معلوم تھا مہنگائی بڑھے گی لیکن عمران خان کو ہٹانا ضروری تھا، آصف زرداری

منگل 7 مارچ 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سابق صدر مملکت اور شریک چیئرپرسن پاکستان پیپلز پارٹی آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ انھیں معلوم تھا کہ مہنگائی پی ڈی ایم حکومت کے گلے پڑے گی لیکن عمران خان سے ملک سنبھل نہیں رہا تھا اس لیے انھیں عدم اعتماد کے ذریعہ ہٹایا گیا۔

میلسی میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے آصف زرداری نے کہا کہ عمران خان کے دور میں مہنگائی میں اضافہ ہوا اور جب ہم حکومت چھوڑ کرگئے تھے اس وقت کوئی مہنگائی نہیں تھی۔

سابق صدرمملکت کا کہنا تھا کہ آج پاکستان کے جو مسائل ہیں وہ صرف وہی سمجھ سکتے ہیں جب کہ ان کے مخالفین کے پاس تو پاکستان کو سنبھالنے کا کوئی ایجنڈا ہی نہیں۔

قبل ازیں وہاڑی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق صدر مملکت کا کہنا تھا کہ ایک ایسے بیوقوف کو وزیراعظم بنایا گیا جس نے ملکی معیشت کو تباہی کے دہانے پرلاکھڑا کیا کیوں کہ اسے کوئی سمجھ ہی نہیں تھی اس لیے ملک کاخانہ خراب ہوگیا لیکن عمران خان کی تو اب بھی خواہش ہے کہ انھیں جہاں سے نکالا گیا تھا وہیں واپس لے آیا جائے۔

آصف زرداری نے کہا کہ عمران خان آج بھی سیاست میں ون ڈے کرکٹ کھیل رہے ہیں تاہم میں تو ہمیشہ 10 سال آگے کا سوچتا ہوں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے گوادر بندرگاہ کو اس لیے چین کے حوالے کیا تھا کہ پاکستان ترقی کرے۔

سابق صدر مملکت نے کہا کہ ملک کے دیوالیہ ہونے کی باتیں ہورہی ہیں مگر ایسا کچھ نہیں ہے ہاں اونچ نیچ آتی رہتی ہے امریکا بھی دیوالیہ ہوگیا تھا اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

آصف زرداری نے کہا کہ پاکستان میں موجودہ مشکل عارضی ہے اور وہ وقت بھی آئے گا جب ملکی بہتری کے فیصلے صرف ہم کریں گے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ملک میں ہر قسم کی سہولت موجود ہے ہمیں صرف ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جس کے ذریعہ ان سے استفادہ کیا جاسکے۔

واضح رہے کہ سابق صدر مملکت آصف زرداری آج کل سیاسی میدان میں پھر متحرک ہوگئے ہیں۔ وہ گزشتہ روز وہاڑی پہنچے تھے۔ شہر میں اپنی آمد کے پہلے روز ایک تقریب میں انھوں نے عمران خان کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے یہ واضح کیا تھا کہ وہ الیکشن وقت پر ہی ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عمران خان سیاسی آدمی نہیں جن سے کوئی بات چیت کی جاسکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp