استعفیٰ دینے سے سپریم جوڈیشل کونسل میں جج کے خلاف کارروائی نہیں رکے گی، سپریم کورٹ

بدھ 21 فروری 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ریٹائرڈ یا مستعفی ججز کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی جاری رکھنے سے متعلق وفاقی حکومت کی اپیل پر سماعت مکمل کرتے ہوئے کیس کا فیصلہ سنا دیا ہے۔

سپریم کورٹ کے جج جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

سپریم کورٹ کے مطابق ایک بار جج کے خلاف کارروائی شروع ہو جائے تو استعفے سے ختم نہیں ہوگی، سپریم جوڈیشل کونسل کو اختیار ہوگا کہ وہ مستعفی جج کے خلاف کارروائی کر سکے۔

مختصر فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ سپریم جوڈیشل کونسل کی صوابدید ہے کہ وہ ریٹائرڈ ججز کے خلاف زیرالتوا شکایات پر کارروائی کرے یا نہ کرے۔

محفوظ شدہ فیصلہ 1-4 کے تناسب سے سنایا گیا، جسٹس حسن اظہر رضوی نے اکثریتی فیصلہ سے مخالفت کی۔ جبکہ اس موقع پر بینچ کے سربراہ نے کہاکہ تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جائیں گی۔

واضح رہے کہ اس سے قبل سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

کارروائی کے دوران کوئی جج استعفیٰ دے تو کیا ہوگا، جسٹس مسرت ہلالی

سماعت کے دوران بینچ کی رکن جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ اگر کوئی جج اس وقت اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دے، جب اس کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں کارروائی کا آغاز ہوچکا ہو تو پھر ایسی صورت میں کیا ہوگا؟

عدالتی معاون اکرم شیخ نے موقف اختیار کیاکہ سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کا انحصار جج کے استعفے سے نہیں ہونا چاہیے۔

جسٹس مسرت ہلالی نے بھارت کی مثال دیتے ہوئے کہاکہ کلکتہ ہائیکورٹ کی خاتون جج انکوائری کی دوران ریٹائر ہوئیں مگر کارروائی پر اثر نہیں پڑا تھا۔

اس موقع پر بینچ کے رکن جسٹس عرفان سعادت نے کہاکہ اگر ایک جج کے خلاف ریفرنس آتا ہے، اور سپریم جوڈیشل کونسل نے نوٹس نہ دیا ہو تو کیا وہ ختم ہو جائے گا؟

ججوں کے خلاف شکایات کو نمٹانا صرف چیئرمین کا نہیں بلکہ کونسل کا کام ہے، جسٹس جمال مندوخیل

بینچ کے سربراہ جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہاکہ ججوں کے خلاف شکایات کو نمٹانا صرف چیئرمین کا نہیں بلکہ کونسل کا کام ہے، پچھلے دنوں بھی چیف جسٹس کہہ چکے ہیں کہ 100 سے زیادہ شکایات زیر التوا ہیں۔

کیس کی سماعت کے دوران عدالتی معاونین اکرم شیخ اور خواجہ حارث نے دلائل دیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

عثمان طارق کا ایکشن آئی سی سی قوانین کے مطابق ہے، بھارتی امپائر کا اعتراف، انڈین ٹیم میں خوف کا عالم

حکومت عالمی قوتوں کی پراکسی بننے کی کوشش نہ کرے، حافظ نعیم اور مولانا فضل الرحمان کی مشترکہ پریس کانفرنس

سوئنگ سلطان وسیم اکرم سیالکوٹ اسٹالینز کے صدر مقرر

بنگلہ دیش کے اپوزیشن اتحاد کا اجلاس: صحت مند سیاست کے فروغ کی ضرورت پر زور

مخصوص ڈاکٹر کے معاملے پر پی ٹی آئی سپریم کورٹ جائے، حکومت مداخلت نہیں کرے گی، رانا ثنا اللہ

ویڈیو

عمران خان کی بینائی 85 فیصد ضائع، اس کا ذمے دار کون؟

پاکستان-انڈیا ٹی20: خواتین شائقین کی قومی ٹیم سےامیدیں

عمران خان سے سیاسی اختلافات ذاتی دشمنی نہیں، آنکھ کی تکلیف پر سیاست کرنا مجرمانہ کوشش ہے، طارق فضل چوہدری

کالم / تجزیہ

بنگلہ دیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟

محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

تہذیب اور نظریہ: ایک بنیادی مغالطہ