28ویں آئینی ترمیم پر مشاورت شروع، بیرسٹر عقیل ملک نے تفصیلات بتادیں

جمعرات 20 نومبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ 28ویں آئینی ترمیم پر ابتدائی سطح پر مشاورت شروع ہو چکی ہے تاہم اس پر خاطر خواہ کام درکار ہے جس کے بعد ہی کوئی پیشرفت ممکن ہوگی۔ ان کے مطابق فی الحال اس ترمیم کے لیے کوئی ٹائم لائن مقرر نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: 27ویں ترمیم طویل المدتی فوائد رکھتی ہے، وقت آگیا ہے کہ ملک 28ویں ترمیم کی جانب بھی پیش قدمی کرے، خواجہ آصف

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ چونکہ کسی ایک جماعت کے پاس 2 تہائی اکثریت نہیں ہے اس لیے 28ویں ترمیم سمیت کسی بھی آئینی تبدیلی کے لیے اتحادی جماعتوں کو ساتھ ملانا ناگزیر ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اتحادی جماعتیں لوکل گورنمنٹ، این ایف سی، صحت اور تعلیم سے متعلق معاملات پر گفتگو شروع ہوئی ہے اور اس پر اتحادی پارٹیوں نے دلچسپی کا مظاہرہ کیا ہے۔

18ویں ترمیم برقرار، مگر توازن ضروری ہے

وزیر مملکت نے واضح کیا کہ حکومت 18ویں ترمیم ختم کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی تاہم ایک بیلنسنگ ایکٹ ضروری ہے تاکہ صوبوں کی خودمختاری اور وفاق کی مضبوطی دونوں کو ساتھ لے کر چلا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ آئینی ترامیم اس وقت آگے بڑھتی ہیں جب اتحادی جماعتیں ’گرین سگنل‘ دیتی ہیں۔

مزید پڑھیے:  28 ویں آئینی ترمیم کب آئے گی؟ وزیراطلاعات نے بتا دیا

ان کا کہنا تھا کہ ایسی معاملات کے لیے ایک ایک ووٹ اہم ہے اور اتحاد کے بغیر کوئی آئینی ترمیم ممکن نہیں اور جب تک تمام اتحادی چاہے بڑے ہوں یا چھوٹے متفق نہیں ہوتے، 28ویں ترمیم پر کام آگے نہیں بڑھ سکتا۔

انہوں نے یاد دلایا کہ 26ویں اور 27ویں ترامیم بھی اتحادیوں کی حمایت کے بغیر ممکن نہیں تھیں۔

نئے صوبوں پر مؤقف غیر واضح

نئے صوبوں کے قیام سے متعلق سوال پر بیرسٹر عقیل نے کہا کہ وہ قطعی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتے کہ ان کی حکمراں جماعت ن لیگ اس پر کیا فیصلہ کرنا چاہتی ہے تاہم گورننس بہتر بنانے کے لیے حکومت ضروری اقدامات کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنا ناگزیر ہے اور حکومت چاہتی ہے کہ اس کے اتحادی بلدیاتی انتخابات ہر صورت یقینی بنیں۔

مزید پڑھیں: 28ویں آئینی ترمیم کب آئےگی اور اس میں کیا تجاویز ہوں گی؟

بیرسٹر عقیل نے کہا کہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے لیے حلقہ بندیوں کا مسودہ تیار ہے۔

عدلیہ کے اختیارات پر حکومت کا مؤقف

بیرسٹر عقیل کا کہنا تھا کہ ججز کا استعفیٰ دینا ان کا آئینی استحقاق ہے جبکہ سپریم جوڈیشل کمیشن میں ججوں کی رائے کو برتری حاصل ہوتی ہے اور ایگزیکٹو کا کوئی عمل دخل نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی آئینی عدالت نے اپنے قواعد مکمل طور پر اپنا لیے ہیں۔

انہوں نے بعض ججوں کی جانب سے آرٹیکل 184 کے تحت سپریم کورٹ جانے کی کوشش کو غلط اقدام قرار دیا اور کہا کہ ایسی درخواست نہیں دی جانی چاہیے تھی۔

یہ بھی پڑھیے: استعفے دینے والے ججوں کے ذاتی مقاصد ہیں، 28ویں آئینی ترمیم بھی جلد پاس ہوگی، رانا ثنااللہ

وزیر مملکت نے کہا کہ حکومت نے جوڈیشل کمیشن کو ججز کی پوسٹنگ اور ٹرانسفر کے مکمل اختیارات دے دیے ہیں اور اس عمل میں ایگزیکٹو کی برتری نہیں ہوگی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شیشے کے گھر میں بیٹھ کر پتھر نہ برسائیں، مسلم لیگ (ق) کا مریم نواز کے بیان پر ردعمل

مفتی محمود مرکز کی تعمیر اور زمین سے متعلق دستاویزات سامنے آگئیں، ثمر ہارون بلور

ڈیڑھ صدی پہلے انسانوں کا جسم آج کے مقابلے میں زیادہ گرم تھا، سائنسدانوں نے حیران کن تبدیلی کی وجہ جان لی؟

پشاور میں تجاوزات کے خلاف آپریشن ڈبل شفٹ میں کرنے کا فیصلہ، رنگ روڈ رواں ہفتے کلیئر کرنے کی ہدایت

17 سال بعد بھی بچوں کا ٹرسٹ خالی کیوں؟ پیرس جیکسن عدالت پہنچ گئیں

ویڈیو

عمران خان سے وکیل کی ملاقات، خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی پر کیا ردعمل ظاہر کیا؟

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، پشاور میں فی کلو قیمت 650 روپے تک پہنچ گئی

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا