پاک افغان بارڈر پر 5 ماہ بعد تجارتی سرگرمیاں بحال

اتوار 3 مارچ 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

16 نومبر 2023 کو پاک افغان بارڈر پر آمدورفت کے لیے حکومت پاکستان نے ون ڈاکومنٹ رجیم کے نفاذ کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد مقامی افراد نے اس پالیسی کے خلاف دھرنا دیا تھا، دھرنے کی وجہ سے قریباً چار 4 چمن بارڈر بند رہا اور بہت سے مقامی مزدور بے روزگار ہو گئے اور علاقے میں غربت بڑھنے لگی تھی۔ پاک افغان بارڈر چمن جو پچھلے 5 مہینے سے بند تھا اب حکومت اور پاک فوج کی مدد سے کھول دیا گیا ہے۔

حکومت اور پاک فوج کی کاوشوں سے برف پگھلنے لگی اور 17 فروری کو خالی گاڑیوں جبکہ 27 فروری کو مال بردار گاڑیوں نے بارڈر پار کرنا شروع کیا اور چمن بارڈر پر تجارت بحال ہوگئی ہے۔ چمن بارڈر پر تجارت کی بحالی سے مقامی لوگوں کے لیے نہ صرف روزگار کے مواقع بحال ہوئے بلکہ بارڈر کے دونوں اطراف غربت کی سطح بھی کم ہو جائے گی۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ 5 مہینوں سے جو مشکلات تھیں وہ اب کم ہو جائیں گی۔ حکومت کی کوششوں سے قریبا 4 ہزار سے زائد خالی گاڑیاں چھوڑی دی گئی۔ ہم حکومت اور افواج پاکستان کے نہایت مشکور ہیں۔ پچھلے 5 ماہ سے بارڈر بند تھا۔ بارڈر کی بندش سے پاکستان اور بلوچستان کا بہت نقصان ہوا، حکام بالا کا فیصلہ خوش آئند ہے اور پورے شہر میں دوبارہ کاروباری سرگرمیاں شروع ہو گئی ہیں۔

چیمبر آف کامرس چمن کے صدر کا کہنا تھا کہ بارڈر بند ہونے سے تاجر برادری اور حکومت کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔ امپورٹ ایکسپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے ہماری آمدن کو بہت نقصان ہوا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بیمار ہونے کے باوجود چھٹی لینے میں ہچکچاہٹ کیوں ہوتی ہے؟ ماہرین نے اہم وجہ بتادی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل، ڈیزل 3.47 روپے فی لیٹر مہنگا، پیٹرول 43 پیسے سستا

پاکستان سے یورپ غیر قانونی نقل مکانی میں 64 فیصد کمی لاچکے، وزیر داخلہ محسن نقوی

فلاڈیلفیا میں 5 خواتین کی ہلاکت کا خدشہ، گھر سے پریشان کن تصاویر اور ویڈیوز برآمد

مریم نواز کا سرکاری جہاز استعمال کرنا درست نہیں تھا، مگر دوسرے لوگوں سے بھی سوال ہونا چاہیے، عمار مسعود

ویڈیو

لڑائی کے بعد ہنی مون کیسا رہا اور رشتہ تڑوانے میں کس کا ہاتھ تھا؟ ڈاکٹر نبیحہ کے انکشافات

پوری پاکستانی قوم اپنی افواج کے ساتھ حرمین کی حفاظت کے لیے ہر وقت تیار ہے، ارکان پارلیمنٹ کی رائے

حکومت کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں، پیٹرولیم لیوی ختم کرنے کے لیے آئی ایم ایف سے بات کی جائےگی، شائستہ پرویز ملک

کالم / تجزیہ

غلطی، معافی، اور نفسیاتی قید

مکہ امت کی ریڈلائن ہے؟

نئے انتظامی یونٹ: پیپلز پارٹی کیوں غصے میں ہے؟