سائفر کیس کی ان کیمرہ کارروائی کالعدم قرار، اسلام آباد ہائیکورٹ نے محفوظ فیصلہ جاری کر دیا

جمعرات 11 جنوری 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس کے ٹرائل کی 14 دسمبر کے بعد کی کارروائی کالعدم قراردے کر تحریری حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔ تحریری حکم نامہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے جاری کیا۔

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)  کی جانب سے ٹرائل کورٹ کے 14 دسمبر کے حکم نامے کو چیلنج کیا گیا تھا، اٹارنی جنرل نے تسلیم کرلیا ہے کہ ٹرائل کورٹ کا 14 دسمبر کا حکم نامہ قانون سے متصادم تھا۔

حکم کے مطابق اٹارنی جنرل نے کہا کہ ٹرائل کورٹ کے حکم نامے کو کالعدم قرار دینے پر کوئی اعتراض نہیں، اٹارنی جنرل کے مطابق استغاثہ کی ان کیمرہ کارروائی کے لیے درخواست دائر کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔

حکم نامے کے مطابق پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے مؤقف اپنایا کہ 21 دسمبر کے بعد اوپن کورٹ میں بیانات ریکارڈ کیے گئے ۔پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے استدعا کی کہ 21 دسمبر کے بعد کی کارروائی کو برقرار رکھا جائے۔

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ٹرائل کورٹ نے کسی بھی مرحلے پر اپنے 14 دسمبر کے حکم نامے کو واپس نہیں لیا، نہ نظر ثانی کی۔ ٹرائل کورٹ نے عدالت کو ان کیمرہ قرار دے کر دوبارہ اوپن ٹرائل کا حکم بھی جاری نہیں کیا۔

حکم نامے کے مطابق پراسیکیوٹر رضوان عباسی کی 21 دسمبر کے بعد کی کارروائی برقرار رکھنے کی استدعا منظور نہیں کی جاسکتی۔ بانی پی ٹی آئی کی ٹرائل کورٹ کے 14 دسمبر کے حکم نامے کے خلاف درخواست منظور کی جاتی ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ سائفر کیس میں ٹرائل کورٹ کا 14 دسمبر کا حکم نامہ کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔ سائفر کیس کے ٹرائل کی 14 دسمبر کے بعد کی کارروائی کا کوئی قانونی جواز نہیں۔

قبل ازیں جمعرات کو اٹارنی جنرل کی جانب سے ان کیمرا کارروائی از سر نو کرنے کی یقین دہانی کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس میں ان کیمرا ٹرائل کے خلاف حکمِ امتناع واپس لیتے ہوئے گواہوں کے بیانات دوبارہ ریکارڈ کروانے کا حکم دیا۔

بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی سائفر کیس کے اِن کیمرا ٹرائل کے خلاف اپیل پر سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کی، جہاں اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے عدالت کو سائفر کیس کی ان کیمرا کارروائی کو از سر نو دہرانے کی یقین دہانی کرائی۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ استغاثہ 13 گواہوں کے بیانات دوبارہ ریکارڈ کروانے کے لیے تیار ہے، اس اہم پیش رفت کے بعد عدالت نے سائفر کیس میں ٹرائل روکنے کا حکم واپس لیتے ہوئے گواہوں کے بیانات دوبارہ ریکارڈ کروانے کا حکم دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

نیشنل ایکشن پلان پر اتفاق رائے موجود، دہشتگردی کے معاملے پر سیاسی الزام تراشی بند ہونی چاہیے، طلال چوہدری

واٹس ایپ بدلنے جارہا ہے، صارفین کے لیے پریمیم فیچرز کا اعلان

واٹس ایپ بیٹا صارفین کے لیے نیا فیچر، چینل اپڈیٹس کی کارکردگی جانچنا آسان

نواز شریف کا داتا دربار کا دورہ، مزار پر پھول چڑھائے، ملکی سلامتی کے لیے دعائیں

ٹیکسٹائل کونسل کا پائیدار برآمدی ترقی اور زرمبادلہ بڑھانے کا عزم، حکومتی پالیسیوں کو سراہا

ویڈیو

ریاض: پاکستان انٹرنیشنل اسکول میں سالانہ اسپورٹس گالا، نظم و ضبط اور ٹیم اسپرٹ کا بہترین مظاہرہ

لاہور میں ماں بیٹی کے مین ہول میں گرنے کا واقعہ، عوام کیا کہتے ہیں؟

وزیراعظم پاکستان سے آذربائیجان کے صدر کے خصوصی نمائندے کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

کالم / تجزیہ

دہشتگردی کے خلاف جنگ جیتنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں

وفاق اور گل پلازہ

’لڑکی لیزنگ پر لے لو‘