چیف جسٹس کیخلاف سوشل میڈیا پر مہم چلانے والے 47 صحافیوں اور یوٹیوبرز کی ایف آئی اے طلبی

ہفتہ 27 جنوری 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چیف جسٹس  قاضی فائز عیسیٰ اور اعلیٰ عدلیہ کے خلاف سوشل میڈیا پر پراپیگنڈا اور ہتک آمیز مہم چلانے پر ایف آئی اے کی جانب سے سیرل الیمیڈا سمیت 47 سینئر صحافیوں اور یوٹیوبرز کو طلب کر لیا گیا ہے۔ ایف آئی اے کی جانب تمام افراد کو 31 جنوری کو طلب کیا گیا ہے۔

ایف آئی اے نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف سوشل میڈیا مہم کے الزام میں سینئیر صحافیوں اور ایکٹوسٹ مطیع اللہ جان، سیرل المیڈا، صابر شاکر، شاہین صہبائی، عدیل راجہ، صدیق جان، ثمر عباس، اسد طور، صدیق جان، اقرار الحسن، ملیحہ ہاشمی، جبران ناصر سمیت دیگر کو نوٹسز جاری کرکے طلب کیا۔

اس سے قبل نگران وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے کہا تھا کہ پی ٹی اے اور مجاز ادارے اپنی کارروائی جاری رکھے ہوئے ہیں، سینکڑوں اکاؤنٹس کو مانیٹر کیا گیا، ان کیخلاف کارروائی ہوگی۔

مزید پڑھیں

13 جنوری کو بڑی عدالت نے ایک اہم فیصلہ دیا تھا، ملک کے اندر اور باہر عدلیہ ججز کیخلاف گھٹیا مہم چلائی گئی، ہمارے اندر عدم برداشت اور جھوٹ کا کلچر جاری ہے، ملک کے اندر اور باہر لوگوں کو انتباہ کرنا ہے کہ ایسی سرگرمیوں سے باز آجائیں۔ عدلیہ مخالف مہم کے خلاف جے آئی ٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔

اسلام آباد میں ایف آئی اے اور پی ٹی اے حکام کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ آئی بی، آئی ایس آئی، ایف آئی اے اور پی ٹی اے پر مشتمل جے آئی ٹی بنائی گئی ہے۔ ایف آئی اے، پی ٹی اے اور متعلقہ ادارے کڑی مانیٹرنگ کر رہے ہیں، آرٹیکل 19 میں آزادی اظہار رائے کے بارے میں تفصیل سے لکھا ہوا ہے۔

واضح رہے کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور دیگر ججز کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلائی گئی تھی جس کی تحقیقات کے لیے حکومت نے کمیٹی بنائی تھی اور  کمیٹی کی نشاندہی پر ایف آئی اے نے نوٹس جاری کردیے ہیں۔

سوشل میڈیا پر ججز کو بدنام کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے تحت پی ٹی اے کو نفرت انگیز مواد پھیلانے والوں کی معلومات اکھٹی کرنے کا حکم جاری کردیا گیا۔ عدلیہ مخالف نفرت انگیز مواد کی روک تھام کے لیے قائم کی گئی جے آئی ٹی کا اجلاس ایف آئی اے ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں ہوا۔

جے آئی ٹی کی سربراہی ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے نے کی جس میں سوشل میڈیا پر عدلیہ کو بدنام کرنے والوں کے خلاف سخت ایکشن لینے کا فیصلہ کیا گیا۔ حساس اداروں کے افسران نے پلان آف ایکشن سربراہ جے آئی ٹی کو پیش کردیا۔

جے آئی ٹی نے پی ٹی اے کو نفرت انگیز مواد پھیلانے والوں کی معلومات جمع کرنے کی ہدایت کردی جس میں کہا گیا ہے کہ مواد اپ لوڈ، شیئر اور کمنٹ کرنے والوں کی تمام تفصیلات حاصل کی جائیں۔

یاد رہے اس 6 رکنی جے آئی ٹی کے سربراہ ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ ہیں اور اس میں آئی ایس آئی، آئی بی اور پی ٹی اے کے نمائندے بھی شامل ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایک شہر جو دل میں اتر گیا

سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ، فی تولہ قیمت کتنی ہو گئی؟

پنجاب حکومت کی نئی ٹرانسپورٹ پالیسی: چیف سیکریٹری اور آئی جی پولیس کے لیے 3 سرکاری گاڑیوں کی اجازت

برازیل کی معروف فٹبالر نے اسلام قبول کرلیا، عمرے کی ویڈیو بھی شیئر کردی

آئی ایم ایف وفدمعاشی جائزے کے لیے 25 فروری کو پاکستان آئے گا، اصلاحات کی تعریف

ویڈیو

ٹوڈے بائٹس رمضان فیسٹیول، ریاض میں افطار کے لیے فیملیز کی پسندیدہ منزل

پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے واقعی سنجیدہ ہے؟

وزیرستان کی کم عمر کرکٹر آئینہ جو محنت کی پچ پر کامیابی کی اننگز کھیلنا چاہتی ہیں

کالم / تجزیہ

ٹی20 ورلڈ کپ: نیوزی لینڈ کے خلاف کامیابی کس طرح سیمی فائنل کی راہ ہموار کرسکتی ہے؟

مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا

عماد وسیم کی دوسری شادی پر ہنگامہ کیوں؟