لیے اس بیماری کے ساتھ زندہ رہنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔

حکومت کے پاس پولیو سے متاثرہ افراد کے کوئی مصدقہ اعدادو شمار دستیاب نہیں

پاکستان میں کسی بھی وجہ سے پولیو سے معذور ہونے والے حمزہ جیسے افراد کی کل تعداد کیا ہے؟ اس حوالے سے حکومت یا قومی پولیو پروگرام کے پاس کوئی اعدادو شمار دستیاب نہیں۔

ڈاکٹر شہزاد بیگ کے مطابق 1994 میں پولیو کے خاتمے کے قومی پروگرام کے آغاز سے پہلے ایک اندازے کے مطابق پولیو سالانہ 20 ہزار بچوں کو مفلوج کر رہا تھا مگر اس سال نومبر تک پاکستان سے صرف 5 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ ’پولیو سے متاثرہ افراد اب عمر کے مختلف حصوں کو پہنچ چکے ہیں ان کی کل تعداد کا کوئی اندازہ نہیں ہے اور نا ہی حکومت کی جانب سے ایسا کوئی میکنزم ہے کہ یہ پتا لگایا جائے کہ پولیو کا شکار افراد کیسے زندگی گزار رہے ہیں‘۔

 کیا پولیو کے قطرے پینے کے باوجود بچے کو پولیو ہو سکتا ہے؟

علی حمزہ کو والدین نے ان کو مسلسل انسداد پولیو کے قطرے پلائے اور وہ کسی بھی انسداد پولیو مہم میں قطرے پینے سے محروم نہیں ہوئے اس کے باوجود وہ اس وائرس کا شکار کیسے ہوگئے؟

یہ بھی پڑھیں پاکستان کے 3 اضلاع میں افغانستانی وائرس سے جنیاتی تعلق رکھنے والے پولیو وائرس کی تصدیق

ڈاکٹر شہزاد کے مطابق  اگرچہ پولیو ویکسین انسانی آنتوں میں پولیو وائرس کے خلاف مو ثر ترین ہتھیار ہے مگر بعض ’ایکسٹرنل‘ عوامل ہیں جو اس کی افادیت کو متاثر کر سکتے ہیں۔ غذائیت (نیوٹریشن) کی کمی، زندگی گزارنے کے لیے غیر صحت مند ماحول، پینے کے صاف پانی تک رسائی کا فقدان، پیٹ میں بار بار انفیکشن، یہ سب پولیو ’ویکسین‘ کی افادیت کو متاثر کرتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ ایسے حالات میں قطرے پلانے کے باوجود بچہ ممکنہ طور پر پولیو کا شکار ہو سکتا ہے۔ مضبوط قوت مدافعت کو یقینی بنانے کے لیے بچوں کے لیے ویکسین کی ایک سے زیادہ خوراکیں حاصل کرنا بہت ضروری ہے، جو مشکل حالات میں بھی پولیو وائرس کے خلاف ان کے دفاع کو مضبوط کرتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران کے خلاف جنگ اختتامی مرحلے کے قریب پہنچ چکی، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

معروف آسٹریلوی آل راؤنڈر ایشٹن ٹرنر ملتان سلطانز کے کپتان مقرر

آذربائیجان کے صدر کا مجتبیٰ خامنہ ای کو خط، ایران کا سپریم لیڈر بننے پر مبارکباد

ترکیہ کے لیے خطرہ بننے والے اشتعال انگیز اقدامات نہ کیے جائیں، ترک صدر نے ایران کو خبردار کردیا

ایران کے تیل پر قبضہ کرنے کی بات ابھی جلد بازی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ

ویڈیو

اسلام میں ذہنی سکون حاصل کرنے کے طریقے

تیل کی قیمتوں میں اضافہ، حالات کنٹرول سے باہر ہونے کا خدشہ، امریکا و اسرائیل کو بھاری نقصان، ٹرمپ کی چیخیں

نقاب میں شناخت، چارسدہ کی نوجوان کنٹینٹ کریئیٹر کی کہانی

کالم / تجزیہ

انڈین کرکٹ ٹیم مسلسل ناقابل شکست کیسے بنی؟

کیا یہ امریکا کی آخری جنگ ہے؟

موکھی متارا: کراچی کی ایک تاریخی داستان